زمبابوے ٹیسٹ سیریز،اظہر علی کے پاس انوکھا اعزاز،زمبابوے کو ایک میدان میں دلچسپ برتری

عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ ٹیم کی زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ تاریخ کے حوالہ سے متعدد اہم باتیں اب تک شائع کئے گئے 3اہم ترین آرٹیکلز میں پیش کردی گئی ہیں،یہاں دونوں ممالک کی جانب سے مجموعی و اجمالی پرفارمنس کا ذکر ہوگا اور یہ بھی واضح ہوگا کہ کون ساپلیئر کہاں کھڑا ہے اور کس کے پاس کیا حاصل کرنے کا موقع موجود ہے.

سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ 8برس قبل زمبابوے کے دورے میں پاکستان کی جس ٹیم نے 2 ٹیسٹ میچزکھیلے تھے،اس میں شامل واحد کھلاڑی اظہر علی ایسے ہیں جو موجودہ سیریز بھی کھیلیں گے،مصباح اور یونس اب کوچنگ اسٹاف میں شامل ہیں ،اس طرح اظہرعلی ہی وہ واحد پلیئر ہونگے جنہیں 2013کی اس سیریزمیں نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے جو پاکستان جیت نہیں سکا تھا اور سیریز 1-1سے ڈرا رہی تھی.

پاکستان زمبابوے سے ٹیسٹ سیریز ہارگیا،اصل وجہ جانئے،کرداروں سے ایک مطالبہ

اب ذکر کرتے ہیں تھوڑا اعدادوشمار کا ،آپ اندازا کریں کہ زمبابوے نے پاکستان جو جواب ہمیشہ ہی اچھا دیا ہے،اگر پاکستان کا مجموعی ہائی اسکور زیادہ سے زیادہ553رنزہے تو ہماری ٹیم مکمل آئوٹ ہوئی تھی اور یہ بات 25سال پرانی ہے جب شیخوپورہ اسٹیڈیم میں اکتوبر 1996میں پاکستان نے553 اسکور کئے تھے لیکن اس کے مقابل زمبابوے کو دیکھ لیں کہ جنوری 1995میں ہرارے ٹیسٹ میں اس نے 4وکٹ پر 544رنزبناکر اننگ ڈکلیئر کی تھی اور پاکستان سے پہلے بڑے مجموعہ کا اعزاز اپنے نام کیا تھا.ایک اور بات بھی پاکستان کے خلاف جاتی ہے کہ ٹی 20کی طرح ٹیسٹ میں بھی کم اسکور پر زیر ہونے کا منفی ریکارڈ پاکستان کے گلے میں ہے.نومبر 1998میں پشاور ٹیسٹ میں قومی ٹیم 103پر ڈھیر ہوگئی تھی جبکہ زمبابوے کا کم اسکور120ہے جو ستمبر 2013میں ہرارے میں بنایا گیا تھا.

پاکستان کا دورہ زمبابوے،آخری ٹیسٹ سیریز میں رسوائی،مصباح اور یونس کو پھر خوف

اسی طرح بیٹنگ کے میدان میں زمبابوے کو پاکستان پر سبقت حاصل ہے،فلاور برادرز نے انضمام سے لے کر کسی بھی بیٹسمین تک سب کی ایسی تیسی پھیری ہوئی ہے.1993سے 2002 کے درمیان گرانٹ فلاور کے بنائے گئے14میچز کی 26 اننگز میں 961اسکور مجموعی رنز بٹورنے والوں میں سب سے زیادہ ہیں.201 ناقابل شکست اننگ ہائی اسکور میں ہے.3سنچریز بھی سب سے زیادہ ہیں.اینڈی فلاور نے اسی عرصہ میں 14میچزکی 25اننگز میں 931اسکور کے ساتھ دوسری پوزیشن لے رکھی ہے.انضمام الحق نے اسی زمانہ میں 11میچزکی 19اننگز میں 2سنچریز اور 4ہاف سنچریزکی مدد سے 772اسکور کرکے تیسرا نمبر لے رکھا ہے.اظہر علی کے 3میچزمیں 182اسکور ہیں.

ٹیسٹ سیریز،زمبابوے کا پاکستان کے خلاف وہ ریکارڈ جو کسی بڑے ملک کے خلاف نہیں،بابر اعظم پریشان ؟

دونوں ممالک کے ٹیسٹ میچزمیں 3 ڈبل سنچریز بنیں،وسیم اکرم 257 کے ساتھ پہلے،گرانٹ فلاور 201کے ساتھ دوسرے اور یونس خان 200کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں،البتہ ایک سیریزمیں سب سے زیادہ اسکور کا اعزاز انضمام الحق کو حاصل ہے جب انہوں نے 1995کی 3میچز کی سیریز میں 367 اسکور کئے تھے.

بائولنگ میں پاکستان کو سبقت حاصل ہے.وقار یونس 11میچزمیں 62اور وسیم اکرم 10میچزمیں 47وکٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں،زمبابوے کے ہیتھ سٹریک 10میچزمیں 44وکٹ کے ساتھ تیسری پوزیشن پر ہیں.نومبر 2002میں بلاوایو ٹیسٹ میں 66رنزکے عوض 7وکٹ کی بہترین انفرادی اننگز کی پرفارمنس کا ٹائٹل ثقلین مشتاق کو حاصل ہے ،وقار یونس نے اتنی وکٹوں کے لئے 91اور سعید اجمل نے 95رنز دیئے تھے.1993میں پاکستان میں کھیلی گئی سیریز میں وقار یونس نے 3میچزمیں 27وکٹیں لی تھیں،یہ کسی بھی سیریز کا بہترین ریکارڈ ہے،ایک میچ میں 13وکٹ لینے کا کارنامہ بھی وقار یونس نے اسی سیریزمیں سر انجام دیا تھا.

وسیم اکرم اور ثقلین مشتاق کی شیخوپورہ کے 1996 ٹیسٹ میں 8ویں وکٹ پر 313 رنزکی شراکت کئی اعتبار سے ریکارڈ کی حامل ہے اور باہمی مقابلوں میں رنزکے اعتبار سے اب بھی بڑی پارٹنر شپ ہے.

پاکستان کی قریب ساری ٹیم ہی نئی ہے اور یہی حال زمبابوے کا ہے،ٹیسٹ تاریخ کے اعدادوشمار شاید اب زیادہ اہمیت نہ رکھیں لیکن درجہ بندی کے اعتبار سے پاکستان کی پرفارمنس جاندار ہونی چاہئے اور کئی ریکارڈز بھی بننے چاہئیں،سابقہ ریکارڈز نئے بائولرز و بیٹسمین کے لئے بڑا چیلنج رکھتے ہیں.اظہر علی کے لئے خاص کر کیونکہ وہ پاکستان کے لئے 85 ٹیسٹ میچز کھیل چکے ہیں.