انگلینڈ سے ٹی20 ہارنے کی اصل وجہ ،دو کھلاڑیوں پر چلتی یہ ناکارہ ٹیم

0 12

تجزیہ : عمران عثمانی
یہ 2 کھلاڑیوں کی ٹیم ہے،چلیں‌گے تو ٹیم کھیلے گی اور جیتے گی،2 میں سے ایک چلے تو ٹیم بیٹھ جائے گی اور ایک کے ساتھ ایک چل بھی جائے تو بھی باقی شاید عقل سے پیدل ہیں ،اس لئے گرتے چلے جاتے ہیں،201رنزکے ہدف کے تعاقب میں 33 بالز پر 50رنزکی شراکت جو ٹیم قائم کردے تو پیچھے کیا بچےگا،یہی کہ 87 بالز پر 151 رنزبنانے تھے اور 10 وکٹیں باقی تھیں،ایسے میں پینک بٹن دبنے کا مطلب کیا ہے لیکن یہ پاکستان کرکٹ ٹیم ہے جس سے اچھے کی ہمیشہ امید لگانا حماقت ہوگی،انگلینڈ نے پاکستان کو دوسرے ٹی 20 میچ میں 45 رنزکے مارجن سے ہراکر 3میچزکی سیریز 1-1سے برابر کردی،اب فیصلہ 20 جولائی کے فائنل معرکہ میں ہوگا.لیڈز میں قومی ٹیم کی ذلت آمیزناکامی سے پاکستان کی پہلی فتح کا اثر زائل ہوگیا،232 رنزبنانے والی گرین کیپس صرف 31 رنز سے جیت پائے جب کہ یہاں 201 کا ہدف تھا اور گرین کیپس 31 سے کہیں زیادہ 45 رنز سے انگلینڈ کے قدموں میں گرگئے،یہ ون سائیڈڈ شکست تھی جس کے لئے کسی احمق کے پاس جواب ہونا چاہئے.بیٹنگ آرڈر کی حالت تباہ کن ہے،مڈل آرڈر فلاپ شوہے،اتنے تکے تو کسی اندھے نے بھی مار دینے تھے.
پہلے بیٹنگ کیوں نہیں کی
سوال یہ ہے کہ پہلے میچ میں پہلے بیٹنگ کے کامیاب تجربہ کے بعد بابر اعظم نے اگلے میچ میں پہلے بیٹنگ کیوں نہیں کی،جب ٹاس جیت لیا تھا تو ایک با پھراپنی بائولنگ پر بھروسہ ہونا چاہئے تھا لیکن بات وہی ہے کہ دوسروں کی حماقتوں سے تو پاکستان کی یہ ٹیم جیت سکتی ہے لیکن اپنی کارکردگی یا پلاننگ کی وجہ سے اس سے فتح کی امید کرنا عقل مندی نہیں ہے.انگلش ٹیم نے 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں پاکستان کو رگڑا لگادیا ہے،یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس ٹیم میں بین سٹوکس ہیں اور نہ ہی جوفرا آرچر،اسی طرح انگلینڈ کی یہ نمبر ون ٹیم نہیں ہے ،پاکستان نے سیریز جیتنے کا موقع گنوادیا ہے.
ٹوٹل کی پیش گوئی درست
پاکستان اور انگلینڈ کے دوسرے ٹی 20 میچ کے حوالے سے کرک سین نے میچ سے 13 گھنٹے قبل کچھ باتیں واضح الفاظ میں لکھی تھیں. تھوڑا ان کا تذکرہ ایک بار پھر ہوجائے. پاک انگلینڈ میچ کے ٹاس پر کہا تھا کہ بابر اعظم ٹاس جیتے تو وہ پہلے فیلڈنگ کی جانب جائیں گے،چنانچہ ایسا ہی ہوا. حالانکہ اولین میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کی تھی اور اس کا پھر پہلے بلے بازی کرنا مفید ہوتا.
کرک سین نے دوسری بات یہ لکھی تھی کہ لیڈر میں اس سے قبل ٹی 20 انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا گیا لیکن جتنے بھی ڈومیسٹک لیگ جیسے ٹی 20 بلاسٹ کے میچ ہوئے ہیں ان میں پہلے بیٹنگ والی سائیڈ 190 سے 200 کے درمیان تک رہی ہے. چنانچہ انگلش ٹیم کی اننگ پورے 200 پر تمام ہوگئی. ابھی ایک گیند باقی تھی.
میزبان ٹیم نے پہلے بلے بازی کی.اوئن مورگن بنچ پر بیٹھنے پر مجبور ہوگئے. جوس بٹلر نے کپتانی کی. معین علی بھی کھلائے گئے. اس طرح برطانوی ٹیم نے تجربہ پر بھی انحصار کیا مگر اننگ کا آغاز تباہ کن تھا .جیسن رائے 10 اور ڈیوڈ میلان 1 کے انفرادی اسکور کے ساتھ 18 کے مجموعہ پر پویلین لوٹ گئے. جوس بٹلر نے 39 بالز پر 59 اور معین علی نے محض 16 بالز پر 36 رنز جڑ کر مڈل سے اختتامی اوورز کی جانب اچھا جمپ لگایا اس کے بعد لیام لونگسٹن جنہوں نے پہلے میچ میں سنچری کی تھی ،نے بھی اپنی موجودگی پھر ظاہر کی اور 23 بالز پر 38 کرگئے. جونی بیئرسٹو 13 ہی رنز کرسکے. کرس جارڈن 14 اسکور بناسکے. انگلش ٹیم 1 بال قبل 200 اسکور پر تمام ہوگئی.
نوجوان بائولر محمد حسنین نے 51 رن کے عوض 3 اور عماد وسیم نے 37 جب کہ حارث رئوف نے 48 رنز دے کر 2،2 وکٹیں لیں.شاہین اور شاداب نے کفایتی گیند بازی کی.شاہین آفریدی نے 28 اور شاداب نے 33 رنز کے عوض ایک ایک کھلاڑی کو آئوٹ کیا.
جارحانہ انداز میں بیٹنگ
پاکستان نے 201 رنز کا تعاقب نہایت جارحانہ انداز میں شروع کیا.محمد رضوان اور بابر اعظم نے انگلش بائولرز کو آڑے ہاتهوں لیا اور تیزی سے اسکور بنانا شروع کردیا. پاکستان نے ایک بار پھر ففٹی پلس کا اسٹینڈ لیا اور اپنے 50 رنز صرف 33 بالز پر مکمل کئے لیکن اسی اسکور پر کپتان بابر اعظم 22 رنز بنا کر ثاقب اور میلان کا شکار بن گئے. نئے بیٹسمین صییب مقصود کچھ دیر کے مہمان بنے .وہ اس سے قبل بھی بڑی اننگ نہ کھیل سکے تھے. رائٹ ہینڈ بیٹسمین 10 بالز پر 15 ہی کرسکے. پاکستان کو دوسرا نقصان 71 کے مجموعہ پر ہوا. اب رضوان کا ساتھ دینے تجربہ کار محمد حفیظ آئے تھے. یہاں پاکستان کو ایک پارٹنرشپ کی ضرورت تھی لیکن وکٹ کیپر رضوان بڑی غلطی کرگئے اور اسپنر عادل رشید کو ان کی ہی بال پر کیچ دے کر پاکستان کو مشکلات میں غرق کرگئے. وہ 29 بالیں کھیل کر 37 رنز ہی بناسکے .ایک چھکا اور 3 چوکے لگاپائے تھے. پاکستان کی اننگ کے 11 اوورز مکمل ہوگئے اور اسکور صرف 87 تھا 3 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے تھے .مطلوبہ رن اوسط 12 سے اوپر جارہی تھی.محمد حفیظ اور فخر زمان سے اسکور بن نہیں رہے تھے.پھر یہ ہوا کہ ایک جز وقتی ہٹر محمد حفیظ ٹیم پر بوجھ بن کر لٹیا ڈبو کر چلتے بنے.انہوں نے معین علی کی بال پر کیچ دیا.42 سال کے حفیظ کے نخرے دیکھنے ہوں تو ان کے انٹرویوز دیکھیں یا ان کا کوئی دوسرا ٹندولکر ماننا ہو تو ان کے ترجمانوں کی سن لیا کریں.پاکستان کی تباہی کی بنیاد رکھی جاچکی تھی.12 بالز کھیلنےوالے حفیظ کے 10 رنز میں کوئی چوکا ،چھکا نہیں تھا،فخرزمان 8 اور اعظم خان 1 کے مہمان بنے.عماد وسیم 20 ہی اسکور کرپائے.شاداب خان نے 3 چھکے لگاکر یہ ثابت کیا ہے کہ وکٹ بیٹنگ کے لئے موزوں تھی،انہوں نے اعلیٰ بلے بازی کی،مگر ان کا ساتھ دینے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا.
پاکستانی اننگ کی لائن لگ چکی تھی کیونکہ اسکور بھی نہیں بن پارہاتھا اور اوپر سے رن اوسط بھی بڑھتی جارہی تھی ،نتیجہ میں وکٹوں کی لائن لگ گئی اور پاکستانی اننگ کا اسکور بننا بھی مشکل ترین ہوتا گیا.حفیظ اور فخر کے جاتے ہی آنیاں جانیاں دیکھے جانی تھیں،پاکستان کی ٹیم 9 وکٹ پر 155 تک جاسکی اور 45 رنز سے یہ میچ ہارگئی،اننگ میں صرف 11 چوکے اور 6 چھکے شامل تھے،یہ ایک خراب ترین پرفارمنس تھی جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے. انگلینڈکی جانب سے ثاقب محمود نے 33رنز کے عوض 3،عادل رشیدنے 30 ،معین علی نے 32 رنزکے ساتھ 2 وکٹیں لیں .
یہ بھی پڑھیں
پاکستان،انگلینڈ کا دوسرا ٹی20 میچ،لیڈز سے خاص بات،آج 3 ون ڈے میچزبھی ساتھ

Leave A Reply

Your email address will not be published.