انٹر ا اسکواڈ میچ میں عثمان قادر کا ٹیم منیجمنٹ کو کرارا تھپڑ،یونس کے انکشافات کے بعد پی سی بی کی مجرمانہ خاموشی،جنگل کابورڈ

0 9

دورہ انگلینڈ کے پہلے انٹرا اسکواڈ میچ میں لیگ اسپنر عثمان قادر نے قومی ٹیم منیجمنٹ کو شرمندہ کردیا ہے،مصباح،وقار اور بابر اینڈکمپنی کی ایک  انٹر ا اسکواڈ میچ میں عثمان, عرصہ سے جاری سلیکشن پالیسی پرکاری ضرب لگی ہے کیونکہ عثمان قادر نے انگلینڈ کی وکٹ پر آئوٹ کلاس کارکردگی پیش کرکے یہ سوال کیا ہے کہ انہیں مستقل طور پر پاکستان کی حتمی الیون میں جگہ کیوں نہیں ملتی ہے،کئی دوروں سے پاکستان کی ٹیم کے ساتھ رہنے والے عثمان قادر اکثر ڈریسنگ روم تک ہی محدود ہوجاتے ہیں.
انٹرا اسکواڈ میچ
آج انگلینڈ میں پاکستان کی ٹیموں کے درمیان انٹرا اسکواڈ میچ میں عثمان قادر نے کلاسیکل گیند بازی کی ہے اور غیر نہیں بلکہ اپنوں کے ہی شکار کئے ہیں،عثمان قادر بابر اعظم الیون کا حصہ تھے،انہوں نے شاداب الیون کے 4 کھلاڑی ڈھیر کئے،اسی وجہ سے شاداب الیون 365رنزکے جواب میں صرف 200پر آئوٹ ہوگئی ہے.شاداب کے عبد اللہ شفیق نے سنچری اسکور کی جبکہ ادھربابر الیون کی جانب سے کپتان بابر اعظم نے 100 اسکور کئے،ان کے علاوہ امام الحق اور سلمان علی آغا نے ہاف سنچریز بنائی ہیں،دونوں سائیڈز میں سے کوئی بھی مزید چل نہیں سکا ہے.ڈربی میں پاکستانی ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں اور پرفارمنسز کے گرد میچ کا دائرہ گھومتا ہے کیونکہ بابر نے سنچری کرلی،امام اور سلمان نے ہاف سنچریز کیں جبکہ دوسری ٹیم کے عبد اللہ نے 106 کئے ،سوال یہ ہے کہ مزید کوئی کھلاڑی کیوں نہیں چلا،بیٹنگ کے کارتوس کہاں چلے گئے.کیوں ناکام ہوگئے.یہ سوال آج کھڑا ہوا ہے جس کا شور انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران ہوگا ،پھر شاید تاخیر ہوجائے .  انٹر ا اسکواڈ میچ میں عثمان
عثمان قادر کے حوالہ سے اہم بحث
یہاں اہم بحث عثمان قادر کے حوالہ سے ہے جن کو پاکستانی ٹیم نظر انداز کرتی آرہی ہے اور اس میں پیش پیش کپتان بابر اعظم ہیں ،ہیڈ کوچ مصباح الحق ہیں اور بائولنگ کوچ وقار یونس ہیں ،منیجمنٹ کے یہ فیصلے سوال طلب ہیں،کیونکہ گزشہ سال زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز میں ڈیبیو پر اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے عثمان کو اگلی سیریز میں سائیڈ لائن کیا گیا تھا،ضروت اس امر کی ہے کہ عثمان قادر کو تینوں فارمیٹ میں کھلایا جائے اور انہیں ریگولر لیگ اسپنر کی جگہ دی جائے ،عثمان قادر نے حالیہ پی ایس ایل 6 میں بھی آئوٹ کلاس کارکردگی دکھائی تھی.پاکستانی ٹیم میں مڈل آرڈر کا مسئلہ پرانا چلا آرہا ہے ،سوال یہ ہے کہ انگلینڈ کے خلاف8جولائی سے شروع ہونے والی ایک روزہ سیریز میں کون یہ ذمہ داری اٹھائے گا،بابر یا رضوان کے اسکور کرنے سے 50 اوورز کرکٹ کا بوجھ اٹھانا ممکن نہیں ہوگا جب تک کہ تمام بیٹسمین اپنی ذمہ داری پوری کریں ،پھر پاکستان ٹی 20 فارمیٹ میں کبھی آصف علی تو کبھی کسی نئے ڈیبیو کے تجربات کرتا چلاآرہا ہے،ورلڈ ٹی 20 کا یہ سال ہے ،اس لئے ابھی سے مستند بیٹسمینوں کو کھلانے کی ضرورت ہے جو جارحیت بھی دکھاسکیں اور دفاع بھی کرسکیں،ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ بیٹسمین 20 اوورز کی کرکٹ میں 150 سے 160 تک رہیں اور 50 اوورز کی کرکٹ میں 270سے اوپر نہ جاسکیں،ایسی کنڈیشن میں بائولرز ایک میچ تو جتوادیں گے ،تمام میچز میں وہ کچھ نہیں کرسکیں گے.  انٹر ا اسکواڈ میچ میں عثمان
کرکٹرز کی پرفارمنس چیک
انٹرا اسکواڈ میچ کرکٹرز کی پرفارمنس چیک کرنے کے لئے ہوتے ہیں،مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ گزشتہ سال انگلینڈ میں اسی مقام پر پیسر سہیل خان بار بار اعلیٰ پرفارم کر رہے تھے لیکن انگلینڈ کے خلاف اسی ٹیم منیجمنٹ نے سہیل خان کو کھڈے لائن رکھا اور نسیم،عباس اور شاہین پر اکتفا کیا جن سے ٹیسٹ میچز میں 130 سے زائد کی اسپیڈ سے بال نہیں ہورہاتھا.ایسی غلطیاں اگر باربار دہرائی جائیں گی تو اب پاکستانی فینز کو شبہ ہوگا کہ ماجراکیا ہے اور پھر وہ یونس خان کی اس حساس بات پر دھیان دیں گے کہ یہاں قومی ٹیم میں کچھ کریکٹر جان بوجھ کر منفی کھیلتے ہیں،وکٹ ایسے وقت گنواتے ہیں کہ جس کا تصور نہیں ہوتا اور حالات سے ہٹ کر چبلی مارنے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں ،یہ ایسی حرکات ہوتی ہیں کہ اس پر توجہ بنتی ہے،ڈانٹ ڈپٹ بنتی ہے،کلاس لگنا بنتی ہے لیکن آفرین ہے کہ ایسے مواقع پر کوچز ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے دانت نکالنے میں لگے ہوتے ہیں،کوچز خاموشی کی تصویر بنے ہوتے ہیں تو یونس خان نے کہا تھا کہ پھر شبہ ہی ہوتا ہے کہ یہ کیسی کرکٹ چل رہی ہے،یہ اصل کھیل ہورہا ہے یا پھر فکسنگ والے کھیل ہیں،چنانچہ یونس خان کی یہ بات اب شائقین کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے رہے گی کہ انگلش وکٹوں پر پرفارم کرنے،وکٹیں لینے والے بائولر کو کھلانے کی بجائے ایک نہیں،2 نہیں بلکہ پورے میچز سے باہر بٹھایا جاتا ہے،ٹیم ہار رہی ہوتی ہے،بائولرز ناکام جارہے ہوتے ہیں لیکن ایک پرفارمن کرنے والے بائولر کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے.کیوں نہیں ہوتی. 
اسٹار ازم اتاردیں گے
پاکستان کرکٹ کے معاملات میں کچھ تو ایسا ہے کہ ہر دورے ماہ کوئی نہ کوئی اٹھ کر انکشافات کی بھرمار کردیتا ہے،کبھی محمد عامر نت نئی باتیں لاتے ہیں تو کبھی محمد حفیظ بہت کچھ بیان کر رہے ہوتے ہیں،کبی یونس خان انکشافات کی بارش کرتے ہیں تو کبھی سابق کرکٹر شعیب اختر بھی بہت کچھ بول جاتے ہیں لیکن پی سی بی کی یہ پالیسی رہی ہے کہ خاموش رہو،تماشا سجائو،دن گزارو اور آگے نکل جائو،یہ ڈھٹائی ہمارے جیسے ملک میں ہی چل سکتی ہے،اب توجہ کریں کہ24 گھنٹے قبل یونس خان نے اپنی پٹاری سے بہت کچھ نکالا تھا لیکن آج پی سی بی کا اس پر کوئی رد عمل نہیں آیا ہے،کم سے کم اس ٹیلی فون کال کرنے والے کے بارے میں تحقیق کا اعلان ہوتا جس میں یونس نے کہا تھا کہ انہیں محمد حفیظ کا نا م لے کر دھمکانے کی کوشش کی گئی ہے کہ دیکھا نہیں کہ ہم نے حفیظ کے ساتھ کیا کیا،اس کا عم زبان میں یہ مطلب بنتا ہے کہ  مسٹر یونس خان،زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے،اسٹار ازم اتاردیں گے،دیکھا نہیں کہ ہم نے حفیظ کو کھڈے لائن لگا کر سیدھا کردیا ہے تو تم کو بھی دیکھ لیں گے،یہ الفاظ ہوں نہ ہوں ،مطلب یہی نکلتا ہے تو کیا پی سی بی کا آج فرض نہیں بنتا تھا کہ اتنی گھٹیا کال کا نوٹس لیتا اور جو بھی ہے،اسے عوام کے سامنے لایا جاتا اور اس پر تادیبی کارروائی بنتی ہے لیکن یہاں جنگل کا راج ہے اور جنگل کی کرکٹ کھیلی جارہی ہے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.