ورلڈ کپ،ورلڈ ٹی 20 کے سیمی فائنل ختم،نیا سٹیج،پاکستان سمیت کئی میزبان فائنل

بہت لوگ اب بھی پلے آف کا مطلب نہیں سمجھتے ہیں،یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ آئی پی ایل اور پھر اس کے بعد دیگر لیگز حتیٰ کہ پی ایس ایل سمیت تمام معروف ایونٹس میں پلے آف میچز کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے .شاید آپ کو یہ پڑھ کر حیرت محسوس ہوکہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی کرکٹ فینز کو پلے آف کی سمجھ نہ آئی ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایشیا میں کرکٹ کا جنون ہے،عام فرد میچ ضرور دیکھتا ہے لیکن اسے اس کا مطلب معلوم نہیں ہوتا.

پلے آف کی اصطلاح آئی پی ایل سے شروع ہوئی تھی ،اس میں ایونٹ کی ٹاپ ٹیموں کے پاس فائنل میں جانے کے مواقع موجود ہوتے ہیں ،ہارنے والی ٹیم کو کوالیفائر مل جاتا ہے،نمبر 4ٹیم دونوں میچز حتیٰ کہ فائنل جیت کر چیمپئن بن جاتی ہے جبکہ پوائنٹس ٹیبل پر اس کا دوسرا نمبر ہوتا ہے.

انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کا بڑا یو ٹرن،ورلڈ کپ اور ورلڈ ٹی 20 پر اہم فیصلے،بریکنگ نیوز

کرک سین یہاں پر یہ اصطلاح کیوں استعمال کر رہا ہے ؟اس لئے کہ اب اس پلے آف کی گونج کرکٹ کے میگا ایونٹ ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی ہے.باخبر ذرائع کے مطابق انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کی ٹیبل پر یہ پلان موجود ہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ اور ورلڈ ٹی 20 جیسے ایونٹس میں پلے آف و کوالیفائر میچز رکھےجائیں.اس کے بڑے فوائد ہونگے.میچز بڑھیں گے تو آمدنی ڈبل ہوگی.پاکستان اور بھارت پلے آف میں ہوں اور ڈبل ہیڈر پڑجائے تو تھوڑی دیر کے لئے سوچیں کہ دلچسپی کا عالم کیا ہوگا.ٹی وی رائٹس کی آمدنی ہوگی.دنیا کی توجہ ڈبل ہوگی اور بھی بہت کچھ حاصل ہوگا.آئی سی سی کے اگلے کلینڈر میں جو کہ 2023 سے 2031 کے درمیان کا ہے،اس کی تیاری فائنل مراحل میں ہے.اپریل 2021 کے آخر میں بورڈز میٹنگ میں یہ معاملات طے ہوجائیں گے اور اس میں اس تجویز کی باقاعدہ منظوری کے امکانات موجود ہیں .

آئی سی سی اگلے 8 سالہ ایف ٹی پی میں مزید کچھ نیا کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئےہے.بگ تھری کے تحفظات کی وجہ سے ہر سال ایک گلوبل ایونٹ کا پلان کوروناکی وجہ سے بھی متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ اب یہ بات طے سمجھی گئی ہے کہ عالمی وبا نے ساتھ ساتھ چلنا ہے،اس لئے اسے سامنے رکھ کر ہی پلان طے کئے جائیں.آئی سی سی اب 8 کی بجائے 6ا یونٹس کی منظوری دینے جارہا ہے ،اس میں 2ورلڈ کپ اور 4ٹی 20ورلڈ کپ ہونگے.

6میگا ایونٹس کی میزبانی کے حوالہ سے بھی اہم پیش رفت متوقع ہے.2027 ورلڈ کپ کی میزبانی کے لئے ویسٹ انڈیز و امریکا اور اس کے مقابل جنوبی افریقا امیدوار ہیں جبکہ ورلڈ ٹی 20کے 4ا یونٹس میں سے ایک انگلینڈ،دوسرا سری لنکا،تیسرا پاکستان اور عرب امارات اور چوتھا نیوزی لینڈ میں ہوسکتا ہے.دیگر امیدوار بھی ہیں،اس کے لئے اعلان اپریل کے آخر یا مئی کے شروع میں متوقع ہے.

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ،آئی سی سی ورلڈ کپ سپر لیگ سمیت پاک بھارت باہمی کرکٹ بحالی ،سیریز کےلئے ونڈو رکھنے کی باتیں بھی ساتھ شامل ہیں.انٹر نیشنل کرکٹ کونسل اس حوالہ سے باضابطہ اعلان بھی کرسکتی ہے اور یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ دونوں ممالک آپس میں طے کرلیں تو ونڈو موجودہ ہوگی.

اپنا تبصرہ بھیجیں