وسیم اکرم بھی بڑبڑانے پر مجبور،پی ایس ایل ٹیموں کا اہم رازچوری

عمران عثمانی
Image By Twitter/Karachi kings
پاکستان سپر لیگ 6 میں اتوار کو کھیلے گئے میچ میں بھی ٹاس جیتنے والی ٹیم ہی میچ کی فاتح قرار پائی ہے۔کرک سین نے تیسرے میچ سے یہ نکتہ پکڑ لیا تھا کہ یہ روایت چیلنج ہے ،آخر کون بدلے گا اور کیسے الٹے گا،ہر روز کرک سین نے باقاعدگی سے اس کا ذکر کیا لیکن مجال ہے کہ کوئی کپتان یا ٹیم یا اس کی منیجمنٹ اس گرداب سے باہر نکل پائی ہو۔روایتی حریفوں کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے میچ میں بھی یہی کچھ ہوا۔186کے جواب میں قلندرز کی 33 پر 3 وکٹیں گر گئیں اور پھر 152 پرجب فخر آئوٹ ہوئے تو جیت کا یقین ہوا،پھر جب آخری 2 اوورز میں قلندرز کو 30 رنزدرکار تھے تو پہلی بار شائقین نے وسیم اکرم کو کچھ قابل اعتماد پایا لیکن 19ویں اوور میں محمد عامر کو پڑنے والے 20 رنزنے کہانی لپیٹ دی۔اس موقع پر وسیم اکرم کی مایوسی قابل دید تھی،اس موقع پر ان کے لبوں سے مخصوص جملہ بھی نکلا،قلندرز نے بھی کراچی کی پاکٹ سے میچ چھین لیا۔
فخر زمان رستم زماں،پی ایس ایل روایت بھی مدد کو آگئی،قلندرز نے کنگز کوپچھاڑ دیا
سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی منیجمنٹ کے ہوتےہوئے تمام 6 ٹیمیں اس مسئلہ کو کیوں سمجھ ہی نہیں پائیں کہ ٹاس ہارنے کا مطلب میچ ہارنا نہیں ہے بلکہ اچھی پلاننگ کے ساتھ فتح سمیٹی جاسکتی ہے،چند ماہ قبل یو اے ای میں کھیلی گئی آئی پی ایل میں بھی یہی کچھ ہورہا تھا کہ پھر ٹیموں نے پہلے کھیل کر 220 سے اوپر اسکور بنانے شروع کئے اور میچ بھی جیتے،آخرپہلے کھیلنے والی ٹیم یہ کیوں طے نہیں کرلیتی کہ کچھ بھی ہو،انہوں نے اسکوربورڈ پر 220 کا مجموعہ سیٹ کرنا ہے۔اس کی پلاننگ یا کوشش کرنے میںحرج ہی کیا ہے ،کیا ایسا کرنے کا راز چوری ہوگیا ہے؟کیا یہ فرض ہو گیا ہے کہ پہلے بیٹنگ کرنے والی سائیڈ نے 200 اسکور پورنے نہیں کرنے اور 185 سے 199 کے درمیان ہی رہنا ہے۔یہ بڑا سوال ہے کہ بعد میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم آخری 3 اوورز میں درکار 36 رنز 13 بالز پر بنالیتی ہے جبکہ پہلے بلے بازی کرنے والی ٹیم آخری 3 یا 4 اوورز میں 25 یا 30 سے زائد اسکور کیوں نہیں بناتی۔
پی ایس ایل 6 کے 11 میچز کے بعد پشاور زلمی اور قلندرز کے 6،6 پوائنٹس ہوگئے ہیں لیکن زلمی کو نیٹ رن ریٹ کی وجہ سے پہلی پوزیشن حاصل ہے۔کراچی تیسرے اور اسلام آباد چوتھے نمبر پر ہیں،دونوں کے 4،4پوائنٹس ہیں جبکہ ملتان 2 کے ساتھ 5ویں اور کوئٹہ صفر کے ساتھ آخری نمبر پر ہے۔
11 میچز کے بعد ایک بات تو واضح ہوئی کہ 6،6 پوائنٹس لینےوالی پشاور اور لاہور کی ٹیمیں ہوں یا صفر پر رہنے والی کوئٹہ ٹیم،سب کی سب نامکمل ہیں،کمزور ہیں،ایک جیسی ہیں اور ایک حد تک ناکام ہیں ،جس روز فیلڈنگ کرنے والی ٹیم اپنے بنائے گئے اسکور کا دفاع کامیابی سے کرکے جیتے گی،وہ ٹیم دوسری ٹیم سے ممتاز ہوگی،اس لئے وسیم اکرم کو افسردہ شکل بنانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ کوچنگ اسٹاف کے ساتھ مل کر اس کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہی روش تمام ٹیمیں اپنائیں تو بات بنے گی۔اسے چیلنج کے طور پر قبول کرنا ہوگا اور پھر جیت کر ثابت بھی کرنا ہوگا.