پاکستان ورلڈ کپ میں آج کے دن بنگلہ دیش سے کیوں ہارا،شور آج بھی تازہ،کیا نیا

عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ جتنی بھی پاک صاف ہوجائے،جتنے بھی دعوے کرلیئے جائیں لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ماضی وتاریخ کے تلخ واقعات کبھی بھی پیچھا نہیں چھوڑیں گے اور اس لئے بھی کچھ واقعات تو محض واقعہ کی بنیاد پر یاد بن جاتے ہیں جوہمیشہ دلوں پر نقش رہتے ہیں یا گہرا گھائو بنے رہتے ،جیسے شارجہ میں جاوید میاں داد کا بھارت کے خلاف تاریخی چھکا اور جیسے اور بھی بے شمار کارنامے لیکن کئی تلخ واقعات صرف اس حد تک تلخ ہوتے ہیں کہ نتائج مرضی کے نہیں ہوتے ،جیسے ورلڈ ٹی 20 کے پہلے ایڈیشن کا فائنل،جب بھارت کے خلاف مصباح الحق پاکستان کو چیمپئن بنوانے کے قریب آکر ہمت ہارگئے،اس میں غم ہوسکتا ہے،دکھ ہوسکتا ہے اور اس کے علاوہ اور کچھ نہیں لیکن کچھ واقعات ایسے ہیں کہ جس میں فتح وناکامی سے بڑھ کرا ور بھی بہت کچھ سرایت کرگیا ،جس کے باعث تاریخ جب بھی پلٹے گی، تکلیف بھی دوگنی ہوگی،ایسے ہی ایک واقعہ کی یاد تازہ کرتے ہیں.

تاریخ پر تاریخ نہیں،دھماکے پر دھماکا،دورہ انگلینڈ سے سابق کپتان آئوٹ

بات ہے ورلڈ کپ 1999 کی،پاکستان اس میں فیورٹ تھا اور ٹھیک تھا،انگلینڈ میں منعقدہ ایونٹ کا اس نے فائنل کھیلا تھا،آسٹریلیا سے ہار گیا تھا،یہ بات تو اپنی جگہ ہی تلخ ہے لیکن آج 31 مئی کو دن کی مناسبت سے اس سے بھی زیادہ تلخ میچ تاریخ نے پھر سامنے لاکھڑا کیا ہے.

یہ پاکستان کے لئے ناقابل یقین دن تھا،وسیم اکرم کی قیادت میں کھیلنے والی ٹیم نارتھمپٹن میں بنگلہ دیش کے مقابل تھی.سب کے لئے غیر دلچسپ میچ تھا، پھر جب بنگلہ دیشی ٹیم صرف 223 تک محدود ہوئی تو اور بھی یکطرفہ میچ بن گیا لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا،اس کی بازگشت 22برس گزرنے کے بعد اب بھی سنائی دیتی ہے،چند ماہ قبل بھی اسی میچ کا تذکرہ تھا،جب میچ فکسنگ الزامات کی مد میں سلیم ملک نےپٹا را بکس کھولا تھا اور اس وقت کے پی سی بی چیئرمین خالد محمود نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ وہ میچ مشکوک تھا،کئی دیگرکرداروں نے سنگین الزامات لگائے.پاکستانی ٹیم جواب میں صرف161 رنزبناسکی تھی اور 62 رنز سے میچ ہاری تھی.یہ ایسی شکست تھی کہ اس کے فوری بعد میچ فکسنگ اور جوا کا شور بلند ہوگیا تھا،یہاں تک کہا گیا کہ یہی شکست تھیجس نے بنگلہ دیش کو ایک روزہ ملک کا اسٹیٹس دلوایا.

پاکستان کرکٹ بورڈ،آئی سی سی اور متعلقہ اداروں ن اس کی صاف تحقیق نہیں کی تھی،یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان میں میچ فکسنگ کا کٹا کھلتا ہے تو اس میچ کا حوالہ ضرور دیا جاتا ہے.پاکستان کی شکست اتفاقی حادثہ بھی ہوسکتی ہے لیکن اس پر اتنی کہانیاں اور بیانات آئے کہ ورلڈ کپ تاریخ میں انگلینڈ کے زمبابوے سے ہارنے اور ایسے ہی 2درجن اپ سیٹ نتائج پر کبھی شور نہیں ہوا،آخر کوئی تو ایسی بات ہوئی تھی کہ جس کا شور ہوتا ہے،آخر کوئی تو ایسی آگ لگی تھی کہ جس کا دھوں اٹھتا ہے.

پاکستانی اسپنر ثقلین مشتاق کی اس میچ میں 35 رنزکے عوض 5وکٹیں بھی فتح کا سبب نہیں بن سکیں،پاکستان کے 5 ٹاپ آرڈر پلیئرز سعید انور،شاہد آفریدی،اعجاز احمد،انضمام اورسلیم ملک ڈبل فیگر کو بھی نہ چھوسکے تھے.