ایک ہی دن 2 بار ورلڈ کپ سے باہر ہونے کا منفرد واقعہ،پاکستان کو بھی بڑا صدمہ

عمران عثمانی
Image by Getty Images
کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ٹیم کرکٹ کا ورلڈ کپ کھیل رہی ہو اور ایک ہی دن 2مرتبہ 2ورلڈ کپ سے باہر کردی جائے،عمومی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے لیکن خاص طور پر ایسا ہونے کے لئے بدقسمت ہونا ضروری ہے اور اگر بات انگلش کرکٹ ٹیم کی جائے تو 44 سال کی طویل بدقسمتی اس کے ساتھ رہی ہے،پہلے ورلڈ کپ 1975 سے لے کر 12ویں عالمی کپ 2019 سے پہلے تک وہ چیمپئن نہیں بن سکے تھے،کرکٹ کی جنم بھومی،کرکٹ ورلڈ کپ کے پہلے 3ایڈیشن کے میزبان چیمپئن بننے سے محروم چلے آرہے تھے لیکن 2019کے ورلڈ کپ کا جب فائنل ہوا تو وہاں بد قسمتی میں نیوزی لینڈ انگلینڈ سے بھی آگے نکل گیا،پہلے میچ ٹائی ہوا،پھر سپر اوور ٹائی ہوگیا اور پھر فیصلہ بائونڈریز کی بنیا د پر ہوا جہاں کیویز جکڑے گئے اور انگلینڈ 44برس بعد پہلی بار ورلڈ چیمپئن بن گیا .بات ہورہی تھی ایک دن 2بار 2ورلڈ کپ سے باہر ہونے کی تو جس ملک نے 44 سال مشکل گزارے ہوں،اس کے لئے بدقسمتی کے ایام کالوٹ آنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے.
واقعہ یہ ہے کہ وہ 9مارچ 1996کا دن تھا،میدان پاکستان کا شہر فیصل آباد تھا جب سری لنکا کی بظاہر کمزوردکھائی دینے والی ٹیم نے انگلینڈ کو کوارٹر فائنل میں5وکٹ سے ہراکر اس کا بوریا بستر گول کردیا،انگلش ٹیم صرف 235اسکور کرسکی تھی جسے سری لنکا نے ہنستے کھیلتے پورا کرلیا.یہ ایک غیر یقینی دن تھا لیکن انگلینڈ کے لئے یہ دن 19 برس بعد پھر لوٹ کر آیا جب 2015ورلڈ کپ میں اسی دن 9نارچ کو ایڈیلٰڈ آسٹریلیا میں اس کا کرکٹ تابوت ایک ایسے ملک نے اٹھایا جس کا تصور دشمن بھی نہیں کرسکتا تھا،انگلش ٹیم رائونڈ میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد بنگلہ دیش سے 15رنز سے ایسی ہاری کی کوارٹر فائنل تک بھی نہ پہنچ سکی.بنگلہ دیش کے بنائے گئے 275رنز انگلینڈ کے لئے گہری کھائی ثابت ہوگئے.
چنانچہ 9 مارچ کی ایک ہی تاریخ کو انگلینڈ ورلڈ کپ سے 2بار باہر ہوا،ایک بار کوارٹر فائنل سے اس کی رخصتی ہوئی اور دوسری بار کوارٹر فائنل تک کھیلنا بھی نصیب نہ ہوا.ایسا اتفاق کم ہی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک ہی خاص تاریخ کسی ملک کے لئے میگا ایونٹ کے حوالہ سے بڑی چھیڑ بن جائے اور یا بڑا مسئلہ بن جائے لیکن انگلینڈ کے ساتھ یہ سب ہوچکا ہے.چھٹے ورلڈ کپ سے لے کر 11ویں ورلڈ کپ تک اس کی یہ کہانی ہے اور بہت ہی بری ہے لیکن 9مارچ کا دن پاکستان کرکٹ کے لئے بھی زیادہ اچھا نہیں ہے بلکہ بہت ہی برا ہے.
1996 ورلڈ کپ کے دوران جب سری لنکا انگلینڈ کا صفایا کر رہا تھا تو اسی شام بنگلور میں ایک اور کوارٹر فائنل میں پاکستان روایتی حریف بھارت سے ہار کر نہ صرف باہر ہورہا تھا بلکہ دفاعی چیمپیئن ہونے کے ناطے اپنی مہم کا ناکام ترین اختتام کر رہا تھا.اس کی ناکامی کی بڑی وجہ وقار یونس کو آخری 2 اوورز میں پڑنے والے 41 اسکور تھے،بعد میں اچھے آغاز کے باوجود پاکستانی بیٹنگ لائن کی اچانک تباہی تھی،بھارت 39رنز سے جیت کر سیمی فائنل اور پاکستان ہار کر واپس لاہور پہنچا تھا.