وہاب ریاض کا کردار پھوپی والا، نیوزی لینڈ میں قید کاٹی، بابر کو اب بھی ڈانٹ پڑتی،امام الحق کے انکشافات

رپورٹ،عمران عثمانی

Image By mensxp.com
دورہ نیوزی لینڈ میں قومی ٹیم کے ساتھ جڑی 14 روزہ قید کی یادیں جہاں گزشتہ دنوں محمد حفیظ نے بیان کی ہیں،وہاں اب امام الحق بھی سادہ الفاظ میں بول گئے ہیں.کامران اکمل کے ساتھ ان کے یوٹیوب چینل پر پاکستان کے اوپنر نے کئی دلچسپ باتیں کی ہیں.
ڈیبیو میچ میں سنچری کرنے والے پاکستان کرکٹ ٹیم کےاوپنرامام الحق نے کہا ہے کہ میں ایک ہفتہ میں مکمل فٹ ہوجائوں گا لیکن مجھے ابھی تک پاکستان کپ کھیلنے کی اجازت نہیں ملی،ڈاکٹر سہیل سے جلد مل کر اس حوالہ سے رہنمائی لے لوں گا۔2017میں سری لنکا کے خلاف ڈیبیو پر سنچری کرنے والے امام الحق نے کہا ہے کہ اپنے چاچو انضمام الحق کی وجہ سے شروع میں بڑی مشکلات رہی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس سال میں نے متعدد ایونٹس میں اچھے رنزکئے تھے لیکن ایسا خیال نہیں تھا کہ مشکل آئے گی لیکن انضمام سے تعلق ہونے کی وجہ سے ناجائز باتیں بھی سنیں۔3 سال میں بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔
کرکٹر پیسہ ضرور کمالیتا ہے لیکن گرائونڈ میں آنے کے بعد جتنی مشکلات پیش آتی ہیں،وہ عام آدمی کو نہیں پتا،بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔کلب کرکٹ سے بہت کچھ سیکھا۔کلب کرکٹ کی مدد سے ہی میں وائٹ بال کرکٹ کا پلیئر بنا۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کلب کرکٹ 6 سال قبل والی نہیں رہی،حالت بری ہے،اب ٹورنامنٹس نہیں ہورہے۔امام کہتے ہیں کہ پیدا میں ملتان میں ہوا،پڑھنے کے لئے ہم لاہورآگئے،اپنے بھائی کو دیکھ کر کرکٹ شروع کی،ملتان سے لاہور شفٹ پڑھنے کے لئے ہوئے تھے لیکن پھر کرکٹر بن گیا۔اپنے چاچو انضمام سے ڈر لگتا تھا لیکن اب نہیں لگتا کیونکہ ان کی پرسنالٹی بھی ایسی ہے،ان سے مجھے دماغی طور پر مضبوط ہونے میںمدد ملی۔
امام کہتے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ مختلف فارمیٹ ہے،اس میں بڑا مضبوط ہونا چاہئے ،شروع میں نہیں چل سکا،میری اپنی غلطیاں ہیں کہ بہتر نہیں کرسکا،بڑی اننگ نہیں کھیل سکا،اب 18 ماہ سے باہر ہوں،میرا خیا ل ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ بھی وائٹ بال کرکٹ کی طرح کھیلا اور ناکام رہا،اب کافی بہتر کیا ہے،اب موقع ملا تو ضرور فائدہ ہوگا۔

امام الحق کہتے ہیں کہ کووڈ کے بعد انگلینڈ کا دورہ تھا،بڑا آسان تھا،انہوں نے گیمز بہت دیں،35 اور 40 کھلاڑی تھے،متعدد گیمزتھیں،ان میں انجوائے کیا،پریکٹس کی سہولت دی،بیڈمنٹن کورٹ
بنوادیئے،انہوں نے بہت تعاون کیا،گیمز کے دوران لڑائیاں بھی خوب ہوئیں،جہاں وہاب ریاض ہوں،وہاں پھوپی والا کام نہ ہو،یہ نہیں ہوسکتا۔نیوزی لینڈ کا دورہ ایک مختلف تجربہ تھا،میرے لئے نیوزی لینڈ کا دورہ مشکل ترین تھا،کمروں میں الگ الگ بند،صرف 30 منٹ کی واک مل سکتی تھی۔دماغی طور پر شدید مشکلا ت تھیں،کمروں کےا ندر سے ایک دوسرے کو آواز تک نہیں دے سکتے تھے۔دماغی طور پر یہ سب مشکل تھا لیکن اس کے بعد کے حالات آسان ہوگئے اور اتنے آسان ہوئے کہ وہ مشکل بھول گئی۔
انٹرویو کے دوران کامران اکمل نے بھی دلچسپ چٹکلے چھوڑے،ڈومیسٹک،قومی کرکٹ اور پی ایس ایل کے کئی واقعات کی یاد تازہ کی۔کامران اکمل نے کچھ اپنے تجربات بھی شیئر کئے۔
کامران اکمل نے امام کو کہا کہ شکر کرو کہ تم نے ان کے دور میں کرکٹ نہیں کھیلی،وہ یہ نہ دیکھتے کہ تم کون ہو لیکن وہ تمہارے کیریئر کے 700کی بجائے 1400 ون ڈے رنز ہوتے۔انضمام بہت بڑے کھلاڑی اور بہترین کپتان تھے۔امام نے کہا یہی بات مجھے شعیب اور حفیظ کہتے ہیں،میں ان سے اب بھی سیکھتے ہیں۔
امام نے بتایا ہے کہ بابراعظم کو ان کے والد سے شروع میں مار پڑی،ڈانٹ بھی پڑی۔بعد میں انہیں پالش کرتے گئے۔بابر کو اب بھی غلطی کرنے پر ڈانٹ پڑتی ہے۔یہ بات بڑی مفید رہی ہے،بابراعظم کو میں نے ٹینشن لیتے دیکھے نہیں دیکھا،وہ اپنے وقت کا انتظار کرتے ہیں۔یہ بات ان کو دوسروں سے ممتاز بناتی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں