ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل مذاق،ٹیموں کا گھنائونا کھیل،کیویز برتری کے باوجود خوف میں

0 33

آئی سی سی ولڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل میں دنیا کی 2 ٹاپ ٹیموں کا منفی کھیل،چلیں ہیں گھر سے اس بات کے لئے کہ ہم نے یہ فائنل جیت کر دنیا کو بتا نا ہےکہ ہم ہی ہیں وہ ،جو طویل فارمیٹ کے حقیقی چیمپئن ہیں لیکن ایجز بول سائوتھمپٹن میں دونوں امیدواروں کی چال بڑی ہی منفی،خراب اور قابل گرفت ہے.بھارت کے بعد نیوزی لینڈ نےبھی وہی کام کیا ہے جو ایک ڈری،سہمی یا دفاعی سوچ کی ٹیم کرسکتی ہے.
فائنل کا آج تیسرا روز
آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کا آج تیسرا روز تھا،اتوار کو کھیل کے خاتمہ تک نیوزی لینڈ نے 2 وکٹ کے نقصان پر 101 رنزبنالئے ہیں،اسے بھارت کی پہلی اننگ کے 217 اسکور کو پورا کرنے کے لئے مزید 116رنزکی ضرورت ہے اور اس کی 8 وکٹیں باقی ہیں،دن ختم ہونے سے 2 بالز قبل سیٹ کیوی بیٹسمین کونوے 54رنزبناکر ایشانت شرما کی بال پر محمد شامی کے ہاتھوں کیچ ہوگئے،اس طرح وہ خاصے بدقسمت رہے،ان سے قبل ٹالم لیتھم 70کے مجموعہ پر30رنزبناکر ایشون اور کوہلی کا مشترکہ شکار بنے .اتوار کو جب کھیل شروع ہوا تو بھارت نے گزشتہ روز کے اسکور 146رنز 3 وکٹ سے اننگ آگے بڑھائی،نیوزی لینڈ کو اس وقت بڑی اور قیمتی کامیابی ملی جب 3 رنزکے اضافہ سے ویرات کوہلی 44کے انفرادی اسکور پر جیمسین کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوگئے.بھارتی ٹیم اس کے بعد نہ سنبھل سکی اور 68 رنزکے اندر باقی تمام 7 وکٹیں ڈھیر ہوگئیں.اجنکا رہانے 49 اور ایشون 22 رنز کرکے نمایاں رہے.پوری ٹیم 217 رنزپر پویلین لوٹ گئی.نیوزی لینڈ کی جانب سے کیل جیمسین نے 22اوورز میں صرف 31 رنز دے کر تباہی پھیردی اور 5 بھارتی بلے بازوں کو آئوٹ کیا جبکہ ٹرینٹ بولٹ نے 47 اور نیل ویگنار نے 40رنزدے کر 2،2 وکٹیں لیں . 
بارش کی نذر
کہنے کومیچ کا پہلا روز بارش کی نذر ہوگیا،اب اگر یہ 5 روزہ میچ ہوتا تو دیکھنے والے یہی نتیجہ نکالتے کہ 3 دن مکمل ہوگئے ہیں اور اس میں ایک اننگ اور دوسری اننگ کا کچھ ہی حصہ مکمل ہوا ہے،چنانچہ میچ ڈرا ہوجائے گا لیکن چونکہ یہ خاص ٹیسٹ میچ ہے،خاص فائنل ہے،اس لئے اس کا ایک متبادل دن رکھا گیا ہے اور چونکہ پہلا روز مکمل طور پر بارش کی نذر ہوگیا تھا تو 23 جون کا چھٹا روز بھی میچ کے ساتھ لگے گا،اس لئے ابھی 4 روز باقی ہیں.یہ ایک بات ہوگئی .

یہ میچ کیوں ایسا ہورہا

اب آتے ہیں،انٹر و کی جانب کہ یہ میچ کیوں ایسا ہورہا ہے،ٹیسٹ کرکٹ کا کیوں مذاق بن رہا ہے اور بھارت اور نیوزی لینٍڈ کی ٹیمیں ایک دوسرے سے بڑھ کر کیسے منفی کرکٹ کھیل رہی ہیں.سب سے قبل 2 د ن کے مکمل کھیل کے اوورز جمع کرتے ہیں.خراب موسم کی وجہ سے 180کی بجائے 2 روز میں141 اوورز کا کھیل ہوا،اس میں 2 اعشاریہ 25 کی اوسط سے 318 اسکور بنے ،کوئی چھکا نہیں لگا اور صرف 34 چوکے لگے ہیں.یہ کارکردگی واضح طور پر اس بات کی علامت ہےکہ دونوں ٹٰیموں نے نہایت محتاط،منفی اور ڈری،سہمی گیم کی ہے.
اننگ کا تفصیلی جائزہ
بھارت کی اننگ کا تفصیلی جائزہ لیں تو انہوں نے 92 اوورز اور ایک بال کھیلی،یہ ایک دن اور 10منٹ کا کھیل بنتا ہے،اس میں اس نے صرف اور صرف 217 رنزبنائے .10وکٹیں گنوادیں،بیٹنگ اوسط اڑھائی سے بھی کم 2 اعشاریہ 35 رہا،یہ اس ٹیم کے لئے جو اپنے آپ کو نمبر ون سائیڈ کہے،نمبر ون بننے کی امیدوار ہو اور جس میں کوہلی،رہانے،روہت شرما،پچارا جیسے بیٹسمین ہوں،شرمناک اعدادوشمار ہیں اور یہی نہیں بلکہ ویرات کوہلی کی اننگ کا جائزہ لے لیں.44رنزکے لئے 132 بالیں کھیل گئے.196 منٹ نکال گئے،مطلب یہ ہوا کہ آدھے دن سے زیادہ وکٹ پر رہے.33 کا اسٹرائیک ریٹ تھا اور کمال بات یہ ہے کہ صرف ایک چوکا تھا.ایک اور نامور بیٹسمین چتشور پجارا ہیں،بڑا نام ہے،انہوں نے کمال وقت صرف کیا اور زوال کھیل پیش کیا.85 منٹ میں 54 بالز کھیل کر صرف 8 کرکے لوٹ گئے ،اسٹرائیک ریٹ 15 سے کم تھا.اجنکا رہانے بھی پیچھے نہیں رہے.49اسکور کے لئے 117 بالز کھیلیں مگر 190منٹ بھی گزارے،باقیوں کی کیا بات کریں.سیٹ بیٹسمین جو 180 منٹ سے زائد وکٹ پر قیام کرچکے ہوں،انہیں اسکور کرنا چاہئے تھا یا ٹک ٹک پر رہنا چاہئےتھا.یہی حال نیوز ی لینڈ نے کیا،بھارتی بیٹنگ کو 217 پر محدود کر کے ان کے بلے بازوں کو 49 اوورز میں 101 نہیں بلکہ 150سے زائد اسکور کرنے چاہئے تھے تاکہ اگلے روز آکر پہلے اسکور پورا کرتے اور پھر بڑی برتری کی جانب جاتے لیکن نہیں،کیونکہ یہ بھی ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں.اوپنر ٹام لیتھم نے 30رنزکے لئے 158 منٹ بیٹنگ کی اور 104 بالیں کھیل ڈالیں .ڈیوون کونوے نے 222منٹ کی بیٹنگ میں153 بالز پر 54 کئے .کین ولیمسن 37 بالز کھیل کر 12 پرناٹ آئوٹ ہیں .ان کے ساتھ راس ٹیلر ہیں جو تاحال کھاتہ نہیں کھول سکے ہیں.
وقت ضائع
آپ نے ان دونوں ٹیموں کی بیٹنگ،اعدادوشمار اور اننگز کے فگر دیکھ لئے کہ کیوی ٹیم 49 اوورز میں محض 2 کی اوسط سے کھیلی ہے اور بھارت نے 92 اوورز میں ایسی بیٹنگ کی ہے،اس کا پہلا نقصان بھارت کو ہوا کہ سیٹ بلے باز وقت گزارنے ،سیٹ ہونے کے باوجود جب آئوٹ ہوئے تو لائن لگ گئی،یہی حال نیوزی لینڈ کے ساتھ ہوسکتا ہے کہ سیٹ بلے باز جب رنز نہیں بنائیں گے تو اتنی دیر سے وکٹ پر کیا کررہے ہیں اور کیا کرنے گئے ہیں.یہ سب اس لئے ہوتا ہے کہ وقت ضائع کیا جائے،میچ ڈرا کھیلا جائے،اگلی ٹیم سے بچا جائے،اٹیک سے گریز کیا جائے تاکہ دوسری ٹیم کو ئی نقصان نہ کردے،یہ تب ہوتا ہے جب شکست کا یقین ہو،ذلت اٹھانے کا خطرہ ہو اور کسی بڑی مصیبت سے بچنا ہو لیکن جب آئی سی سی کا گلوبل ایونٹ ہو.ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل ہو اور اس کے جیتنے والے کو ٹیسٹ فارمیٹ کے چیمپئن کا ٹائٹل ملنا ہو،وہاں ایسی اپروچ اور ایسی کرکٹ نہایت ہی افسوسناک ہے،یہ اس فارمیٹ کا درست تعارف نہیں ہورہا،اس سے اس کھیل کی درست مارکیٹنگ نہیں ہورہی ہے اور اس فائنل سے سوچے گئے مطلوبہ مقاصد بھی حاصل نہیں ہوسکیں گے. دونوں ٹیموں نےا گر یہ روش جاری رکھی اور موسم کی مداخلت بھی ایسی ہی رہی تو شاید میچ ڈرا بھی ہوجائے،جس کا امکان فی الحال کم ہے ،یہ بات کلیئر ہوتی جارہی ہے کہ یہ دونوں ٹیمیں جیسے ڈرا کی جانب ہی جانا چاہتی ہیں کہ کسی طرح شکست سے بچیں اور 12،12 لاکھ ڈالرز انعام اور ساتھ میں وننگ ٹرافی کا ٹائٹل لے اڑیں،فی الحال نیوزی لینڈ کا پلڑا بھاری ہے،اس کی پیش گوئی کرک سین پہلے ہی کرچکا ہے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.