وسیم خان اگلے 3 سال میں بھی پی سی بی چیف،بڑے انکشافات،سخت جوابات

0 5

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا ہے ہم پر بہت باتیں ہوئی ہیں،یو اے میں ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا ہے،شروع میں جب یو اے ایوسیم خان اگلے 3 سال میں ,کی حکومت نے لینڈنگ کی اجازت دی تو ہر چیز ٹھیک تھی،ہم نے 4 جون سے ایونٹ شروع کرنا تھا لیکن بعد میں ابو ظہبی حکومت کے قوانین تبدیل ہوگئے.جنوبی افریقا و بھارت سے پروازوں کی معطلی ہوئی تومسائل آڑے آگئے.ہم 4 جون سے کام شروع کرنا چاہ رہے تھے.
ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں
وسیم خان نے سویرا پاشا کے یوٹیوب چینل پر کہا ہے کہ ہم نے 400 ویزا درخواستیں دیں،اس پر وقت لگ گیا،ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا،ببہت سی باتیں بیک اپ میں ہورہی تھیں،پھر تیکینیکی آفیشلز کے حوالہ سے ہمیں کہا گیا کہ بھارت سے آنے والے آفیشلز کو ابو ظہبی سے جاکر دبئی قرنطینہ کرنا ہوگا لیکن پھر یہ کہ ان کی ابو ظہبی واپسی ممکن نہیں ہوتی،ہمیں حلومتی شخصیات کو درمیان میں لانا پڑا،ایمبیسڈرز بھی کام کر رہے تھے ،ہمارے کنٹرول میں نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ہم نے 3سے4 شیڈول بنائے تھے.
نااہلی یا بے ظابطگی کے الزامات
وسیم خان نے کہا ہے کہ ہم پر نااہلی یا بے ظابطگی کے الزامات لگے جو غلط تھے،ہمارے لوگوں نے صبح 4 بجے تک کام کیا .وسیم خان کہتے ہیں کہ پاکستان میں این سی او سی حکام نے ہمیں واضح کہا تھا کہ یہاں ایونٹ نہیں ہوسکے گا،مئی میں کورونا کے کیسز اوپر جارہے تھے اس لئے یو اے ای میں آنا پڑا،اب اگر پاکستان کے حالات اب اچھے ہیں تو اس وقت تو کچھ نہیں بول سکتے تھے.پی سی بی کے سی ای او وسیم خان نے کہا ہے کہ پاکستان یو اے ای کی ریڈ لسٹ میں تھا،ہمیں اجازت لینی پڑی،غلطیاں تو ہر کام میں ہوتی ہیں لیکن ہماری غلطیاں بڑی یا خاص نہیں تھیں،ہم نے یو اے ای کرکٹ حکام سے مل کرکام کیا ہے. چھوٹی غلطیاں بڑے کاموں میں ہوتی رہتی ہیں لیکن بڑی غلطیاں برداشت نہیں ہوتی ہیں. وسیم خان اگلے 3 سال میں
آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان آرہی ہے
وسیم خان نے کہا ہے کہ فروری،مارچ 2022 میں آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان آرہی ہے ،پھر پی ایس ایل 7 ہوگی،اس سے قبل ونڈو نہیں تھی،اس لئے ایونٹ کو مکمل کرنا نہایت ضروری تھا لیکن صرف دولت کی خاطر صرف یہ سب نہیں کیا.فرنچائزز نے بھر پور تعاون کیا ہے،انہوں نے ہمیں بہت سپورٹ کیا ہے.پی سی بی کے چیف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر کوئی تنقید پر لگا ہے،ہمارے لوگ محنت کرتے رہے،ایسی غلط تنقید پر دکھ ہوتا ہے،ہر کوئی اپنی بات کر رہا ہے،کسی کو حقائق کا علم نہیں ہے،یو اے ای میں ایونٹ کروانے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا البتہ آمدنی میں کمی ہوگی،ہمارے لئے اہم تھا کہ فرنچائزز کو نقصان نہیں ہونا چاہئے.نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیمیں اس سال ستمبر اور اکتوبر میں پاکستان آئیں گی،پی ایس ایل 6 کو یو اے ای میں کروانے سے پاکستان کی سیریز کو کوئی خطرہ نہیں ہے.وسیم خان نے انکشاف کیا ہے کہ اب باہر کی ٹیمیں سکیورٹی کی نہیں کورونا اور بائیو سیکیور کی باتیں کرتی ہیں.یہ بات ہمارے لئے نہایت ہی اہم ہے. وسیم خان اگلے 3 سال میں

مجھ پر تنقید

وسیم خان نے کہا ہے جب مجھ پر تنقید ہوتی ہے تو میں سوچتا ہوں کہ میں پاکستان کیوں آیا ہوں تو تھوڑی دیرکی تکلیف کے بعد مجھے اپنا مشن یاد آتا ہے کہ پاکستان کرکٹ کو بہتر کرنا ہے،لوگ مجھ پر تنقید کرتے ہیں،ایک ایسا بھی ہے کہ جو اپنے بچوں کو انگلیند میں تعلیم دلوارہا ہے اور ساتھ میں مجھ پر تنقید ہوتی ہے کہ یہ انگلینڈ کا آدمی پاکستان کیوں لایا گیا،میں کہتا ہوں کہ تم اگر پاکستان کی اتنی ہی بات کرتے ہو تو اپنے بچوں کو بھی واپس اپنے ملک لائو،تاکہ پاکستان زندہ آباد کا یقین آجائے.خود تو ملک سے نکل رہے ہیں بلکہ جو غیر ملکی کام کرنا چاہتے ہیں ان پر تنقید کرتے ہیں،3یا 4 ایسے ہیں کہ جو نام نہاد صحافی بنے ہیں،شاید کبھی بیٹ بھی نہ پکڑا ہو،24 گھنٹے میری ذاتی زندگی پر اٹیک کرتے ہیں،کبھی تنخواہ کی بات تو کبھی میرے باہر سے کام کرنے کی بات.

وسیم خان کا انکشاف

وسیم خان نے انکشاف کیا ہے کہ کرکٹ فینز سے مجھے 90 فیصد سپورٹ ملتی ہے لیکن ایسے لوگ کیسے صحافی ہیں جو کرکٹ پر نہیں میری ذاتی زندگی پر ڈسکس کرتے ہیں،یہ نان سینس ہیں،مجھے باہر کےمیڈیا والے میسج کرتے ہیں کہ آپ کے ملک میں یہ کیا سرکس ہے جو انہوں نے لگائی ہے،میں ابھی ان کے نام نہیں لیا لیکن اب میں بھی ان کو اہمیت نہیں دیتا،میرے 6 ماہ باقی رہ گئے ہیں،ان کا خیا ل تھا کہ میں بھاگ جائوں گا لیکن آگے ابھی لمبے پلان ہیں،غیر ملکی ٹیموں کی آمد کے ساتھ متعدد اور کام ہیں،ورلڈ کپ کی میزبانی کے لئے ہم جارہے ہیں.وسیم خان نے کہا ہے کہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں ذاتی تعلقات کی بنیاد پر بھی آرہے ہیں،ورنہ ان دونوں ممالک کے اصل دورے تو اگلے سال شیڈول ہیں. میرے ساتھ ان ممالک کا گہرا تعلق ہے.وسیم خان نے بعض صحافیوں کا نام لیا ہے کہ وہ اچھا کم کر رہے ہیں لیکن 2 یا 4 ایسے ہیں جو فیملیز پر بولتے ہیں ،ایک جانب بسم اللہ اور الحمد للہ بولتے ہیں تو دوسری جانب یہ کام کرتے ہیں.وسیم خان نے کہا ہے کہ ایک آدمی ایسا ہے جس کے میسجز کے جواب میں نہیں دیتا،میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انفارمیشن و خبریں مانگنے کے لئے یہ حرکتیں کرتے ہیں ،جب نیوز نہ دیں تو پیچھے لگ جاتے ہیں.خبریں دے دیں تو سب ٹھیک ہوتا ہے.
تہائی حصہ شائع
کرک سین نے وسیم خان کے انٹرویو کا تہائی حصہ شائع کیا ہے،انہوں نے اور بھی بہت سی باتیں کی ہیں،پی ایس ایل میں ایک ٹیم کے مشروط انداز میں بڑھانے کا بھی انکشاف کیا ہے لیکن میڈیا سے کئے گئے ان کے گلے شکوے کرک سین نے پیشہ وارانہ ذمہ داری سمجھتے ہوئے رپورٹ کئے ہیں جیسا کہ یو ٹیوب پر انٹرویو کرنے والی خاتون صحافی سویرا پاشا نے اسے نشر کیا ہے .کرک سین کے پلیٹ فارم سے پی سی بی پر تنقید بھی ہوتی ہے،اس لئے جوابی تنقید کا شائع کرنا بھی ضروری ہے . اس انٹرویو سےایک بات اورواضح ہوئی ہے کہ وسیم خان اگلے 3 سالہ دور کی پیشکش بھی قبول کرنے والے ہیں،وہ نہ صرف پر عزم ہیں،ساتھ میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ میں کہیں نہیں جارہا اورمیں سارے کام کروں گا،اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ موجودہ پی سی بی چیئرمین احسان مانی بھی دوسرے دور ملازمت کو قبول کرلیں گے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.