انتظار کی گھڑیاں ختم،ٹیسٹ کرکٹ کا سپر فائنل آج سے شروع،ٹاس کس کا،میچ کس کا،جانئے اس رپورٹ میں

0 7

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کےاہم ترین معرکہ کاوقت آن پہنچا ہے،انگلینڈ کے شہر سائوتھپمٹن کے ایجز بول گرائونڈ میں پہلی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائن آجانتظار کی گھڑیاں ختم،ٹیسٹ ,جمعہ 18جون سے کھیلا جارہا ہے،نیوزی لینڈ اور بھارت کی ٹیموں کافوٹو سیشن بھی ہوگیا ہے اور ٹیسٹ فائنل کی یادگار شام بھی منالی گئی ہے،اب جمعہ سے خوفناک ٹاکرا شروع ہوگا.ویسے تو اتفاق سے یہی 2 ٹیمیں ہی اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ کی ٹاپ 2 پوزیشن پر ہیں،ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بھی دونوں نے ٹاپ کیا ہے اور فائنل کے لئے تیار ہیں.
چیمپئن شپ کا فائنل
جمعہ سے کھیلے جانے والا ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل در اصل یہ فیصلہ کرے گا کہ 2 سال کا اصل ورلڈ چیمپئن کون تھا اور جو بھی جیتا تو وہ اگلے 2 سال تک اس اعزاز کا دفاع کرے گا.انگلینڈ کے لئے یہ وقت باعث شرمندگی کا ہے کہ اپنے آپ کو ٹیسٹ کرکٹ کی اصل ٹیم کہلانے والی سائیڈ تماشائیوں کی طرح باہر بیٹھے گی،سب سے زیادہ 21 ٹیسٹ میچز کھیلنے اور 11 فتوحات کے ساتھ دوسری کامیاب ترین ٹیسٹ ٹیم یہ سب کرکے بھی فیصلہ کن میچ کے لئے کوالیفائی نہیں کرسکی ہے.ایجز بول سائوتھمپٹن میں موسم نے بھی کھیلنے کی تیاری کرلی ہے.کرک سین نے اپنے گزشتہ تجزیہ میں لکھا تھا کہ میچ کے 4 دن ،حتیٰ کہ متبادل دن بھی بارش ہوسکتی ہے،یہ پیش گوئی اب بھی قائم ہے ،اب تو تمام 6 روز بارش کی مداخلت کی پیش گوئی کی گئی ہے،آئی سی سی نے متبادل دن ضرور رکھا ہے لیکن یہ ایک مکمل دن بارش کی نذر ہونے یا پہلے 4 دن کے 83 اوورز بارش کی نذر ہوجانے کی صورت میں قابل استعمال ہوگا،اگر اس سے کم اوورز ضائع ہوئے تو ٹیسٹ میچ کے چھٹے روز 23 جون کو متبادل دن نہیں کھیلا جائے گا.اسی طرح میچ ڈرا ہورہا ہوا یا کچھ بھی ایسی مداخلت ہوئی تو بھی 5ویں د میں میچ نہیں جائے گا اور ڈرامیچ سے انعامی رقم برابر تقسیم ہوگی اور دونوں ٹیمیں مشترکہ چیمپئن کہلائیں گی.
ایجز بول کی پچ اسپنرز کے لئے بھی ساز گار
کرک سین تحقیق کے مطابق ایجز بول کی پچ اسپنرز کے لئے بھی ساز گار ہوگی،اس لئے بھارت نے تو اپنے اسکواڈ میں 2 اسپنرز کھلانے کا فیصلہ کرلیا ہے.روی چندرنا یشون کے ساتھ،روندرا جدیجا اسپن اٹیک سنبھالیں گے جبکہ فاسٹ بائولرز میں جسپریت بمراہ،محمد شامی اور ایشانت شرما ہونگے. شبمین گل اور روہت شرما اوپنرز ہونگے،اگلے بیٹسمینوں میں ویرات کوہلی،چتشور پجارا،اجنکا رہانے،رشاب پانت ہونگے. دوسری جانب نیوزی لینڈ ٹیم کے پاس بھی کمال اسٹرینتھ ہے ،اس بات سے انداز ا لگالیں کہ انگلینڈ کے خلاف جس ٹیم نے آخری ٹیسٹ میچ جیتا اور تاریخی سیریز اپنے نام کی ہے،کیویز کے لئے وہی کافی نہیں ہے بلکہ اسکواڈ میں 6 بڑی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں.لارڈز میں ڈبل سنچری بنانے والے ڈیون کونوے تاریخی ٹیسٹ کھیلیں گے،اسی طرح کپتانی بھی کین ولیمسن کریں گے،ٹام لیتھم اور راس ٹیلر جیسے تجربہ کار بیٹسمین ہونگے،ہنری نکولس کے ساتھ واٹلنگ کا تجربہ ہوگا.ٹرینٹ بولٹ ایک خطرناک ہتھیار ہونگے،اسی طرح ان کے ساتھ نیل ویگنار اور ٹم سائوتھی جیسا نہایت ہی خطرناک ترین گیند باز ہوگا.گرینڈ ڈی ہوم اپنے پیس سے پیسرز کی اور اپنے بیٹ سے بلے بازوں کی مدد کریں گے جبکہ اعجاز پٹیل اسپن کا جادو جگائیں گے.
نیوزی لینڈ کی ا چھی یادیں
ایجزبول سائوتھمپٹن میں نیوزی لینڈ کی ا چھی یادیں وابستہ ہیں ،اس نے یہاں آخری 8 سالوں میں محدود اوورزکے 2میچزکھیلے اور جیتے ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں بھارتی ٹیم کا ریکارڈ خاصا خراب ہے،اس نے یہاں انگلینڈ کے خلاف گزشتہ 7 سال میں 2 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں اور دونوں میں اسے بڑی شکست ہوئی ہے.آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پر دنیا کی نگاہیں مرکوز ہونگی،یہ ایونٹ شروع بھی اس لئے ہوا تھاکہ ٹیسٹ کرکٹ میں دلچسپی پیدا کی جائے.لوگوں کی توجہ ہو اور طویل فارمیٹ کو نئی جہت ملے،گزشتہ 15 ماہ سے کوروناکی وجہ سے متعدد سیریز ملتوی ہوئی ہیں اور ایونٹ کے پوائنٹس سسٹم کا فارمیٹ بھی بدلا گیا تھا،اس لئے بہت سے لوگ اس پر وہ توجہ نہیں کرسکے ،جس کا یہ ایونٹ حق رکھتا تھا،دونوں ٹیمیں آئی سی سی ایونٹ کی امیدوار ہیں.دونوں کے پاس اسوقت آئی سی سی کا کوئی کرائون نہیں ہے،انگلینڈ ورلڈ کپ،ویسٹ انڈیز ورلڈ ٹی 20 اور پاکستان چیمپئنز ٹرافی کا چیمپئن ہے،اس طرح آئی سی سی ایونٹ کے لئے گھمسان کا رن پڑسکتا ہے.ضرورت اس امر کی ہوگی کہ کرکٹ فینز کو ایک دلچسپ،اچھا،کرکٹ تیکنیک سے بھر پور میچ دیکھنے کو ملے.
فائنل کون جیتے گا
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل کون جیتے گا،اس سے قبل ٹاس کا سکہ کس کے حق میں جاسکتا ہے؟بھارتی کپتان ویرات کوہلی قسمت کے دھنی ہیں،ٹاس جیت سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ پہلے بلے بازی کریں کہ چوتھی اننگ میں کیویز کو اسپنرز سے باندھنے کا پلان رکھتے ہونگے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ چوتھی اننگ تک معاملہ ایسے ہی فیورٹ انداز میں جائے،نئے میدان اور نئی پچ پر ابر آلود موسم میں پہلے بیٹنگ والی سائیڈ کے پر خچے اڑ سکتے ہیں اور یہ کارنامہ کیوی پیسرز کرسکتے ہیں. پاکستان کے وقت کے مطابق ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل اڑھائی بجے دوپہر شروع ہوگا.محکمہ موسمیات کی پیش گوئی بیان کی جاچکی ہے جبکہ وکٹ میں سب کے لئے مدد موجود ہوگی،دونوں ٹیموں کے دیگر اعدادوشمار و دلچسپ معلومات کے لئے اوپر دیئے گئے لنک پر کلک کریں.ٹی وی پر ٹیسٹ میچ دیکھنے والوں کے لئے دلچسپی کی بات یہ ہوگی گرائونڈ میں 4ہزار تماشائی موجود ہونگے ،اس سے زائد کو اجازت نہیں ہے.میچ کے دوران کووڈ ٹیسٹ مثبت آنے پر متبادل پلیئر کھیلے گا جبکہ ایک سے زائد کیسز پر بھی میچ ملتوی نہیں کیا جائے گا.
نیوزی لینڈ ہی چیمپئن
ٹاس کا ذکر بھی ہوگیا،متوقع فیصلے کا بھی،سوال یہ ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا ٹائٹل کون جیتے گا.2 سال قبل انگلینڈ میں ہی کیوی ٹیم ورلڈ کپ فائنل میں پہنچی تھی لیکن فائنل میں انگلینڈ سے بدقسمتی اور قانون کے باعث ہار گئی تھی ،اس بار بھی اسے آئی سی سی فائنل ملا ہے،ایسا لگتا ہے کہ نیوزی لینڈ بھارت کو آئوٹ کلاس کردے گا اور ٹیسٹ چیمپئن شپ جیت جائے گا،حالانکہ بھارتی ٹیم زیادہ فیورٹ ہے اور بہت سے لوگوں کی نگاہ میں جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے.کرک سین کا ماننا ہے کہ یہ فائنل نیوزی لینڈ جیت سکتا ہے اوریا ڈرا پر بھارت کے ساتھ مشترکہ چیمپئن بن سکتا ہے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.