وسیم اکرم کی پہلی ٹیسٹ سنچری،پارٹنر عمران خان،تاریخ کون سی،مقام کہاں،حریف کون

عمران عثمانی
Image By crictracker
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بائولر وسیم اکرم اہم مواقع پر اپنی بیٹنگ سے بھی پاکستان کے لئے بہت کچھ کر گئے ہیں،زمبابوے کے خلاف انہوں نےڈبل سنچری بھی اسکور کر رکھی ہے،ورلڈ کپ 1992کے فائنل میں انہوں نے پاکستانی اننگ کے آخری لمحات میں 18بالز پر تیز ترین 33 رنزبناکر پاکستان کامجموعہ 249تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا،پھر یہی نہیں بلکہ انہوں نے بائولنگ میں مشکل وقت پر ایلن لیمب اور کرس لیوس کو اپنی تیز ترین ان سوئنگ بائولنگ پر اوپر تلے بولڈ کرکے پاکستان کی فتح پر مہر ثبت کردی تھی،این بوتھم کو صفر پر شکار اس سے قبل ہی کرلیا تھا۔
وسیم اکرم نے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری کب،کہاں اور کن حالات میں بنائی؟یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے۔
لیفٹ آرم پیسر نے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری انتہائی مشکل اور نامساعد حالات میں31برس قبل آج کے دن اسکور کی اور ان کے پارٹنر عمران خان تھے۔1990 کا ایڈیلیڈ ٹیسٹ تھا۔پاکستان پہلی اننگ میں 84رنزکے خسارے میں چلا گیا تھا اور دوسری اننگ میں 90 پر 5کھلاڑی آئوٹ ہوگئے تھے،گویا میچ ہاتھ سے نکل گیا تھا۔
یہ موقع تھا اور آسٹریلیاکا گرائونڈ تھا اور میزبان بائولرز پوری طرح حملہ آور تھے۔
پاکستان نے پہلی اننگ میں257 اسکور کئے تھے۔جاوید میاں داد اور وسیم اکرم 52،52 کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے تھے۔آسٹریلیا نے ڈین جونز کی سنچری کی وجہ سے 341 رنزکئے۔وسیم اکرم نے 100رنز دے کر 5 اور وقار یونس ،عمران خان نے 2،2وکٹیں لیں۔دوسری اننگ 84کے خسارےسے شروع کرنے والی گرین کیپس کے آدھے کھلاڑی 90پر باہر تھے،مطلب 6رنز پر 5آئوٹ ہوگئے تھے۔یہ چوتھے روز کی صبح کا کھیل جاری تھا۔ایسے میں وسیم اکرم عمران خان کا ساتھ دینے آئے۔دونوں نے چھٹی وکٹ پر 191رنزکا اضافہ کیا۔وسیم اکرم نے کیریئر کی پہلی سنچری 22جنوری 1990کو بناڈالی،وہ 123رنزبناکر آئوٹ ہوئے،عمران خان نے 136کی اننگ کھیلی،پاکستان نے9وکٹ پر387رنزکے ساتھ اننگ ڈکلیئر کرکے آسٹریلیا کو فتح کے لئے304رنزکا ہدف دیا،میزبان ٹیم 6وکٹ پر233رنزبناسکی تھی کہ میچ ڈرا پر ختم ہوگیا۔وسیم اکرم میچ کے ہیرو قرار پائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں