ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا منفرد دن،400 کا ورلڈ ریکارڈ،برائن لارا بدستور ناٹ آئوٹ

ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم اپنے ہی ملک میں وائٹ واش شکست کے خطرے سے دوچار تھی،انگلینڈ نے اوپر تلے 3 ٹیسٹ میچز جیت کر 4میچزکی ٹیسٹ سیریز تو جیت لی تھی لیکن بس اب دلچسپی اس کی یہ تھی کہ کسی نہ کسی طرح کیریبین میدانوں میں میزبان ٹیم کو کلین سویپ کرسکے.برائن لارا کی کپتانی میں کھیلنے والی ویسٹ انڈین ٹیم کے لئے یہ تاریک لمحہ تھا.سینٹ جونز میں 10 اپریل کو شروع ہونے والا ٹیسٹ انگلینڈ کے ماتھے پر 3فتوحات ،سیریز کی جیت کے اثر کو زائل کردے گا،یہ کسی نے سوچا بھی نہ تھا.برائن لارا نے ایک بار پھر وکٹ کو اپنا مسکن بنالیا.یہ ایک بار پھر کیوں ؟

اس لئے کہ یہ برائن لارا ہی تھے کہ جنہوں نے 10 سال قبل اسی انگلینڈ ٹیم کے خلاف اسی میدان میں 375رنزکی سب سے بڑی،ریکارڈ ساز انفرادی اننگ کھیلی تھی اور یہ کسی بھی بیٹسمین کا ٹیسٹ کی اننگ کا ہائی اسکور تھا لیکن اپریل 2004میں جب برائن لارا وکٹ پر رکے تھے تو اس سے صرف 6 ماہ قبل آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن نے زمبابوے کے خلاف پرتھ میں نہ صرف برائن لارا کا ریکارڈ توڑ ڈالاتھا بلکہ ساتھ میں 5رنزفالتو بناکر 380کا نیا ہندسہ سیٹ کر گئے تھے.

برائن لارا نے اپنا 10 سالہ پرانا ریکارڈ 6ماہ کے اندر اس وقت حاصل کرلیا جب شکستوں کے گرداب میں گھری ٹیم کے کپتان نے ایک بار پھر انگلینڈ کو تختہ مشق بنایا.وہ پہلے روز86 پر ناٹ آئوٹ گئے.دوسرے روز313 پر ناقابل شکست تھے اور تیسرے دن یعنی آج 12اپریل کے دن 2004میں وہ 400پر ناٹ آئوٹ واپس آئے.ویسٹ انڈیز نے یہ میچ بچالیا،وائٹ واش سے بچ گئے جبکہ برائن لارا نے 2 کام کئے،پہلا یہ کہ ٹیسٹ کرکٹ کے بہترین انفردی اسکورر کا ٹائٹل واپس لیا اور ساتھ میں 400کے ہندسہ کو چھونے والے دنیا کے پہلے اور اب تک کے واحد بیٹسمین بن گئے.

برائن لارا نے 131 ٹیسٹ میچزکی232اننگزمیںً میں 11953 اسکور کئے.53کے قریب ایوریج رہی.34سنچریز اور 48ہاف سنچریز ان کا خاصہ تھیں.53کے قریب بیٹنگ اوسط تھی.299 ایک روزہ میچز میں10405 اسکور کئے.اپنے کیر یئر کا آخری ٹیسٹ نومبر 2006میںً پاکستان کے خلاف کراچی میں کھیلا جبکہ آخری ایک روزہ میچ انگلینڈ کے خلاف برج ٹائون میں اپریل 2007میں کھیل سکے.ان کا انٹرنیشنل کیریئر 17 سال کے قریب رہا،وہ اپنے زمانہ کے ماسٹرکلاس بیٹسمین تھے.ایک روزہ کرکٹ میں 169 ہائی اسکورتھا جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں انہوں نے 501 کی ناقابل شکست اننگ کھیلی اور حنیف محمد کا ریکارڈ برابر کیا.ایک بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس دونوں میں انہوں نے انفرادی اننگ کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ناٹ آئوٹ رہ کر اننگز تمام کیں،اس کے لئے اہم بات یہ ہے کہ جس نے بھی یہ ریکارڈ توڑنے ہیں وہ بھی ناقابل شکست واپس آئے.