ایشیائی کرکٹ چیمپئن کون،فیصلہ آج ہوا،محمد عامر تیسرا ڈیبیو کرسکیں گے؟اہم دن پر اہم سوال

رپورٹ : عمران عثمانی

کرکٹ کی تاریخ میں منفرد واقعات ہیں،ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی یاد دہانی بھی ہوتی ہے اور اعادہ بھی،نئے واقعات میں کچھ دن آپ کے ہوسکتے ہیں تو کچھ دن کسی اور کے لیکن ماضی اگر آپ کا ہے تو وہ کوئی چھین نہیں سکتا اور اگر اس حوالہ سے کوئی تلخ یاد ہے تو اسے زائل کرنا ناممکن ہوتا ہے.

ان دنوں ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے التوا کی کنفرمیشن کی خبریں ہیں.2020کا ایونٹ کرونا کی نذر ہوا تو 2021 اور 2022 کےا یونٹس پی سی بی اعلامیہ کے مطابق ختم کردیئے گئے ہیں،اس طرح 2019 کے بعد اب اگلا ایشیا کپ 2023میں کروایا جائے گا اور اس کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہونگے کہ تاریخ کا پہلا ایشیا کپ کب کھیلا گیا،اس کا آغاز کس سال ہوا اور اس کا فائنل کس دن کھیلا گیا اورکون جیتا.

کرک سین تحقیق کے مطابق ایشیا کپ کا ڈیبیو ایونٹ اپریل 1984 کو کھیلا گیا،اس میں پاکستان،بھارت اور سری لنکا شریک تھے.اس کے3 ہی میچز ہوئے.تینوں ممالک کا ایک ایک میچ ہوا.تیسرا میچ پاکستان اور بھارت کا ایک قسم کافائنل ہی تھا جو 13ا پریل 1984 کو شارجہ میں کھیلا گیا ،پاکستان نے بظاہر اچھا آغاز کیا،بھارت کی ٹیم مقررہ 46اوورز میں4وکٹ پر 188کرسکی.

ظہیر عباس کی قیادت میں کھیلنے والی قومی کرکٹ ٹیم ایک موقع پر جیت رہی تھی،125 رنزپر 4 آئوٹ تھے لیکن 134پر ٹیم باہر ہوگئی اوربھارتی ٹیم 54 رنز سے جیت کر پہلے ایشیا کپ کی فاتح ٹیم بن گئی.

13اپریل 1992 کو پاکستان کے ایک سپر اسٹار پیدا ہوئے ،لیفٹ ہینڈ پیسر محمد عامر13ا پریل 1992 کو پیدا ہوئے اورانہوں نےپاکستان کے لئے جولائی 2009میں ڈیبیو کرلیا ،ایک سال سے بھی کم عرصہ میں وہ پاکستان کے دوسرے وسیم اکرم کہلانے لگے لیکن پھر 2010 ان کے لئے تباہ کن ثابت ہوا جب اسپاٹ فکسنگ میںً وہ کپتان سلمان بٹ و دیگر کے ہمراہ انگلینڈ میں پکڑے گئے،ان سمیت محمد آصف اور سلمان بٹ کا کیریئر تمام ہوا .5 سال بعد عامر کی تو واپسی ہوگئی مگر باقی دونوں نہ کھیل سکے.

لیفٹ ہینڈ پیسر محمد عامر کا آج30 واں سال شروع ہورہا ہے،وہ ٹیسٹ کرکٹ سے تو 2سال قبل ہی ریٹائر ہوچکے ہیں لیکن محدود اوورز کی کرکٹ سے وہ باہر ہیں،کچھ ان کی شکایتیں ہیں تو کچھ کرکٹ بورڈ کی منیجمنٹ کی سختیاں.دیکھاجائے تو محمد عامر اپنی 29 ویں سالگرہ پر اپنے تیسرے ڈیبیو کی امید پر ہیں،انٹر نیشنل کرکٹ سے ریٹا ئر ہیں لیکن مشروط ریٹائرمنٹ ہے .36 ٹیسٹ میں 119 اور61 ایک روزہ میچزمیں 81وکٹیں لینے والے لیفٹ ہینڈ پیسر موجود منیجمنٹ جو کہ مصباح الحق اوروقار یونس وغیرہ پر مشتمل ہے کی سبکدوشی کی صورت میں ریٹائرمنٹ واپس لیں گے.آج 13اپریل 2021 کو ان کی اہلیہ نرجس عامر نے ایک یاد گار تصویر کے ساتھ انہیں سالگرہ کی مبارکباد دی ہے.

پاکستان کرکٹ میں کوالٹی بائولرز کا فقدان ہے،اگر ممکن ہوسکے تو پی سی بی محمد عامر کے معاملہ پر کچھ نرم گوشہ اختیار کر کے انہیں واپس لاسکتا ہے کیونکہ پاکستان کو محدود اوورز کرکٹ میں آج بھی جنوبی افریقا جیسی کمزورٹیم کے سامنے شکست کا سامنا ہے جبکہ ورلڈ ٹی 20 کا یہ سال ہے ،تیاری بھرپور دکھائی نہیں دے رہی ہے.