زمبابوے سیریز، شاہین آفریدی کا ورک لوڈ ،ٹیم سے باہر بیٹھنے سے انکار،حقائق حاضر

0 10

پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیفٹ ہینڈ فاسٹ بائولر شاہین آفریدی کہتے ہیں کہ میں انجوائے کر رہا ہوں،دیگر پیسر ز کو دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے.پاکستان کرکٹزمبابوے سیریز، شاہین آفریدی ,بورڈ کی آفیشل ویڈیو میں تازہ ترین بات کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے آرام لینے یا باہر بیٹھنے سے انکار کردیا ہے.ہرارے میں پیر کو قومی ٹیم کی کیمپ کے موقع پر لیفٹ ہینڈ پیسر نے کہا ہے کہ مجھے جب بھی کپتان بال پکڑا تا ہے تو میری کوشش ہوتی ہے کہ 100 فیصد نتائج دوں.
انٹر نیشنل کرکٹ میں کورونا کے بعد بڑی ٹیموں نے اپنے پلیئرز پر ورک لوڈ کم کرنے کے لئےسیریز کے دوران انہیں باہر بٹھانے کی پالیسی بنارکھی ہے کیونکہ کووڈ کی وجہ سے پلیئرز ویسی پریکٹس نہیں کرپاتے کہ جیسا کہ ضرورت ہوتی ہے تو ورک لوڈ میں کمی کے لئے روٹیشن پالیسی متعارف ہے لیکن ایک پاکستان ہے کہ ایسا کچھ دکھائی نہیں دیا،انگلینڈ ،نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کے دورے ہوں یا ہوم سیریز ،پی ایس ایل ہو یا کچھ اور پلیئرز مسلسل کھلائے جارہے ہیں،اس کے اثرات بھی دکھائی دیئے ہیں.جنوبی افریقا کے حالیہ ختم ہونے والے دورے میں شاہین آفریدی کی اسپیڈ و کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی جارہی تھی لیکن قومی کیمپ انہیں کھلاتا رہا ہے اور نتیجہ میں کیا حاصل ہوا.کرک سین ہلکی سی جھلک پیش کرنا چاہے گا.
جنوبی افریقا کے خلاف کھیلے گئے 3 ایک روزہ میچز میں شاہین آفریدی نے 32 کی بھاری اوسط اور ساڑھے 6کے اکانومی ریٹ سے صرف 6وکٹیں لیں،یہ کارکردگی اگر بری نہیں تھی تو زیادہ اچھی بھی نہ تھی،اس میں تھکاوٹ اور مار کا عنصر نمایاں ہورہا تھا.حارث رئوف کی 7وکٹوں کے علاوہ باقی تمام پیسرز فلاپ رہے .ٹی 20 میں تو حالت اور بھی پتلی ہوگئی کیونکہ شاہین آفریدی نے 4میچز میں 44کی اوسط اور 9کے بھاری بھرکم اکانومی ریٹ سے صرف 3 کھلاڑی آئوٹ کئے.یہ تھکاوٹ،پریشانی اور کم فٹ ہونے کی علامت ہے ،اسپیڈ بھی پھر کم ہوتی جارہی تھی.
اب یہ کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پیسرز کا دم خم کم ہورہا ہے،جان کم ہوتی جارہی ہے لیکن ماننا نہیں ہے.2 روز قبل وقار یونس نے بھی یہی کہا ہے کہ ہم بائولرز کا ورک ضرور دیکھ رہے ہیں،کسی پر ایسا کوئی بوجھ نہیں ہے.ہوم سیزن کے بعد پی ایس ایل چند میچز سے ملتوی ہوئی تھی،اس سے پلیئرزکو بڑا ہی آرام مل گیا تھا ،اس لئے تاحال بائولرز پر کوئی دبائو نہیں ہے،اگر ہوا تو ضرور دیکھیں گے،سوال یہ تھا کہ زمبابوے ایک کمزورٹیم ہے،وہاں کچھ سینئرز کو آرام دے کر جونیئرز کو موقع دیا جائے لیکن لگتا ہے کہ پاکستانی منیجمنٹ ایسا کچھ کرنے کو تیار نہیں اور پلیئرز بھی اپنی جگہ چھوڑنے کا سوچنا بھی نہیں چاہتے. زمبابوے سیریز، شاہین آفریدی
وقار یونس کی بات کیے درست مان لی جائے کیونکہ دیگر ممالک سیریز کے دوران اپنے پلیئرز پر آدھا لوڈ ڈالتے ہیں اور یہاں پلیئرز سیریز کی سیریز کھیلے جارہے ہیں اور ساتھ میں پی ایس ایل ایونٹ بھی،اس دوران ملنے والے وقفہ کو یہ بڑا آرام کہتے ہیں.اگر یہ آرام ہی بہت ہوتا ہے تو بڑی ٹیمیں اپنے بگ پلیئرز کو 2 ٹیسٹ میچزکے کے بعد سائیڈ لائن کیوں کرتے ہیں.
اب شاہین آفریدی کی بات بھی دیکھ لیں کہ ہم نے جنوبی افتریقا میں ایک ہی شعبہ میں ناکامی دیکھی تھی کیونکہ وکٹ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں ،ہم زبردستی کچھ نہیں کرسکتے،صرف 100 فیصد نتائج دے سکتے.یہ بھی ساتھ کہا ہے کہ ہم کوشش کریں گے کہ جو غلطیاں ہم نے جنوبی افریقا سیریز میں کی ہیں،وہ ہم نہ کریں.میں کرکٹ کو انجوائے کر رہا ہوں اور کوشش کر رہا ہوں کہ نتائج دوں.
شاہین کہتے ہیں کہ ورک لوڈ کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ فزیو اور ٹرینر میرے ورک لوڈ کو دیکھ رہے ہیں اور مجھ پر ایسا کوئی دبائو ہی نہیں ہے.میں نے پی ایس ایل کے بعد آرام بھی کیا تھا اور جب بھی مجھے آرام ملتا ہے تو میں اس کا فائدہ اٹھا تا ہوں.پاکستان کرکٹ ٹیم کا ینگ یونٹ ہے،سب ایک ساتھ کھیلتے آرہے ہیں،ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں،اس لئے ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ ٹیم ورک میں کوئی کمی ہو.سب فاسٹ بائولرز کو دیکھ کر انرجی آجاتی ہے ،اس لئے ایسی کوئی بات نہیں ہے.
آپ نے شاہین آفریدی کی اوپر پیش کی گئی کارکردگی بھی دیکھ لی اور ساتھ میں ان کی باتیں بھی پڑھ لیں،اب بتائیے کہ تھکاوٹ،ورک لوڈ اور پرفارمنس میں بے جانی کیا ہوتی ہے. کھلاڑیوں کی یہ سوچ ایسے ہی نہیں ہوئی ہے،اس لئے کہ ٹیم منیجمنٹ بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہے .وہ بھی یہی دعویٰ کر رہی ہے کہ پلیئرز مکمل فریش ہیں.مسئلہ ایک ہی ہے اور وہ ہے عدم اعتماد کا.کہیں کمزور ٹیم سے نہ ہار جائیں کیونکہ اچھے خاصے لوگ کھوکھلی کرسیوں پر بر اجماں ہیں،اس لئے ایسا لگتا ہے کہ زمبابوے کے خلاف ابتدائی 2میچز میں زیادہ بڑی تبدیلیاں نہیں ہونگی اور پاکستانی پیس اٹیک ایسے ہی جائے گا.جنوبی افریقا کے خلاف ٹی 20 سیریز میں حسن علی اور حارث رئوف نے اختتامی لمحات میں کچھ وکٹیں لے کر اپنی پوزیشن بہتر کی لیکن پاکستانی کیمپ کی 3ون ڈے اور 4 ٹی 20میچز مطلب 7میچزکی مجموعی پرفارمنس دیکھی جائے تو بائولر ز کامیاب نہیں ہوسکے تھے اور اس کی بنیادی وجہ یہی ورک لوڈ ہے ،شاہین اس کو مانتے ہی نہیں ہیں تو پھر ٹیم سے باہر کیسے بیٹھیں گے. زمبابوے سیریز، شاہین آفریدی
پاکستان اور زمبابوے کے درمیان 3 ٹی 20میچز کی سیریز 21 اپریل سے ہرارے میں شروع ہوگی .بابر اعظم ٹیم کی قیادت کریں گے اور پاکستان آج تک کھیلے گئے 14 باہمی ٹی 20میچز میں کبھی بھی ہارا نہیں ہے.دیکھیں ورک لوڈ پرفارمنس پر بوجھ نہ بن جائے.کرک سین نے اپنے گزشتہ مضامین میں واضح کیا تھا کہ پاکستان کے کن پلیئرزکو زمبابوے کے خلاف بڑے ریکارڈ ز اپنے نام کرنے کے موقع موجود ہ ہیں اور محمد حفیظ اور بابر اعظم کے لئے کیا چیلنجز ہیں جبکہ پیسرز کے لئے ان سارے معاملات میں اپنی جنوبی افریقا کی کارکردگی پر پردہ ڈالنے کا موقع بھی ہے.بائولنگ کوچ وقار یونس تو رخصت ہوچکے ہیں،سارا ملبہ اب مصباح اور یونس پر گرسکتا ہے ،اس سیریز کے بعد اگلی سیریز بھی اہم ہیں.یہ سال ورلڈ ٹی 20 کا ہے،ایک ناکامی بڑا مسئلہ کھڑا کرسکتی ہے. زمبابوے سیریز، شاہین آفریدی \
Also Read About: پاکستان کرکٹ کی تباہی کی نئی کہانی ، ٹیم منیجمنٹ ایک پیج پرہی نہیں،متعدد اہم انکشافات،بریکنگ نیوز

Leave A Reply

Your email address will not be published.