میاں داد فخر کے مخالف اور ڈی کاک کے حمایتی کیوں،پروٹیز پلیئرز قید،پی ایس ایل کے نئے چرچے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میاں داد نے فخرزمان رن آئوٹ کے معاملہ پر پروٹیز وکٹ کیپر کوئنٹن ڈی کاک کی حمایت کیسے کردی،میاں داد نے اپنے رد عمل میں ڈی کاک کوکلیئر قرار دیا اورسار اقصور ہی اپنے بیٹسمین فخر زمان کا نکال دیا،انہوں نے ایسا کیوں کیا؟پہلے میاں داد کا مختصر موقف دیکھ لیجئے.

پاکستان کے آل ٹائم لیجنڈری پلیئر میاں داد کے نزدیک فیلڈر اپنی چالاکی،سمجھداری اور دائیں بائیں کی حرکات سے یہ سب کرسکتے ہیں ،چنانچہ ڈی کاک نے بھی وہی کیا،اس پر اگر کوئی سزا یا جرمانہ بنتا تھا تو کردیتے لیکن کھلاڑی اتنا کچھ کرتے رہتے ہیں،اس لئے فخرزمان کی غلطی ہے،ان کو خود خیال کرنا چاہئے تھا.

فخرزمان کے لئے بڑا اعلان،آج فائنل،ٹاس اور میچ کس کا،ٹیم میں کون ،بابرکوہلی کو پچھاڑ سکتے

جاوید میاں داد نے یہ سب اس لئےکہا ہے کہ وہ خود بھی ایسا کرتے رہتے تھے،دیکھتے کدھر تھے،بال کدھر پھینکتے تھے،اشارے کہاں کے ہوتے تھے اور عمل اس کے الٹ ہوتا تھا.1990 کے آسٹریلیشیا کپ فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے یہی کچھ کیا تھا،تھرڈ مین پوزیشن پر فیلڈنگ کے دوران انہوں نے جان بوجھ کرتھوڑی خراب فیلڈنگ کی اور بیٹسمین کو دوسرے رن کے لئے مجبور کیا اور پھر یکدم بال پکڑ کر سیدھا وکٹوں کی جانب تھروکیا اور بیٹسمین رن آئوٹ تھا.میاں داد نے جس انداز میں خراب فیلڈنگ کی تھی،اس سے بیٹسمین کو کامل یقین تھا کہ وہ دوسرا اسکور کرلیں گے مگر وہ حقیقی ناقص فیلڈنگ ہوتی تو وہ بچ پاتے،در اصل میاں داد خود اس قسم کی چالاکی یا سمجھداری یا کچھ بھی کہہ لیں،کیا کرتےتھے،اس لئے انہوں نے فخرزمان والے معاملہ پر ڈی کاک کی حرکت کو درست قرار دیا ہے.

فائنل مقابلہ،پاکستان کی راہ میں جنوبی افریقاکا 6 سالہ انوکھا ریکارڈ حائل ہوگیا،فتح غیر یقینی؟

انگلش کائونٹی کرکٹ چیمپئن شپ کے آغاز میں اب 2دن باقی بچے ہیں،2021کا ایڈیشن 8اپریل سے شروع ہورہا ہے جبکہ بھارت میں آئی پی ایل 9اپریل سے شروع ہوگی،ایک جانب ٹی 20 فارمیٹ کا زور ہوگا تو دوسری جانب کرکٹرز طویل فارمیٹ کی سلو کرکٹ کھیلتے دکھائی دیں گے.کورونا کی وجہ سے انگلینڈ مسلسل دوسرے سال اپنی کرکٹ کے حوالہ سے خسارے کا شکار جارہا ہے.گزشتہ سال تو شارٹ وقت کے لئے کائونٹی مقابلے اگست میں شروع ہوئے تھے،اس سال اگر چہ وقت پر ہی سب کچھ ہورہا ہے لیکن ٹکٹوں کی آمدنی نہ ہونےکے باعث پھر مسائل ہی مسائل ہیں.100 بالز ایونٹ بھی ہونا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق 18میں سے 9کائونٹیز شدید مالی خسارے میں مبتلا ہیں اور انہیں اگر معقول بیل آئوٹ پیکج نہ ملا تو سیزن کے دوران دھڑام سے زمین بوس ہوسکتی ہیں جس کا اثر 100بالز پر بھی پڑے گا.

پاکستان کرکٹ ٹیم کے پیسر محمد عباس انگلش کائونٹی کے لئے تیار ہیں اور کل سے شروع ہونے والےایونٹ میں اپنی ٹیم کی نمائندگی کے لئے پرجوش ہیں،ایسے میں ایک انگلش بائولر ثاقب محمود نے پی ایس ایل کی تعریف کرکے پاکستان سپرلیگ کا چرچا کردیا ہے.پشاور زلمی کی نمائندگی کرنے والے انگلش پیسر ثاقب محمود کا کمال یہ تھا کہ 14میچزکے بعد جس وقت پی ایس ایل ملتوی ہوئی تو وہ 14وکٹ کے ساتھ ایونٹ کے ٹاپ وکٹ ٹیکر تھے.

ثاقب محمود کہتے ہیں کہ پی ایس ایل 2021نے انہیں بھر پور مدد دی،پاکستان میں مجھ سمیت غیر ملکی پیسرز مشکل سے 2ہی تھے ،پاکستانی وکٹوں پر غیر ملکی پیسرز کے لئے ٹی 20 جیسے فارمیٹ میں کامیاب ہونا آسان امر نہ تھا لیکن میں نے پی ایس ایل سے بھر پور مدد لی،بڑی آزادی کے ساتھ بائولنگ کی اور مجھے ریورس سوئنگ بھی ملی.پی ایس ایل کا تجربہ میرے کام آئے گا.ثاقب محمود لنکا شائر کی نمائندگی کریں گے.

جنوبی افریقا سے اپنے ملک کی سیریز چھوڑ کر بھارت پہنچنے والے جنوبی افریقا کے 5کرکٹرز 7دن کے لئے قید ہوگئے ہیں،انہیں بھارت میں 7روزہ قرنطینہ کا سامنا ہے.وہ آج بھارت میں ہوٹل کے بند کمروں میں بیٹھ کر اپنے ملک کا تیسرا ایک روزہ میچ ٹی وی پردیکھیں گے ،یہ میچ پاکستان اور جنوبی افریقا کے مابین سنچورین میں کھیلا جائے گا.کوئنٹن ڈی کاک،اینرچ نوکیا،ڈیوڈ ملر،لنگی نیگیڈی اور کاگیسو ربادا اس 7روزہ قرنطینہ کے ابعث اپنی ٹیموں کے لئے پہلا میچ بھی نہیں کھیل سکیں گے،اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے خلاف آخری ون ڈے میچ چھوڑنے والے پروٹیز پلیئرز آئی پی ایل کا پہلا میچ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں