لندن ٹکٹ کےلئےبگ تھری کی سب سے بڑی جنگ،چنائی ٹیسٹ کا جمعہ سے آغاز

عمران عثمانی
Image By thesportsrush
جمعہ 5 فروری سے دنیائے کرکٹ میں طویل فارمیٹ کی جنگ شروع ہورہی ہے. منزل لندن کا ٹکٹ ہے. میدان بھارت ،انگلینڈ اور آسٹریلیا میں لگ گیا ہے. ایک سیریز کے 3 امیدوار ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں بگ تھری ہیں. بھارت اور انگلینڈ عملی طور پر شریک ہیں جبکہ تیسرا فریق آسٹریلیا باہر بیٹھ کر کبھی بھارت اور کبھی انگلینڈ کی جیت کے ساتھ کھڑا ہوگا. ایک ایسی سیریز ہونے جاریی ہے کہ جس میں آسٹریلیا اور اس کی عوام کبھی اپنے ازلی حریف انگلینڈ کی کامیابی کی دعا کریں گے اور کبھی اس ملک کی کہ جس نے اسے حال ہی میں شکست دے کر گہرا گهائو لگایا ہے. بھارت کے لئے بھی آس کی عوام کھڑی ہوگی.
ایسا دلچسپ منظر کیوں ہوگا؟
یہ تو میں آگے چل کر واضح کروں گا. پہلے ذکر کرتے ہیں اس بڑی سیریز کے آغاز کا جو بھارت اور انگلینڈ میں جمعہ 5 فروری سے شروع ہونے جارہی ہے. کورونا لاک ڈائون کے بعد بھارت سال سے بھی زیادہ عرصے کے بعد اپنے ملک میں کوئی ٹیسٹ میچ کهیلے گا. چنائی میں میچ کے انتظامات مکمل ہیں. تماشائیوں کے بغیر ہی یہ میچ کھیلا جائے گا. 4 میچز کی سیریز کے پہلے میچ میں بھارت اور انگلینڈ کے صف اول کے کھلاڑی شریک ہیں. ویرات کوہلی باپ بن کر آگئے ہیں .بین سٹوکس کی بھی واپسی ہوگئی ہے.اسپن ٹریک پر معین علی بھی جیک لیچ کے ساتھ ہونگے. جمی اینڈرسن کو آرام ملے گا.سٹورٹ براڈ ،جوفرا آرچر اورکرس واکس پیس اٹیک کا ہتهیار ہونگے. ڈوم سبلی اور رائے برنز اوپننگ کریں گے جبکہ کپتان جوئے روٹ کیریئر کا 100 واں میچ کھیلیں گے. انہوں نے 8 برس قبل بھارت ہی میں ڈیبیو کیا تھا اور انگلینڈ 2012 کی تاریخی سیریز 2.1 سے جیت گیا تھا. روٹ کے لئے جہاں آغاز خوش کن تھا اور انگلینڈ کے لئے خوش بختی کی علامت تھا .وہاں 100 واں ٹیسٹ بھی یادگار ہوسکتا ہے. اس لئے بهی انگلش ٹیم پرجوش ہوگی. دوسری جانب بھارتی کرکٹ ٹیم میں کوہلی، ایشانت شرما اور جسپریت بمراہ بھی ہونگے. دونوں سائیڈز پر بھر پور طاقت ہوگی.
وکٹ اسپن ٹریک کی ہوگی لیکن شروع کے دنوں میں پیسرز کو بھی مدد ملے گی.انگلینڈ اور بھارت کی یہ ٹیسٹ سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی دوسری فائنلسٹ ٹیم کا انتخاب کرے گی،نیوزی لینڈ ٹیم تو کوالیفائی کرچکی ہے،اب میدان میں یہ بگ تھری ہی بچے ہیں،اس کے لئے تینوں امیدوار ہیں،آسٹریلیا نے جنوبی افریقا کا دورہ ختم کرکے عملی طور پر اپنے پر کاٹ دیئے ہیں اور اس کے لئے اب دیکھو اور انتظار کروکی پالیسی بچی ہے.آسٹریلیا اس حد تک انگلینڈ کا ساتھ دے گا کہ وہ یہ سیریز 0-1 سے جیت جائےیا 2-0سے جیتے اور یا پھر1-2 سے جیت لے،اس سے زائد فتوحات یا ناکامی کا متحمل نہ ہوگا اور اسی طرح بھارت کے لئے اس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ بس 0-1 سے سیریز اپنے نام کرے،بھارت اگر1-2 سے بھی جیتا تو آسٹریلیا کے لئے اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا .انگلینڈ کو اپنی ذات کے لئے کم سے کم 3میچزکی فتوحات ت درکار ہوگ،ورنہ بھارت یا آسٹریلیا میں سے کوئی ایک آگے جائے گا.اس سے اندازا کرلیں کہ آسٹریلین اپنے مطلب کے لئے کبھی بھارت کی فتح،کبھی انگلینڈ اور کبھی ڈرا میچ کی امید کریں گے اور اس کے لئے بارش کی خواہش بھی کریں گے اور کبھی کس کی حمایت ہوگی اور کبھی کس کی.
بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ جمعہ 5فروری سے چنائی میں صبح ساڑھے 9بجے شروع ہوگا.

اپنا تبصرہ بھیجیں