ورلڈ ٹی 20،آئی سی سی کی بھارت کو دھمکی یا نئے ممکنہ پلان کی رونمائی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس سال بھارت میں شیڈول ورلڈ ٹی 20 کی میزبانی کے حوالہ سے بڑا ہی اعلان کردیا ہے اور اس کے اشارے میں یہ بات بھی موجود ہے کہ ایونٹ کی میزبانی تک چھن سکتی ہے اور اس کے بیک اپ پلان میں کیا ہے ،کرک سین اس پر غور کرے گا.

آئی سی سی قائم مقام چیف جیف الارڈک نے واضح اشارہ کیا ہے کہ بھارت میں کورونا کے حالات اس وقت سنگین ہیں.کیسز بڑھنے کی شرح خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے لیکن اس کے باوجود انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اب بھی پر امید ہے کہ ایونٹ اپنے شیڈول کے مطابق بھارت ہی میں ہوگا مگر اس کے باوجود ہم نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں اور بیک اپ پلان بھی رکھتے ہیں.

آئی سی سی کا یہ بیان ایک ایسے ماہ میں سامنے آیا ہے کہ جس میں بھارت نے آئی سی سی کو 2 اہم ترین ضمانتیں دینی ہیں.ایک تو یہ کہ بھارتی بورڈ اپنے ملک میں منعقدہ گلوبل ایونٹ کے انکم ٹیکس معاملات میں اپنی حکومت سے چھوٹ کی اجازت لے کر دے گا اور دوسرا یہ کہ پاکستانی بورڈ کی شرط کو پورا کرتے ہوئے اپنی حکومت سے سکیورٹی،ویزا کی تحریری اجازت دے گا .اب ایسے حالات کہ جب وہ دونوں شرائط گزشتہ 6 ماہ کی 2 ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود پوری نہیں کرسکا تو اس کے لئے آئی سی سی کا یہ بیان ایک چھوٹی سی دھمکی بھی ہوسکتا ہے.

کرک سین کا ماننا ہے کہ بھارتی حکومت پاکستان والی شرط پوری کردے گی کیونکہ ہوائیں کچھ ایسی ہی چل رہی ہیں لیکن ٹیکس والی شرط آسانی سے پوری نہیں ہوگی.

آئی سی سی کے بیک پلان کیا ہوسکتے ہیں؟

آئی سی سی پٹاری میں 3 بیک اپ پلان ہوسکتے ہیں .یہ مکمل طور پر کرک سین کا تجزیہ ہے .اس پر آئی سی سی نے کوئی وضاحت نہیں کی.

پہلا پلان یہ ہوسکتا ہے کہ ایونٹ چند ماہ کے لئے ملتوی ہوجائے.کورونا کیسز کی شرح بڑھنے سے پورے خطے پر اثرات پڑیں گے اس لئے دیگر ممالک میں بھی اس کا انعقاد شاید نہ ہو.

دوسرا یہ کہ اس کی میزبانی بھارت سے کہیں اور منتقل ہوجائے اور اس کے لئے متحدہ عرب امارات بیک اپ میزبان ہوسکتا ہے .

تیسرا ممکنہ بیک اپ گلوبل ایونٹ کے لئے نہایت ہی خوفناک ہوگا اور یہ ٹی 20 ورلڈ کپ اور تمام کرکٹ ممالک کے لئے زیادہ پریشان کن ہوگا کہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ورلڈ ٹی 20 ملتوی ہوجائے.اس کا ایک خاص اشارہ آج کی بات میں موجود ہے.کہا گیا ہے کہ اس سال ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل بھی ہونا ہے اور اس میں صرف 2 ممالک بھارت اور نیوزی لینڈ ہونگے جو انگلینڈ میں کھیلیں گے .2 ممالک کے پلیئرز کا سنبھالنا آسان امر ہے .16 ممالک کے ایک ہزار کے قریب کھلاڑی، آفیشلز وبراڈ کاسٹرز کو اس مرحلے میں رکھنا بڑا چیلنج ہے .یہ بات ایک خطرناک خبر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایونٹ کا انعقاد ہی جیسے ممکن نہیں ہے .آئی سی سی نے اگرچہ بیک پلان نہیں بتائے لیکن کرک سین کی نظر میں ممکنہ پلان یہی ہوسکتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں