پاکستان کرکٹ سلیکشن پر الزامات لگانے والے شعیب ملک کو غیر متوقع گگلی کا سامنا

پاکستان کرکٹ ٹیم سے ڈراپ شعیب ملک گزشتہ کئی ہفتوں سے قومی ٹیم میں سیاست،سفارش اور کنٹیکٹ کی سلیکشن کے الزامات عائد کر رہے ہیں،ان میں تیزی اس وقت آئی تھی جب پاکستان کو زمبابوے میں ایک ٹی 20 میچ میں شکست ہوئی.شعیب ملک جو پاکستان کی ٹی20 ٹیم میں اپنی سلیکشن کے خواب اب بھی دیکھتے ہیں،لگتا ہے انہوں نے ورلڈ ٹی 20 میں شرکت کے لئے ہر حربہ استعمال کرنے کا پلان کیا ہے.شعیب ملک وقفہ وقفہ سے کبھی چیف سلیکٹر تو کبھی ہیڈ کوچ پر اٹیک کرتے ہیں،دبے لفظوں میں کپتان بابر اعظم کے حوالہ سے بھی ایسی بات کرجاتے ہیں کہ جیسے وہ سلیکشن میں بے اختیار ہوں لیکن شعیب ملک کو رد عمل میں وہاں سے گگلی اور فلپر پڑا ہے کہ جس کی وہ توقع کر ہی نہیں سکتے تھے.

پاکستان کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے تازہ ترین بات چیت میں انکشاف کیا ہے کہ 2009 میں جب شعیب ملک کو پاکستانی ٹیم کا کپتان بنایا گیا تھا تو وہ انٹر نیشنل کرکٹ سے قریب ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کرچکے تھے اور اس کی وجہ سیاست تھی جو پاکستانی ٹیم اور ڈریسنگ روم میں بڑی شدت سے چل رہی تھی.شاہد آفریدی نے بتایا ہے کہ پاکستان نے اس سال ورلڈ ٹی 20 جیتا تھا لیکن یہ جیت بھی کسی مسئلہ کا حل نہیں تھی کیونکہ ڈریسنگ روم میں گندی سیاست چل رہی تھی.شعیب اختر کے محمد آصف کو بیٹ مارنے کا واقعہ ہوا.پھر آصف اور عامر کی سر گرمیاں خراب دکھائی دیں،اوپر سے شعیب ملک کپتان بنے تو حالات عجب تھے،کمال کھچڑی پکی تھی،سیاست عروج پر تھی ،میں نے ریٹائر منٹ لینے کا سوچ لیا تھا لیکن کسی وجہ سے نہیں لے سکاتھا.

شاہد آفریدی جو 2009 میں ریٹائرمنٹ لینا چاہتے تھے،وہ 2016 کے ورلڈ ٹی 20 تک بطور پاکستانی کپتان کھیل گئے جبکہ شعیب ملک آج 40 سال بعد بھی پاکستان کی نمائندگی کا خواب دیکھ رہے ہیں،آفریدی نے بھی کہا ہے کہ اگر شعیب ملک کو اس سال ورلڈ ٹی 20 کھلایا گیا تو وہ اس کی حمایت کریں گے.شعیب ملک جو قومی سسٹم پر سلیکشن کے حوالہ سے سنگین الزامات لگا رہے ہیں،ان کے دور میں شاہد آفریدی کی جانب سے لگائے گئے الزامات بھی توجہ لائق ہیں.