جنوبی افریقا سیریز دبئی،کپتانی مصباح کو منتقل،دفاعی کرکٹ کی بنیاد ررکھ دی گئی

عمران عثمانی
Image by espncricinfo
پاک جنوبی افریقا کرکٹ متحدہ عرب امارات میں منتقل ہوگئی،2007کی 7ویں باہمی سیریز پاکستانی سر زمین پر آخری سیریز تھی،سکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر اب انٹر نیشنل ٹیموں کی پاکستان آمد خواب ہی ہوگئی تھی،چنانچہ 2010میں جنوبی افریقا کے خلاف 8ویں باہمی سیریز متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں چلی گئی۔مصباح الحق قومی ٹیم کے کپتان بن چکے تھے،انہیں حفیظ،اظہر،توفیق،یونس اور اسد شفیق کی خدمات حاصل تھیں،عبد الرزاق،عمر گل،وہاب ریاض اور سعید اجمل بھی ساتھ تھے۔
جنوبی افریقا بدستور گریم اسمتھ کی قیادت میں کھیل رہا تھا۔پہلا ٹیسٹ دبئی میں 12 نومبر 2010سے کھیلا گیا،پروٹیز نے 380رنزبناڈالے۔گریم اسمتھ کے 100 اور ہاشم آملہ کے 80رنزتھے۔عمر گل وعبد الرحمان نے 3،3وکٹیں لیں لیکن اس کے لئے دونوں نے 100رنز کا ہندسہ عبور کیا۔پاکستانی اننگ 248پر تمام ہوگئی۔محمد حفیظ نے60اور اظہر علی نے 56 کئے جبکہ یونس 35 اور مصباح 9رنزکرسکے۔بائولنگ یہ ہوتی ہے کہ مورنی مورکل نے 54رنز دے کر 5وکٹیں اڑادیں۔
جنوبی افریقا اپنے آخری دورہ پاکستان میں بھی کامیاب،کئی دلچسپ اتفاقات،انضمام الحق کا باب بند
اس برتری نے جنوبی افریقا کو مزید اعتماد بخشا اور ٹیم 2وکٹ پر318رنزبناگئی،اب اننگ ڈکلیئر ہی ہونی تھی۔ہاشم آملہ اور جاک کیلس نے سنچریز بنائیں۔451 رنزکا ہدف پاکستان کے لئے مشکل تھا لیکن 117 اوورز جس طرح ٹیم نے بیٹنگ کی،وہ 3سے بھی کم کی اوسط سے بیٹنگ تھی،پھر وقت ختم ہوگیا اور پاکستان3وکٹ پر 343 رنزبناکر اپنے کلاس ثابت کرگیا۔یونس خان 131 اور مصباح 76پر ناٹ آئوٹ گئے۔میچ ڈرا پر ختم ہوا،یونس مین آف دی میچ قرار پائے۔
20 نومبر سے شروع ہونے والے دبئی کے دوسرے ٹیسٹ میں پروٹیز نے پہلے میچ سے بھی بڑھ کر اپنی کلاس شو کی اور153 اوورز میں9وکٹ پر 584رنزکے ساتھ اننگ ڈکلیئر کی۔اے بی ڈی ویلیئرز نے ڈبل سنچری اسکور کی۔وہ 278 پر ناٹ آئوٹ گئے۔جاک کیلس نے 105رنزکئے۔تنویز احمد کی 120 رنزکے عوض 6وکٹیں صرف دیکھنے کے لئے اچھی تھیں،میدان میں فضول ثابت ہوئیں۔قومی ٹیم نے قریب 145 اوورز بلے بازی کی لیکن یہ جنوبی افریقا سے150 رنز کم پر آئوٹ ہوگئے۔کوئی سنچری نہیں تھی،البتہ اظہر علی،مصباح الحق،اسد شفیق اور عبد الر حمان کی ہاف سنچریز ساتھ رہیں،ڈیل اسٹین کی 98رنز کے عوض 4وکٹیں بہت پرفارمنس تھی،جنوبی افریقا نے 203رنز 5وکٹ پر اننگ تمام کی 354 کا ہدف دیا،پاکستان نے اس بار بھی 67 اوورز کی اچھی بیٹنگ کی اور 3وکٹ پر153 رنزکئے،یہ میچ اسد شفیق کا ڈیبیو شو تھا۔ڈی ویلیئرز میچ اور کیلس سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔
جنوبی افریقا ٹیسٹ سیریزاور رینکنگ،پاکستان کے لئے 8ویں پوزیشن پر تنزلی کا خطرہ،بہتری کا بھی راستہ
پاکستانی قیادت مصباح کر رہے تھے،عرب امارات کی بیٹنگ اور اسپن وکٹوں پر پاکستان دونوں میچز میں پہلی اننگ میں خسارے سے دوچار رہا،ٹیم نے پوری سیریز بیک فٹ پر کھیلی اور ٹیم مشکل سے ڈرا کرتی دکھائی دی اور جان بچاتی محسوس ہوئی،یہ تھی وہ دفاعی حکمت عملی جسکی پاکستان کرکٹ میں بنیاد رکھی جارہی تھی اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ مصباح کی یہ سوچ اگلے 10 سال میں پاکستان کرکٹ کو کہاں پہنچادے گی۔پاکستان نے ابھی تک یہ ٹریک نہیں بدلا ،مصباح کپتان سے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کی صورت میں ابھی تک قومی ٹیم سے منسلک ہیں۔
کرک سین تازہ سیریز کے موقع پر دونوں ممالک کی باہمی سیریز کا جائزہ پیش کر رہا ہے،یہ 8ویں سیریز کا خلاصہ تھا،7سیریز کا ذکر ہوچکا ہے.پاک جنوبی افریقا کی 12 ویں سیریز 26 جنوری سے کراچی میں کھیلی جائے گی.

اپنا تبصرہ بھیجیں