پاکستانی ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت پر شعیب اختر کا رد عمل،رگڑا لگانے کا مشورہ

پی ایس ایل 6 سے اچھے ایمرجنگ پلیئرز سامنے آئے لیکن انہیں براہ راست کھلانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کو ایک بڑے رگڑے کی ضرورت ہے اور یہ رگڑا کوئی مار دھاڑ سے نہیں بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ سے آئے گا.پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس یہ ایک ہی راستہ ہے کہ ایمرجنگ پلیئرز کو اٹھائے اور نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں لے جاکر رگڑے لگائے اور اس کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ کے دھکے لگوائے.ان خیالات کا اظہار پاکستان کے سابق فاسٹ بائولر شعیب اختر نے اپنے یو ٹیوب چینل پر کیا ہے.انہوں نے پی ایس ایل 6کے ٹیلنٹ کو سراہا ہے،ایونٹ کےا چانک التوا پر دکھ کااظہار کیا ہے.

جنوبی افریقا وزمبابوےکےلئےقومی اسکواڈز کی رونمائی،کس کی ہوئی شنوائی،کس کی رسوائی ،مکمل تفصیل ،بریکنگ نیوز

پی ایس ایل 6 غلط انداز میں ختم ہوئی ،افسوسناک انداز میں تمام ہوئی،اس سے اچھے پلیئرز حسین طلعت،حیدر،ارشاد اور ایک کھبا بیٹسمین آیا تو پی ایس ایل سے یہ فائدہ تو ضرور ہوا کہ نئے پلیئرز سامنے آئے اور پاکستان ٹیم تک پہنچے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انہیں سیدھا کھلادیا جائے بلکہ انہیں پالش کیا جائے،شاہین آفریدی کی مثال سامنے ہے.یوتھ کا سامنے آنا اچھی بات ہے.

پی ایس ایل سے ایمرجنگ پلیئرز کی مشکلات وکاوش ایک بڑی بات ہے،کئی لڑکوں کی مشکلات مختلف ویڈیوز میں سامنے آتی رہی ہیں .آج ایک پلیٹ فارم موجود ہے کہ پی ایس ایل سے ٹیلنٹ سامنے آرہا ہے،وہاں سے لڑکوں کو اوپر آنے کا موقع مل رہا ہے تو پی ایس ایل 6 کا یہ فائدہ بہت بڑا اور تگڑا ہے.اب آپ کے پاس کوئی معذرت نامہ نہیں بن سکتا،آپنے جو بننا ہے ،پلیٹ فارم موجود ہیں.

شعیب اختر نے یہ رد عمل اس دن بھی دیا ہے کہ جس دن پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹیم کا اعلان کیا گیا ہے،اس میں اہم کھلاڑی شامل کئے گئے ہیں،ٹیم رواں ماہ کے آخر میں جنوبی افریقاوزمبابوے روانہ ہوگی.تینوںً فارمیٹ میں متعدد پلیئرز شامل ہیں.