ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل،کیا کھویا کیا پایا،آئی سی سی کیوں ناکام

0 7

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کی وسل بجنے کو ہے،ٹیمیں صف بندی کرچکیں ،18جون سے کرکٹ کے بنیادی اور اصل فارمیٹ ٹیسٹ کرکٹ کا فیصلہ کنورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ,میچ شروع ہونے والا ہے.فائنلسٹ ٹیمیں مقررہ مقام تک جاچکی ہیں.ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کیا ہے،آئی سی سی نے اسے کیوں شروع کیا اور پہلے سرکل کے اختتام تک پہنچتے پہنچتے اسے کیا حاصل ہوا.
ٹیسٹ سیریز کی شکست پر دکھ
گزشتہ روز میں اپنے ایک ایسے قریبی دوست سے فون پر بات کر رہا تھا جس کی پوری زندگی انگلینڈ میں گزری،برمنگھم میں مقیم محمد مشتاق صاحب کو انگلینڈ کے نیوزی لینڈ سے ٹیسٹ سیریز کی شکست پر دکھ تھا لیکن جب میں نے انہیں اس کی وجوہات بتائیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ وہ کیوی ٹیم نہیں ہے کہ جو پرانے زمانے کی کمزور ٹیم ہوا کرتی تھی بلکہ یہ تو وہ ٹیم ہے جو 4دن بعد ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کھیلنے والی ہے،انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ کون ساورلڈ کپ ؟میں نے عرض کیا کہ ورلڈ کپ نہیں بلکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ،تو انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سے لاعلمی
اس جواب پر میں حیران رہ گیا کہ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری کواس کا علم ہی نہیں ،میں نے پھر کوشش کی کہ اور کہا کہ بھارتی ٹیم گزشتہ 12روز سے سائوتھمپٹن میں موجود ہے اور نیوزی لینڈ ٹیم کا اس سال انگلینڈ آنا بھی اس کے لئے ضروری تھا لیکن ای سی بی نے اس کے ساتھ اپنی ایک سیریز بھی رکھ لی لیکن مشتاق صاحب کو واقعی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا علم نہیں تھا،میں نے انہیں تو تھوڑی بریفنگ دے کر مطمئن کردیا لیکن اس وقت سے مسلسل اس سوچ وبچار میں ہوں کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا واقعی کئی لوگوں کو علم نہیں ہوگا،انہیں کیا علم کہ 120پوائنٹس کی سیریز کیوں رکھی گئی.کتنی سیریز کورونا کی نذر ہوئی ہیں ،آخر کار 2 ٹاپ ٹیمیں کیوں کر منتخب ہوئی ہیں وغیرہ وغیرہ. ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ
ٹیسٹ کرکٹ کی بقا
انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے ٹیسٹ کرکٹ کی بقا،لوگوں کی دلچسپی اور گلوبل سطح پر اس کے ریونیو میں اضافہ کے لئے یہ سلسلہ 2019 ورلڈ کپ کے فوری بعد شروع کیا تھا ،اب اس کا پہلا ایڈیشن مکمل ہونے جارہا ہے،سوال یہ ہے کہ آئی سی سی کو اس سے مطلوبہ مقاصد ملے ہیں؟سادہ ساجواب ہے کہ نہیں .آئی سی سی کا گلوبل فائنل ہو،میچ سر پر ہو،کہیں اس کا خاص ذکر ہو اور نہ جوش و خروش ہو،کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والوں کو اس کا علم ہو اور نہ ہی انتظار تو سمجھ لیں کہ ایونٹ ناکام ہوگیا،مقاصد پورے نہیں ہوسکے ہیں اور ایسا ہونا تشویشناک امر ہے.
نتائج وہ نہیں ملیں گے
میں نے بہت غور کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آئی سی سی اس کے 10 ایڈیشن کروالے ،جیسا کہ 2023 سے 2031 کےاگلے 8 سالہ فیوچر ٹور پروگرام میں بھی اس کی منظوری ہوگئی کہ 4ایڈیشن ہونگے،اسی طرح اب اس فائنل کےبعد 2021 سے2031 کا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ٹائٹل بھی ہوگا ،یہ سب ہونے کے باوجود بھی نتائج وہ نہیں ملیں گے جب تک کہ اس کے لئے 2 سے 3 باتوں کا خیال نہیں کیا جائے گا،پہلی بات یہ ہے کہ جس چیمپئن شپ میں پاکستان اور بھارت کی سیریز نہ ہو وہ چیمپئن شپ ہی کیسی؟ ایشز کی سیریز کھیلی گئی لیکن اس کے باوجود ٹیسٹ چیمپئن شپ کا اب ذکر ہی نہیں تو گویا ایشز نے بھی اس میں رنگ نہیں بھرے ہیں،چنانچہ پاک بھارت ٹیسٹ سیریز بہت ضروری ہے. ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ
سیریز کی کوئی اہمیت نہیں
دوسری اہم بات یہ ضروری ہے کہ 6 سیریز کی کوئی اہمیت نہیں ہے ،2 سال میں ہر ملک نے 6 سیریز کھیلنی ہیں،سرکل ایسا ہو کہ ہر ملک سے ہر ملک کھیلے،وقت کی کمی کی وجہ سے اگر یہ ممکن نہیں ہے تو پھر سیمی فائنل کا فارمیٹ لانا ہوگا اور اس میں سیمی فائنل کی ونر کے لئے بھی 3 ٹیسٹ میچزکی سیریز رکھی جائے تاکہ پاکستان اور بھارت یہاں ٹکراسکیں ،یا فائنل تک آسکیں اور فائنل بھی 3 میچز کی سیریز کا ہو تاکہ توجہ بڑھائی جاسکے.آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن کا آغاز 2019 ورلڈ کپ کے فوری بعد انگلینڈ میں ہونے والی ایشز سیریز سے ہوا تھا،2 سالہ سر کل کے تحت اس کا فائنل جون 2021 میں پہلے ہی طے تھا،آئی سی سی ٹیسٹ کرکٹ کی ٹاپ 9 ٹیموں کو اس میں رکھا گیا تھا،ہر ٹیم کو 2 سال میں 6 سیریز کھیلنی تھیں،3سیریز ہوم اور 3اوے سیریز،ہر ایک کے 120پوائنٹس تھے.2میچزکی سیریز میں فی میچ 60 اور اسی طرح 3میچزکی سیریز میں ہر میچ کے 40 پوائنٹس بنتے،اسی حساب سے 4 اور 5میچزکو 120پوائنٹس میں تقسیم کرکے میچ کھیلے گئے.

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2019 سے 2021 کا حال

بھارت نے 6سیریز میں 12میچزجیتے ،72 اعشاریہ2کی اوسط سے پوائنٹس بناکر پہلی پوزیشن لی،نیوزی لینڈ نے 5سیریز میں 7میچز جیتے اور 70کی اوسط سے پوائنٹس لے ک دوسری پوزیشن لی.کوروناکی وجہ سے متعدد سیریز نہ ہوسکیں جس کے بعد آئی سی سی نے پوائنٹس کا طریقہ کار تبدیل کرکے میچ نمبر سے مشروط کردیا . کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والوں کو علم ہونا چاہئے کہ اس ایونٹ میں 59 ٹیسٹ میچزکھیلے گئے ہیں.پاکستان نے ساڑھے 5سیریز کھیل کر 3 جیتی اور 3ہاریں ،اس کا نمبر5واں تھا.59 ٹیسٹ میچز ،درجنوں سیریز کے بعد بھی اگر یہ فارمیٹ خسارے میں ہے تو آئی سی سی کو سوچنا ہوگا کہ یہ خسارہ کیسے دور کیا جائے.پاک بھارت میچز آئی سی سی گلوبل ایونٹس میں بھی ہوتے ہیں .اگر سیاسی مداخلت اتنی ہی پر اثر ہے تو وہاں بھی یہ ممالک نہ کھیلیں ،وہ کون سا منترا ہے کہ ورلڈ کپ،ورلڈ ٹی 20 اور چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان اور بھارت کے میچز نہیں رکتے لیکن ٹیسٹ چیمپئن شپ میں رک جاتے ہیں.وہ منترا پیسے کا ہے.ڈالرز کی بارش ہے.آئی سی سی کوئی ایک ایونٹ ان 2 ممالک کے میچز کے بغیر کرواکر دکھائے، دیوالیہ نکل جائے گا لیکن ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پروا نہیں کی جارہی کیونکہ اس سے وہ آمدنی نہیں ہوتی جو آئی سی سی کو ایک سنگل میچ سے ایک دن میں ہوجاتی ہے.نتیجہ یہ ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ناکامی،نتائج کے حصول میں پریشانی کاذمہ دار خود آئی سی سی ہے. کرک سین نے فروری 2021 میں خبر بریک کی تھی کہ پاک بھارت ٹیسٹ سیریز اگلے سال بحال ہونے جارہی ہے اور اس کے لئے 2022 سے بھارتی ٹیم کے دورہ پاکستان سے شروعات ہونگی.یہ سیریز ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہوگی.اگر ایسا ہوگیا تو پھر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کو جمپ ملے گا اور مقاصد پورے ہونگے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.