تیسرا ٹی 20آج،برتری کے باوجود پاکستان کیوں خطرے میں،انضمام بھی خوف میں

0 45

پاکستان کی ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی 20 میچ میں 7 رنزکی کامیابی کوئی بڑا فرق نہیں ہے،ویسٹ انڈین اننگ میں کھیلی گئی درجنوں ڈاٹ بالز نے ان سے فتح 2 ہٹس کی دوری پر کردی لیکن اہم بات یہ ہے کہ سیریز کا تیسرا میچ زیادہ دوری پر نہیں ہے،میدان تیار ہے اور آج ایک اور میچ دیکھنے کو ملے گا.دونوں ممالک کے درمیان تیسرا ٹی 20 میچ آج اتوار کو اسی گیانا گرائونڈ میں کھیلا جائے گا.
ویسٹ انڈین ٹیم جس نے صرف 158 رنزکا تعاقب کرنا تھا،اسے پروفیسر کی بائولنگ قطعی سمجھ نہیں آئی جنہوں نے 4 اوورز میں صرف 6 رنز دے کر بڑا فرق ڈال دیا،اس کے باوجود جس وقت نکولس پورن مار دھاڑ کر رہے تھے اور تیزی سے اسکور بٹور رہے تھے،ان کے ساتھ موجود کپتان کیرون پولارڈ کا کیا مسئلہ تھا،انہوں نے 14 بالیں کھیلیں اور صرف 13 اسکور کئے،اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے پاکستان کے تمام بائولرز کا سامنا کیا لیکن اس کے باوجود کسی کے خلاف بھی کھل کر نہیں کھیلے،ایسا لگا کہ وہ میچ دیکھنے یا اپنے ساتھی پلیئر پورن کی ہٹنگ دیکھنے آئے ہیں اور خود کھیلنا بھول گئے ہیں،انہوں نے اگر ایک یا 2 بائونڈریز لگائی ہوتیں تو نتیجہ مختلف ہوسکتا تھا،اس لئے بھی کہ پاکستان کا بائولنگ اٹیک اچھی گیند بازی کے باوجود 4 ہی کھلاڑی آئوٹ کرسکا،اس طرح ویسٹ انڈیز کی آدھی سے زیادہ ٹیم کو بیٹنگ کے جوہر دکھانے کا موقع ہی نہیں ملا اور اس میں بڑی رکاوٹ خود کپتان نکولس پورن بنے تھے،پورن نے 13 رنزکی اننگ میں ایک بھی بائونڈری نہیں لگائی اور سلو کھیلتے دکھائی دیئے.پاکستانی نکتہ نظر کے حوالہ سے یہ ایک قابل گرفت سوال ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹنگ اس انداز میں کیوں کی جب کہ ان کےساتھ موجود نکولس پورن نے 190 کے قریب کے سٹرائیک ریٹ سے صرف 33 بالز پر 62 کی اننگ کھیل لی تھی اور اس میں بھی 6 چھکے اور 4 چوکے شامل تھے.
ناقص حکمت عملی کا حل
اس بات کو اگر سامنے رکھا جائے اور ویسٹ انڈیز کی اس ناقص حکمت عملی کا حل سوچا جائے تو حفیظ کے کرائے گئے قیمتی 4 اوورز بھی ناکافی رہنے تھے اور پاکستان نے میچ ہار جانا تھا.سوال یہ ہے کہ کیا آج ہونے والے تیسرے ٹی 20 میچ میں پاکستانی ٹیم اس خطرے سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گی کہ وہ حریف کھلاڑیوں کی غلطیوں کی بجائے اپنی کارکردگی سے جیتے.ویسٹ انڈیزکے خلاف اگر پہلے میچ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ایک بنیادی مسئلہ چل رہا ہے کہ مڈل آرڈر کا فلاپ شو جاری ہے.
یہی وجہ کہ سابق کپتان انضمام الحق نے بھی میچ کے بعد اپنے آفیشل یوٹیوب چینل پر کہا ہے کہ ٹیم 2 کھلاڑیوں کی بیٹنگ پر چل رہی ہے،ایک سال سے بابر اور رضوان ہی اسکور کئے جارہے ہیں،اگر یہ نہ چلیں تو ٹیم ہارجاتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کب تک چلے گا،مڈل آرڈر کی نااہلی چھپانے کے لئے 4اوپنرز کھلائے جارہے ہیں،ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ایک ٹیم 4 اوپنرز کے ساتھ کھیلے.شرجیل کے لئے بابر کو نمبر 3 پر جانا پڑا جب کہ فخر کو اس سے بھی نچلے نمبرز پر بھیجا جارہا ہے.4 اوپنرز کا کھلانا مسئلہ کا حل نہیں ہے اور نہ ہی مڈل آرڈر کا خلا پر کیا جاسکے گا،اس کے لئےتھنک ٹینک کو فوری سوچنا ہوگا.
صہیب اگر اب بھی نہ چلے تو ان کی کہانی ختم ہوگی
کرک سین نے ایک رات قبل اسی وقت لکھا تھا کہ اعظم خان کے ان فٹ ہونے کے بعد صہیب مقصود کو موقع مل جائے گا اور حادثاتی طورپر مسلسل تیسرا موقع پانے والے صہیب اگر اب بھی نہ چلے تو ان کی کہانی ختم ہوگی ،ساتھ ہی ان کی خوش قسمتی و بدقسمتی کا ایک ہی باب اسی عنوان سے رقم ہوجائے گا.صہیب دوسرے میچ میں تو نہ چل سکے،اب آج تیسرا میچ بھی شاید ان کو ملے گا تاکہ یہ گلہ بھی ختم ہوجائے کہ کھیلنے کے بھر پور مواقع نہیں ملے ہیں.ان کے علاوہ محمد حفیظ،فخرزمان اور حسن علی کو بھی اپنے بیٹ سے کچھ کرکے دکھانا ہوگا.مسلسل ناکامیاں ٹیم سے باہر کا راستہ بھی دکھاسکتی ہیں.محمد حفیظ اپنی بائولنگ کی مدد سے ورلڈ کپ تک ٹیم میں رہیں گے،یہ بات اب طے ہے کہ ان سے پورے 4 اوورزکروائے جانے کی پریکٹس شروع ہوچکی ہے.
گیانا میں آج بھی موسم بہتر رہنے کی پیش گوئی ہے لیکن بارش کا ہلکا پھکلا جھٹکا لگ سکتا ہے،اہم بات یہ ہے کہ ٹاس کیسا رہے گا.کرک سین نے گزشتہ روز بھی لکھا تھا کہ پاکستانی ٹیم ٹاس ہاری تو اسے پہلے بیٹنگ مل جائے گی،اہم بات یہ ہے کہ ٹاس جیتنے کی صورت میں بھی پہلے بیٹنگ کریں،اتفاق سے پاکستان ٹاس ہارا تھا اور اسے پہلے بلے بازی مل گئی.یہ اس لئے بھی لکھا تھا کہ بیٹنگ کے مقابلہ میں پاکستان کی بائولنگ بہتر ہے،تو جو چیز زیادہ بہتر ہو،میچ کے اختتامی لمحات میں اس پر اعتماد کرنا چاہئے.یہی پاکستانی بیٹنگ بعد میں کھیل رہی ہوتی تو آخر میں 24 بالز میں 24 رنزکے عوض 6 وکٹیں گنوا کر میچ جیت نہیں سکتی تھی تو آج کے میچ میں بھی اس بات کو ذہن میں رکھنا ہوگا لیکن پہلے بلے بازی کرتے ہوئے اسکور کو 180 سے 200 کے درمیان سیٹ کرنا ضروری ہوگا،اس لئے کہ ضروری نہیں کہ ہر روز حفیظ 4 اوورز میں 6 رنز دیں اور ہر دن حریف کپتان سست بیٹنگ کرے.
عثمان قادر کو بیک کرنا ہوگا
پاکستانی ٹیم منیجمنٹ کو عثمان قادر کو بیک کرنا ہوگا،ان سے گزشتہ روز ایک اوور کروایا گیا،اگر چہ نہیں 11 اسکور پڑے لیکن وہ ایک اسپیشلسٹ لیگ اسپنر ہیں،کپتان اور تھنک ٹینک ان کا اعتماد بحال کرٰیں تو وہ زیادہ موثر ثابت ہوسکتے ہیں،اس لئے ٹیم منیجمنٹ ان پر بھی اعتماد برقرار رکھے اور انہیں مزید کھلائے .
پاکستان نے یہاں بھی اگر وہی غلطی کی جو انگلینڈ میں دوسرے ٹی 20میچ میں کی تھی کہ ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے گئے تھے اور میچ ہارگئے تھے جب کہ اس سے قبل کے میچ میں پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ریکارڈ 232 اسکور کرکے 31 رنز سے میچ جیتا تھا،اب ویسٹ اںڈیز میں بھی پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرکے میچ جیتا ہے لیکن اگر آج ٹاس کا سکہ بابر اعظم کے حق میں گرا تو خوف ہے کہ کہیں وہ پہلے فیلڈنگ کا اعلان نہ کردیں.وکٹ بیٹنگ کے لئے سازگار نہیں ہوگی.کرک سین نے ایک ہفتہ قبل ہی لکھا تھا کہ پاکستان ویسٹ انڈیز میں فیورٹ ہے ،ریکارڈز واعدادوشمار حق میں ہیں لیکن پلان کی بڑی غلطی آج کے میچ میں شکست رقم نہ کروادے،ایسا ہوا تو یہ ناقابل معافی جرم ہوگا کہ پلان کمزور کیوں بنایا گیا ہے.
یہ بھی پڑھیں
دوسرا ٹی 20،پاکستان ویسٹ انڈیز کو ہرانے میں کامیاب،کرک سین پیش گوئی سچ

Leave A Reply

Your email address will not be published.