سفری پابندیاں،پاکستان کا دورہ انگلینڈ خطرے میں؟پی ایس ایل متاثر،کائونٹی پلیئرزمشکل میں

تجزیہ:عمران عثمانی

برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستانی شہریوں پر نئی سفری پابندیاں لگ چکی ہیں اور 9اپریل کے بعد کوئی غیر برطانوی پاکستان سے برطانیہ نہیں جاسکے گا.انگلینڈ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ ممالک میں شامل کیا ہے اور یہ پابندی کوروناکے بڑھتے کیسز کی وجہ سے لگائی گئی ہے.پاکستان کی حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر اسد عمر نے اس پر طنزیہ سوال کرکے بہت کچھ کھول دیا ہے لیکن ہماری بحث یہاں سیاسی یا موجودہ فیصلے پر نہیں ہے بلکہ اس بات پر ہے کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ ممالک میں شامل کرنے کا مطلب کیا ہوا .

فوری طور پر اس کا اثر کائونٹی کھیلنے والے پاکستانی کھلاڑیوں پر بھی پڑے گا،محمد عباس کا معاہدہ موجود ہے اور اس کے بعد کئی ڈومیسٹک انٹر نیشنل پلیئرز دوسرے فارمیٹ کے لئے ہر سال انگلینڈ جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے دورہ انگلیند پر کیا اثرات ٔپڑیں گے.پاکستان نے محدود اوور زکی سیریز کے لئے جون میں انگلینڈ جانا ہے اور اسی طرح کئی انگلش کھلاڑیوں نے پی ایس ایل کے لئے پاکستان آنا ہے،پی سی بی اس کے لئے 23مئی کی ابتدائی تاریخ دے چکا ہے اور مئی کاماہ زیادہ دور نہیں ہے.پاکستانی ٹیم کی سیریز تو خیر سے 3ماہ کی دوری پر ہے اور ٹیم کا سفر اڑھائی ماہ کے فاصلے پر موجود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان نئی سفری پابندیوں کا دورانیہ اگر بڑھا تو پاکستانی کرکٹ ٹیم کیسے جائے گی؟ فرض کرلیں کہ اس کے لئے انگلینڈ کی حکومت کوئی راستہ نکال بھی لے تو پاکستانی حکومت اپنی ٹیم کو انگلینڈ کیوں بھیجے گی.وہ بھی ایسے حالات میں کہ کورونا کے اثرات پاکستان سے زیادہ خود برطانیہ پر ہیں اور اسی طرح پاکستان کے علاوہ کئی دیگر ممالک میں زیادہ مہلک اثرات ہیں ،ان پر پابندی نہیں لگی لیکن پاکستان پر پابندی عائد کر کے پاکستانی حکومت،ملکی وقار کو کیا پیغام ملا ہے،ایسے میں پاکستان کی حکومت اپنی ٹیم کیونکر بھیجے گی.

کرک سین کا ماننا ہے کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ ممالک میں شامل کرنے کا فیصلہ واقعی کسی خارجہ پالیسی کا ثمر ہے،بیماری یا طبی طور پر اس کی کوئی گنجائش بنتی نہیں تھی،پھر پاک بھارت ٹی 20 سیریز کے لئے انگلینڈ ایک نیوٹرل مقام کے طور پر سامنے آرہاہے اوراس حوالہ سے ابتدائی کام بھی جاری تھا،اس لئے خارجہ پالیسی کا یہ عکس زیادہ دن اپنا رنگ نہیں دکھائے گا.بیک ڈور پر چلنے والے دیگر معاملات پر جیسے ہی پیش رفت ہوگی،اس میں تبدیلی ہوسکتی ہے،اس لئے فی الحال تو پاکستان کے دورہ انگلیںڈ کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن پی ایس ایل میں آنے والے انگلش پلیئرز اور پاکستان نے انگلینڈ جانے والے کائونٹی پلیئرز کےلئے مسائل آسکتے ہیں.

پاکستان کرکٹ ٹیم نے 8جولائی سے 20 جولائی کے درمیان انگلینڈ میں 3 ون ڈے اور 3ٹی 20میچزکھیلنے ہیں.ون ڈے سیریز ورلڈ کپ سپر لیگ کا حصہ ہے جبکہ پاکستان اور بھارت میں چلتے بظاہر سرد مگر پس پردہ بہتر ماحول میں چلتے معاملات پر پیش رفت سے بھی خطے پر اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں.سابق کپتان اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے آنے والے فیصلے بھی اس میں خوشگوار تبدیلی لاسکتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں