یہ ہے پاکستانی بیٹنگ لائن کا کمال،آسان میچ میں ڈرامائی جیت،سیریز بھی اڑالی

تجزیاتی رپورٹ : عمران عثمانی

کرک سین نے آج میچ کے آغاز اور ٹاس رپورٹ میں واضح لکھا تھا کہ پچ تبدیل ہے ،کچھ بھی ہوسکتا ہے.
کرک سین کے الفاظ کچھ یوں تھے پچ تبدیل ہے،اس لئے کچھ بھی ہوسکتا ہے

پھر وہی کچھ ہوا،اب پاکستانی بیٹنگ پر سب کچھ تھا.بہت کچھ کہا بھی جائےگا اور کوئی پچ کی بات کرے گا تو کوئی کیا لیکن فخرزمان کی بیٹنگ اور بابر کی اننگ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ بیٹنگ آسان تھی.

یہ پاکستانی ٹیم ہے جسے ہاف درجن نوبالز ملیں،ایکسٹراز اسکور ملے،فری ہٹ ملیں،کم اسکور کا ہدف تھا،تھرڈ امپائر مسلسل نوبالز دیئے جارہے تھے لیکن پاکستانی پیسرز فری ہٹ پر کچھ نہ کر پارہے تھے ،میچ مشکل ہورہا تھا کہ نواز نے ٓخری ملنے والی فری ہٹ پر چھکا لگادیا .

چوتھا ٹی 20،ٹاس پھر پاکستان کا،بابر اعظم نے اس بار کیا فیصلہ کیا،ٹیم میں کیا تبدیلی ہوئی

سنچورین کے اسی میدان میں جہاں 2دن قبل پاکستان اور جنوبی افریقا نے 40 اوورز کی بیٹنگ میں 400سے زائد رنزبنائے تھے،وہاں آج چوتھے ٹی 20میچ میں اسکور کرنا دونوں سائیڈز کے لئے مشکل ہورہا تھا،پہلے پروٹیز بیٹسمین زیادہ اسکور نہیں کرسکے تو پاکستان کی جوابی اننگ میں رضوان ایک بار پھر صفر پر گئے جب کہ پچ کے غیر متوقع اچھال اور بال کے رک رک کے آنے سے فخر زمان کی کھوپڑی پر بائونسر بھی پڑا،اس سے اگر چہ ان کی اننگ تو متاثر نہیں ہوئی لیکن وہ تکلیف میں دکھائی دیئے.پھر پاکستان نے بھی دھڑا دھڑ وکٹیں دے کر آسان منزل کو مشکل ترین مشن میں بدل دیا.

اس کے باوجود پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف فیصلہ کن میچ میں3 وکٹ سے پروٹیز کو ہراکر 4میچز کی سیریز 1-3 سے جیت لی.145رنزکے تعاقب میں اوپنر محمد رضوان اگر چہ کھاتہ کھولے بغیر چلے گئے لیکن اس کے بعد بابر اعظم اور ٍفخرزمان نے ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر پاکستان کی جیت آسان کردی.فخرزمان نے اس دوران ہاف سنچری بھی مکمل کی،وہ مسلسل چھکے پر چھکے لگاتے بھی دکھائی دیئے،فخر کی تیز اننگ کی وجہ سےبابر نے سلو بیٹنگ کی.10ویں اوور کاکھیل جاری تھا جب فخرزمان 92کے مجموعہ پر آئوٹ ہوگئے،انہوں نے 34بالز پر 60رنزبنائے،اس میں 4چھکے اور 5چوکے بھی شامل تھے ،پاکستان صرف 53رنزکی دوری پر تھا اور 8وکٹیں باقی تھیں کہ قومی ٹیم کی 5وکٹیں اگلے 23 رنزمیں گر گئیں.بابر اعظم 23 بالزپر24،محمد حفیظ 12بالز پر 10،حیدر علی 6بالزپر3 اور آصف علی 9بالز پر 5رنز کابوجھ ثابت ہوئے،حالت یہ ہوگئی تھی کہ پاکستان جسے زیادہ بالز پر کم اسکور درکار تھے،اب اسکے لئے میچ بچانا مشکل ہوتا جارہا تھا.آخری 24بالز پر 28 رنزدرکار تھے لیکن وکٹ پر رکنے کو کوئی تیار نہ لگ رہا تھا.امیدیں فہیم اشرف اور نواز سے ہوگئی تھیں.پھر 18بالز پر 25 رہ گئے،نبضیں تیز ہونے لگی تھیں.پاکستان نے 9رنزتو بنالئے لیکن اب 12 بالز پر 16رنزکی ضرورت تھی.ایک بال ضائع کرکے اگلی بال پر فہیم اشرف 7رنزبناکر سیدھا کیچ تھماگئے،انہوں نے 11بالز ضائع کیں،پاکستان اب بھی 16رنزکی دوری پر تھا،آخری امید حسن علی وکٹ پر آگئے مگر 2بالز اور ضائع ہوگئیں،پاکستان نے تو سارا ہی اوور ضائع کردیا تھا مگر پروٹیز بائولر نے مسلسل نو بالز اور فری ہٹ دے کر 10رنزبنوادیئے اور پاکستان کو اب 6بالز پر 6کی ضرورت تھی.پہلی بال پر سنگل بنا،دوسری پر بھی سنگل بنا.دونوں کیپس میں موت کا سنا ٹا تھا.تیسری بال پر 2 رنزبنالئے گئے.3بالز پر 2اسکور تھے ،2 بالز باقی تھیں کہ نواز نے چھکا لگا کر پاکستان کو 3وکٹ کی کامیابی دلوادی،نواز21بالز پر 25 کے ساتھ ناٹ آئوٹ آئے.پاکستان نے ایک بال قبل 7وکٹ پر 149 رنزبناکر میچ جیتا،سیریز بھی نام کی.

تبریز شمسی نے 4اوورز میں 21رنزدے کرایک وکٹ لی،سسندا ماگالا نے بھی 2آئوٹ کئے.

اس سے قبل پاکستانی کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا درست فیصلہ کیا،ایک موقع پر جنوبی افریقا کا اسکور 2وکٹ پر 109 تھا لیکن اس کے بعد 35 رنزکے اضافہ سے پوری ٹیم 144پر اس طرح ڈھیر ہوئی کہ اوورز بھی پورے نہ کھیل سکی،اس کی اننگ 3 بالز قبل تمام ہوئی.ڈیئر ڈوسین52 اور جانی مین میلان 33رنزبناکر ٹاپ اسکورر رہے.جنوبی افریقا کے 8کھلاڑی ڈبل فیگر کو نہ پہنچ سکے اور اس طرح پوری ٹیم 144پر فارغ ہوئی.فہیم اشرف نے 17رنزدے کر 3 اور حسن علی نے بھی 40رنز دے کر 3قیمتی وکٹیں حاصل کیں جبکہ حارث رئوف نے 18 رنز دے کر 2 آئوٹ کئے.