ملتان کو چیمپئن بنوانے میں زلمی کی معاونت،ایوارڈز کی تقرری میں بڑی نااہلی

0 33

پاکستان سپر لیگ 6 کا چیمپئن ملتان سلطانز کیسے بنے،ایونٹ کے ایوارڈز کس کے نام رہے اور سب سے بڑھ کر پشاور زلمی ٹیم کیوں کر ہاری،پی ایس ایل 6 ایوارڈز کا چنائو بھی تھوڑا عجب سا رہا ہے،پہلے ذکر کرتے ہیں اس بات کا کہ سلطانز کیسے چیمپئن بنے.
سلطانز کی جیت کی پیش گوئی
کرک سین نے 24 گھنٹے قبل جن باتوں کی بنیاد پر سلطانز کی جیت کی پیش گوئی کی تھی،وہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے لیکن فائنل میں سلطانز کی فتح میں ایک اہم اور مرکزی کردار پشاور زلمی نے خود سے اداکیا ہے.وہ کیسے؟ یہ کوئی روبوٹ کرکٹ نہیں ہورہی ہے کہ ٹاس جیتیں اور پہلے فیلڈنگ کا اعلان کردیں،ٹاس جیتنے کے بعد عقل کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے اکیلے کپتان ہی نہیں بلکہ پوری ٹیم منیجمنٹ بیک پر ہوتی ہے،جنہوں نے اپنی سٹرینتھ،پچ،مخالف ٹیم کی طاقت اور میچ کے توازن کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے،یہ 2ضرب2کا فارمولا نہیں ہے کہ‌ٹاس جیتو اور آنکھیں بند کر کے اعلان کردو کہ پہلے فیلڈنگ.ملتان سلطانز ٹیم اپنی بائولنگ پر زیادہ انحصار کرتی آئی ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے لئے فیورٹ بات ہی یہی تھی کہ وہ ایک ہدف سیٹ کرکے اپنے فیورٹ چیپٹر سے حملہ آور ہوتی اور یہ موقع اسے وہاب ریاض نے فراہم کردیا،آخری لیگ میچز اور پھر پلے آف میچز کی روشنی میں یہ واضح ہوگیا تھا کہ زلمی کے لئے بعد کی بیٹنگ مشکل ہوتی ہے اور سلطانز کی پہلے بیٹنگ خطرناک ہوتی ہے تو سوال یہ ہے کہ زلمی کیمپ نے یہ فیصلہ کیوں کیا،گویا سامنے دکھائی دینے والے زلمی کے کپتان ہی اس کے ذمہ دار بلکہ مدد گار ہیں.
کرک سین کی پیش گوئی سچ
سلطانز نے دعوت ملنے پر 206 کا بڑا پھٹہ سیٹ کیا اور پھر اپنی بائولنگ کی طاقت سے 47رنز سے کامیابی سمیٹ لی .یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے،سمجھ بوجھ رکھنے والے عام فرد کو بھی اتنی عقل ہے کہ کیا چل رہا ہے اور کیا ہونا چاہئے،چنانچہ یہ ایسا کیوں ہوا،سوال ہوگا کہ نااہلی ہے یا سمجھ بوجھ کی کمی ہے.دوسری اہم ترین بات یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ پی ایس ایل 6 کے فائنل کے حوالہ سے کرک سین نے ملتان سلطانز کی جن خوبیوں اور بہتری کی بات کی تھی،وہ درست ثابت ہوئی اور زلمی کی جن کمزوریوں کی بات کی تھی،وہ بھی حرف بحرف درست نکلیں ،سوال یہ ہے کہ 24 گھنٹے قبل ایک تجزیہ کے طور پر ہم یہ پوسٹ مارٹم کر رہے ہیں تو زلمی کیمپ میں بھاری بھرکم معاوضوں والے کوچز ڈیرن سیمی اور انضمام الحق کیا کرتے رہے ہیں.
اہم نکتہ
تیسرا بڑا نکتہ یہ واضح ہوا کہ شعیب ملک کا کیریئر کب سے ختم ہوچکا ہے،جو پلیئر آسان میچ کو مشکل تر بنادے ،جیسا کہ پلے آف میں کراچی کنگز کے خلاف ہوا تھا جب شعیب نے سست بیٹنگ کر کے میچ مشکل بنادیا اور پھر وہی پلیئر فائنل جیسے بڑے ایونٹ میں سیٹ ہوکر بھی 48پر وکٹ گنوادے اور ٹیم کو بیچ مندھار میں چھوڑ دے،اسے یقین کرلینا چاہئے کہ وہ اپنی جوانی میں کبھی پاکستان کو ایسے مواقع پر فتوحات نہیں دلاسکا تھا تو اب بڑھاپے میں کیا گل کھلائے گا.حالت یہ ہے کہ چند ہفتہ قبل وہ ٹیم سلیکشن،کپتان اور اپنے اخراج کے حوالہ سے تنقید کر رہے تھے.یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ فائنل کی صبح پشاور زلمی کے 2 پلیئرز حیدر علی اور عمید آصف ببل رولز کی خلاف ورزی پر باہر کئے گئے ہیں تو اس کا نقصان ہوا ہوگا.ایسا نہیں ہے کیونکہ حیدر علی پورے ایونٹ میں ناکام گئے ہیں اور عمید آصف کی کارکردگی بھی واجبی سی تھی.وہاب ریاض نے فائنل کے اختتام پر کہا ہے کہ شکست کا افسوس ہے لیکن ہمارا فائنل کھیل جانا ہی بڑا کارنامہ تھا کیونکہ ٹیم شروع میں ناکام جارہی تھی،وہ یہ بھول گئے کہ ملتان سلطانز شروع میں ان سے بھی زیادہ ناکام تھے.5میچزمیں سے صرف ایک جیتے تھے اور زلمی کی طرح ان کے بھی 10 ہی پوائنٹس ہوئے،اس طرح سلطانز کا بھی فائنل جیتنا نہیں کھیلنا ہی کارنامہ کافی تھا.یہ نہیں ماننا ہے کہ ہم نے ٹیم سلیکشن اور گیم پلان پر متعدد غلطیاں کیں.

ایوارڈز کے حوالہ سے کچھ عجب فیصلے

کرکٹ فینز اور عالمی برادری کو ایک سنسنی خیز ،جاندار،دھماکے دار اور دھڑکنوں کو تتر بتر کرنے والا فائنل چاہئے تھا جو پشاور زلمی کی ناکام پالیسی کی نذر ہوگیا ،اس سے زلمی کے مداحوں کو بے انتہا مایوسی ہوئی ہوگی کیونکہ پاکستان اور دنیا پھر میں بسنے والے پاکستانیوں کے نزدیک پشاور زلمی ایک مقبول ترین ٹیم ہے .محمد رضوان نے کامیابی پر حسب معمول اللہ پاک کا شکر ادا کیا اور اسے ٹیم کی کوشش قرار دیا ہے،فائنل کے بعد رنگا رنگ تقریب میں دلفریب آتش بازی کے سائے میں ملتان کے کھلاڑیوں نے وننگ ٹرافی لی اور شیخ زید کرکٹ اسٹیڈیم میں بھر پور جشن منایا اور دنیا کو دکھادیا کہ سلطان ایسے بناکرتے ہیں.پاکستان سپر لیگ 6 کے آخر میں ایوارڈز کے حوالہ سے کچھ عجب فیصلے ہوئے ہیں،ایسا لگا ہے کہ جیسے ایڈ جسٹمنٹ کی کاوشیں کی گئی ہیں،مثال کے طور پر سب سے زیادہ 554 رنزبنانے والے بابر اعظم،دوسری پوزیشن کے ساتھ 500رنزبنانے والے محمد رضوان کو ایونٹ کا بہترین بیٹسمین یا کھلاڑی منتخب نہیں کیا گیا بلکہ 428 رنزبنانے والے صہیب مقصود کو اس کے لئے بہتر امیدوار چنا گیا،اب اگرا یسا کر ہی لیا تھا تو پھر پی ایس ایل 6 کا بہترین پلیئر صہیب مقصود کیسے ہوگیا،یہ بات قطعی غلط ہے،اس کے لئے شاہ نواز دھانی ،بابر اعظم یا رضوان میں سے کوئی ایک ہونا چاہئے تھا،دھانی بائولنگ میں اوپر تھے،بابر اور رضوان اسکور میں آگے تھے،یہی نہیں بلکہ صیہب مقصود فائنل کے،ٹورنامنٹ کے بہترین پلیئر منتخب ہوئے بلکہ ساتھ ہی میں بہترین بیٹسمین کی کیٹیگری میں بھی وہی آئے،ایسا لگتا ہے کہ رمیز راجہ کا ووٹ سب پر بھاری پڑگیا ہے،وہ ان دنوں صہیب کے کچھ زیادہ ہی مداح بنے ہیں.ایونٹ کے بہترین بائولر اور ایمرجنگ کرکٹر کا ایوارڈ شاہ نواز دھانی کو ملا،یہ اچھی بات ہے لیکن قومی ٹیم میں سلیکٹ ہونے والے یہ فاسٹ بائولر گزشتہ دورہ جنوبی افریقا وزمبابوے میں بنچ پر بٹھائے گئے تھے،یہ زیادتی کی بات تھی.بہترین فیلڈر کے لئے قرعہ فال افتخار احمد کے نام رہا اور بہترین وکٹ کیپر کےلئے محمد رضوان کو لیا گیا.500رنزبنانے والے رضوان نے 19شکار بھی کئے ہیں.محمد رضوان اس سے زائد اور بہتر ایوارڈ کے مستحق تھے لیکن خیر جنہوں نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے،انہیں منطقی طور پر مطمئن کرنا ہوگا.

Leave A Reply

Your email address will not be published.