پھر آئی سی سی رینکنگ، پاکستان تینوں فارمیٹ سے آئوٹ،ایک شعبہ سے جنازہ نکل گیا

0 34

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ کی شہنشاہیت کا غلبہ ہر سو ہونے لگا.ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ جیتنے کے بعد جہاں اس کی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پھر آئی سی سی رینکنگ، پوزیشن ہوئی تھی وہاں اب پلیئرز درجہ بندی میں بھی اس کا ڈنکا بجنے جارہا ہے.آئی سی سی نے بدھ 30 جون کو نئی آئی سی سی ٹیسٹ ٹیم اور پلیئرز رینکنگ جاری کر دی ہے.کیوی ٹیم 123 ریٹنگ کے ساتھ پہلے نمبر پر آگئی ہے جبکہ بھارت کا دوسرا نمبر ہے .اس کی ریٹنگ 121 ہے اور آسٹریلیا 108 کے ساتھ تیسرے اور انگلینڈ 107 کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے.
پاکستان دنیا کی ٹاپ 5 میں شامل نہیں
پاکستان دنیا کی ٹاپ 5 ٹیموں میں شامل نہیں ہے اور یہ پوزیشن تشویشناک ہونی چاہئے. اب اگر پلیئرز رینکنگ کا جائزہ لیں تو بیٹنگ و بائولنگ دونوں شعبوں میں گرین کیپس ناک آئوٹ ہیں.نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن 901 ریٹنگ کے ساتھ پہلے نمبر پر آگئے ہیں اور یہ انکا بہترین مقام بھی ہے .کین ولیمسن نے فائنل اننگ میں ناقابل شکست ہاف سنچری بنائی تھی. آسٹریلیا کے اسٹیون اسمتھ دوسرے اور مارنوس لبوشین تیسرے نمبر پر ہیں جبکہ سب کے لئے چیلنج بننے کا مقام رکھنے والے بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا نمبر چوتھا، انگلینڈ کے جوئے روٹ کا پانچواں اور بھارتی روہت شرما کا چھٹا نمبر ہے .ایک وقت تک ٹاپ 10 میں رہنے والے پاکستانی کپتان بابر اعظم ٹاپ 10 سے پہلے ہی خارج ہیں اور اب انکا 11 واں نمبر ہے. بائولنگ کو دیکھا جائے تو پاکستان کا کوئی بائولر ٹاپ 10 میں نہیں ہے .یہ ایک تباہ کن صورتحا ل ہے اور ایسا طویل عرصے سے ہوتا چلا آرہا ہے.پلیئرز رینکنگ کی اچھی پوزیشن اس ملک کے کرکٹ سسٹم کو رینک کرتی ہے اور کوئی ملک اس کے ایک اہم سیکشن میں ٹاپ 10 میں مستقل نہ ہو تو بات خراب لگتی ہے.
یہی حال ایک روزہ کرکٹ کا
یہی حال ایک روزہ کرکٹ کا ہے کہ پاکستان کا نہ کوئی سکہ ہے اور نہ ہی کہیں ذکر،اس کے لئے کیا کرنا ہوگا.ٹیم کے دوروں کے ساتھ اضافی بھرتیوں سے یہ مسائل حل نہیں ہونگے اور نہ ہی یوسف کو یونس کی جگہ دینے سے رینکنگ الٹی چلے گی بلکہ اس کے لئے ایک میکینک بنانا ہوگا.پلیئرز اگر ایک سنچری یا 5 وکٹ کی ایک پرفارمنس کی بنیاد پر 10،10میچز کھیلتے جائیں گے تو تباہی اپنے آپ ہوگی.مجھے یاد ہے کہ اب سے 10 برس قبل تک پاکستان کے 3 بیٹسمین اور کم سے کم 2 بائولرز ہمیشہ ٹاپ رینکنگ کے پلیئرز ہوتے تھے لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ،حالات خراب تر ہوئے اور حکام بھی گویا لاتعلق سے بن گئے.آئی سی سی پلیئرز رینکنگ اپنی جگہ ایک اہمیت رکھتی ہے.پی سی بی کو اس حوالہ سے ورک کرنا ہوگا اور پلیئرز پر واضح کرنا ہوگا کہ ایک کارکردگی کی بنیاد پر ایک سال نہیں کھلایا جاسکتا.
گزشتہ ایک عشرے سے رینکنگ پر آسٹریلیا، بھارت اور انگلیند کا غلبہ تھا، اب نیوزی لینڈ نے کارکردگی کی بنیاد پر اپنا راستہ بنایا ہے اور اگر پاکستان بورڈ ودیگر نے اس طرف توجہ نہ کی تو پھر رینکنگ کے باب میں کوئی نام لینے والا نہیں ہوگا.اکیلا بابر اعظم نمبر ون تو ہوسکتا ہے لیکن 10 پوزیشن میں بیک وقت پاکستان کے لئے 2 یا 3 پوزیشن نہیں لے سکتا. 
ایک روزہ کرکٹ کی رینکنگ
ایک روزہ کرکٹ کی رینکنگ میں نیوزی لینڈ،آسٹریلیا،بھارت ،انگلینڈ اور جنوبی افریقا نمبر ایک سے نمبر 5 تک موجود ہیں،پاکستان کا چھٹا نمبر ہے.اس کی پلیئرز رینکنگ میں پاکستان کے بابر اعظم کا پہلا نمبر ہے جبکہ فخرزمان کا 7واں نمبر ہے،بس پاکستان کے یہی 2 پلیئرز ہی ٹاپ 10 میں شامل ہیں.بائولنگ میں پاکستان کا کوئی بائولر ٹاپ 10 میں نہیں ہے،آپ اندازا کریں کہ ٹرینٹ بولٹ کے پہلے نمبر کے بعد دوسرا نمبر بنگلہ دیش کے مہدی حسن کا ہے اور تیسرا نمبر مجیب الرحمان لئے ہوئے ہیں،بنگلہ دیش کے مستفیض الرحمان 10ویں نمبر پر پاکستانی بائولرز کا مذاق اڑانے کے لئے کافی ہیں.آل رائونڈرز میں عماد وسیم کی 7ویں پوزیشن ہے.
ٹی 20کرکٹ کی رینکنگ
ٹی 20کرکٹ کی رینکنگ دیکھی جائے تو اس میں ایک وقت میں 28 ماہ حکمرانی کی تھی لیکن اب اس کا چوتھا نمبر ہے،وہاں پر اس وقت انگلینڈ کی حکمرانی ہے. بھارت اور نیوزی لینڈ پاکستان سے آگے ہیں،ٹی 20 پلیئرز رینکنگ پر نگاہ ڈالی جائے تو بابر اعظم اکلوتے پاکستان تیسرے نمبر پر بر اجمان ہیں.پاکستان کا کوئی بائولر ٹی 20 پلیئرز رینکنگ کے ٹاپ 10 میں نہیں ہیں،اسی طرح آل رائونڈر کا خانہ بھی پاکستانی نام سے خالی ہے.کرک سین انٹر نیشنل کرکٹ کی پلیئرز رینکنگ کا پوسٹ مارٹم اس طرح کر رہا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کے تینوں شعبوں بیٹنگ،بائولنگ اور آل رائونڈرز میں ایک بھی پاکستانی کھلاڑی شامل نہیں ہے،گویا ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کا کوئی حال نہیں ہے.30 پلیئرز میں ایک بھی نام نہاد بائولر نہیں ہے،ہمارے میڈیا کی حالت یہ ہے کہ ہر تیسرے کو اٹھاکر انہوں نے گیند باز بنایا ہوتا ہے.  پھر آئی سی سی رینکنگ،
پلیئرز رینکنگ
ایک روزہ کرکٹ کی رینکنگ میں بابر اور فخر موجود ہیں ،آل رائونڈر میں عماد وسیم ہیں،بائولنگ کا خانہ منہ چڑا ہے ،اسی طرح صرف بابر اعظم بیٹنگ میں ہیں.گویا تینوں فارمیٹ کے بائولنگ شعبہ کی خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کاکوئی بائولر ٹاپ 10میں نہیں ہے،یہ اعمال نامہ کیا بتا رہا ہے؟یہی کہ پاکستان کے بائولرز صف اول کے نہیں ہیں،اوسط درجہ کے ہیں جن کا دنیا کے پہلے 10 ناموں میں کوئی شمار نہیں ہے اور یہاں نام نہاد،ہر شعبہ کے نام نہاد یہ کلمے پڑھیں گے کہ پاکستان بائولنگ کی نرسری ہے،ایک سے بڑھ کر ایک ہیرا پڑا ہے،یہ کھوٹے ہیرے چمک کیوں نہیں رہے،ان کا نام ٹاپ 10 میں کیوں نہیں آرہا ہے.2 فارمیٹ کے بیٹنگ شعبوں میں بابر اعظم ہوئے جبکہ ایک فارمیٹ ون ڈے میں ان کے ساتھ فخر زمان ہیں اور عماد وسیم آل رائونڈر میں موجود ہیں گویا 3 پلیئرز ہی کل اثاثہ ہیں،بائولنگ میں ایک بھی نام اس قابل نہیں ہے کہ اس کے لئےکچھ مقام ہوتا.شاہین آفریدی جیسے میڈیم پیسر ایک ایسے ملک کا صف اول کا اٹیک ہوں جہاں کبھی عمران خٌان،شعیب اختر اور وقار یونس جیسے میڈیم پیسرز نہیں بلکہ فاسٹ بائولرز ہوا کرتے تھے،وہاں کے نتائج پھر ایسے ہی ہونگے،ہم نے ایک وقت تک محمد عباس کو کیا سے کیا بنائے رکھا،آج وہ ٹیم سے ہی ڈراپ ہیں،یعنی ان کی اصل پہچان تب بھی باہر کا راستہ تھا.اسی طرح نسیم شاہ جیسوں کو سپریم بناکر باہرنکالا گیا،آج کل کچھ نئے ناموں کا چرچا ہے. 

Leave A Reply

Your email address will not be published.