پھر بارش،ویسٹ انڈین افسردہ،پاکستانی ٹی 20 سیریز کی شکست سے محفوظ

0 24

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تیسرا ٹی 20 میچ بھی بارش کی نذر ہوگیا،گیانا میں میچ سے قبل ہونے والی تیز بارش کے باعث میچ صرف ٹاس کی حد تک ہی گیا،ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا لیکن یہ ارمان دلوں میں ہی رہ گئے کیونکہ اس کے بعد ہونے والی بارش نے قطعی موقع نہیں دیا کہ میچ ممکن ہوسکتا.امپائرز نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 3 بجے اعلان کیا کہ میچ ممکن نہیں ہے،اس لئے ختم کیا جاتا ہے.
پاکستان نے اس میچ کے لئے ٹیم میں ایک تبدیلی کی تھی اور حارث رئوف کو شاہین آفریدی کی جگہ لایا گیا تھا لیکن وہ بھی ایکشن میں نہ آسکے،پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی یہ ٹی 20 سیریز ایک مذاق ہی بن کر رہ گئی ہے کیونکہ پہلے ایک میچ کم کیا گیا اور سیریز 5کی بجائے 4 میچزکی کردی،اس کے بعد پہلا میچ بارش کی نذر ہوا.دوسرے میچ میں پاکستان 7 رنز سے جیتا تھا اور اب یکم اگست کو تیسرا میچ بھی بارش کی نذر ہوگیا ہے،اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں دیکھتی ہی رہ گئیں اور بارش نے نہ صرف یہ میچ بلکہ کسی حد تک سیریز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے.
شکست کےخوف سے آزادی
پاکستان کرکٹ ٹیم اس سیریز میں شکست کےخوف سے نکل گئی ہے کیونکہ اسے اب ناقابل شکست برتری مل چکی ہے،چوتھے اور آخری ٹی 20 میچ میں کامیابی کا مطلب یہ ہوگا کہ سیریز 2-0 سے اس کے نام ہوجائے گی اور شکست کا ٹائٹل کچھ یوں بنے گا کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹی 20 سیریز 1-1 سے برابر ہوگئی ہے اور اگر کسی وجہ سے وہ میچ بھی نہ ہوسکا تو بھی سیریز کی ٹرافی پاکستان کو ملے گی.دونوں ممالک کےمابین آخری میچ میچ 3 اگست کو کھیلا جائے گا.
منگل 3 اگست کو بھی گیانا میں تیز بارش کی پیش گوئی ہے،سارا دن گہرے بادل چھائے رہیں گے ،اس لئے چوتھے میچ پر بھی بادل منڈلارہے ہیں،یہ سیریز دونوں ممالک کے لئے بری ہی ثابت ہوئی ہے کیونکہ ورلڈ ٹی 20 کی تیاری کے لئے رکھی گئی سیریز سے مطلوبہ نتائج نہیں ملے ہیں اور ساتھ میں دونوں سائیڈز اپنے پلیئرز کا مکمل استعمال بھی نہیں کرسکی ہیں .اس موسم میں میچز رکھنے پر میزبان بورڈ کو تنقید کا سامنا ہے کہ یہ میچز کسی بہتر وقت یا مقام پر کیوں نہیں رکھے گئے تھے.
ویسٹ انڈیز میں 2 ٹیسٹ میچز
ٹی 20 سیریزکے بعد پاکستان کو ویسٹ انڈیز میں 2 ٹیسٹ میچزکھیلنے ہیں اور اس کے لئے قومی ٹیسٹ پلیئرز پہلے ہی وہاں جاچکے ہیں اور یہ سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ بنے گی.محدود اوورز کرکٹ کے پلیئرز کو واپس آنا ہے اور اگلے ماہ افغانستان کے خلاف محدود اوورز کی سیریز کھیلنی ہے جو اب ستمبر کے شروع میں رکھنے پر غور ہورہا ہے کیونکہ 19 ستمبر سے یو اے ای میں آئی پی ایل 2021 کے باقی ماندہ میچز کھیلے جائیں گے اور اس کے فوری بعد ورلڈ ٹی 20 کا ایونٹ شیڈول ہے.پاکستان کی افغان سیریز سری لنکا منتقل ہونے کی باتیں بھی ہیں اور ساتھ میں اس کے التوا کا امکان اپنی جگہ موجود ہے.
ادھر دنیائے کرکٹ میں میچز بھی جاری ہیں اور پاکستانی ٹیم کی مصروفیات بھی ہیں،گزشتہ سال سے بائیو سیکیور ببل میں داخل ہونے والے کھلاڑیوں کے لئے مشکلات اس وقت بڑھ جاتی ہیں کہ جب وہ شیڈول میچزبھی نہ کھیل سکیں اور اپنی قید لائف میں وقت گزاریں.پاکستانی ٹیم کو رواں دورے میں 2 ایسے ہی میچزکا سامنا کرنا پڑا ہے،اب چوتھے و آخری میچ میں بھی خراب موسم کے اثرات پڑسکتے ہیں جو کہ ایک مایوس کن بات ہوگی،شائقین بھی میچ نہ ہونے سے افسردہ ہوتے ہیں جبکہ ٹیم پلان کو بھی دھچکا لگتا ہے،اس وقت زیادہ خسارہ ویسٹ انڈیز کا چل رہا ہے کہ اس کا ہوم سیزن متاثر ہورہا ہے اور اس کی تیاری بھی اس نوعیت کی نہیں ہوپارہی ہے جس کی ضرورت ہے.ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم ورلڈ ٹی 20 کی دفاعی چیمپئن ہے اور اس کے کھلاڑی بھی کم نہیں ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ مختصر فارمیٹ میں ان کی کارکردگی بڑی ٹیموں کے مقابلہ پر ہی چلی جاتی ہے تو کچھ غلط نہیں ہوگا.
سابق کپتان سرفراز احمد کا کیا کام
پاکستان کی بات کی جائے تو سابق کپتان سرفراز احمد گزشتہ ایک سال سے ٹیم کے ساتھ منسلک ہیں اور اسی عرصہ میں محمد رضوان کی کارکردگی میں نکھار آیا ہے جو رو بروز بڑھتا جارہا ہے،ایسا لگتا ہے کہ سرفراز کا ساتھ ہونا ایک ٹونک کا کام دیتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ خود سرفراز احمد کہاں کھڑے ہیں،پی سی بی کے پاس سرفراز دوسری چوائس ہے،جتنی مشکل اور طویل کرکٹ یہ کھلاڑی کھیل رہے ہیں تو ایسے میں کوئی بھی کسی بھی وقت ان فٹ ہوسکتا ہے،ورلڈ ٹی20سے قبل یا اس ایونٹ میں محمد رضوان کسی وجہ سے دستیاب نہ ہوسکے تو ٹیم منیجمنٹ لا محالہ سرفراز احمد کی جانب دیکھے گی تو بنا پریکٹس و بغیر میچ کھلائے ان کے لئے ملک کی مسلسل نمائندگی کرنا مشکل ہوجائے گا تو مصباح اینڈ کمپنی کے لئے لازم ہے کہ وہ ایسی سیریز میں سرفراز احمد کو تواتر کے ساتھ موقع ضرور دیں،اب ویسٹ انڈیز کے خلاف انہیں چوتھے ٹی 20میچ میں کھلادینا چاہئے،ایک تو اس اسے ان کا اعتماد بحال ہوگا اور دوسرا وہ پریکٹس میں رہیں گے اور تیسرا انہیں بھی یہ خوبصورت احساس ہوگا کہ وہ بوجھ کے طور پر نہیں بلکہ ضرورت کے طور پر سفر کرتے ہیں اور ٹیم کے کیمپ میں موجود ہوتے ہیں.
ویسے گزشتہ سیریز میں سرفراز احمد کو ایک ایک میچ کھلایا گیا تھا لیکن اب انہیں ایک سے زائد میچز میں بھی ڈالا جاسکتا ہے تاکہ ٹیم سٹرینتھ طاقتور دکھائی دے اور کبھی بھارت کی طرح 2 ٹیمیں بنانی پڑیں یا انگلینڈ کی طرح راتوں رات ایک ٹیم ہی بدلنی پڑے تو پی سی بی کو زیادہ مشکلات پیش نہ آئی،ایسا لگتا ہے کہ حفیظ کی طرح سرفراز احمد کا کیریئر بھی ورلڈ ٹی 20 تک ہی ہے،اس کے بعد سرفراز خود ہی ریٹائرمنٹ لے لیں گے،ضروری یہ ہوگا کہ اگر انہیں موقع ملے تو وہ کچھ ایسا کرجائیں کہ قوم انہیں چیمپئنز ٹرافی 2017 کی طرح یاد رکھے اور وہ‌خود بھی باوقار انداز میں رخصت ہوں.
یہ بھی پڑھیں
کشمیر پریمیئر لیگ،پاکستان دیکھتا رہ گیا،بھارت آئی سی سی کے پاس پہنچ گیا،ڈرامائی صورتحال

Leave A Reply

Your email address will not be published.