دوسرا ٹیسٹ،دھانی کے ساتھ ایک اور نیا کھلاڑی دیکھنا چاہتا،شعیب اختر کی خواہش

شعیب اختر نے پاکستان کی فتح کے بعد کہا ہے کہ پاکستان درست ٹریک پر آگیا ہے،بس تھوڑی سلیکشن میں بہتری کی ضرورت ہے،اس سے قبل شعیب اختر نے کچھ اور کہاتھا.اگلے ٹیسٹ کے حوالہ سے شعیب اختر نے کہا ہے کہ مڈل آرڈر میں رضوان،اظہر اور بابر بڑے نام ہیں،ٹیم اسپن ڈیپارٹمنٹ میں مار کھارہی ہے،اسپنرز نے میچ میں 3وکٹ لئے.ریورس سوئنگ ہوتو پاکستان بہتر ہوتا ہے،یہ میچ پیسرز نے جتوایا ہے،اسپنرز اگر اس قابل ہوتے تو 20 یا 22 اوورز کرتے.

شعیب اختر کہتے ہیں کہ اچھا فاسٹ بائولر 10سے 12 اوورز میں 5وکٹیں لے جاتا ہے،پہلا ٹیسٹ کھیلتے ہوئے اچھی ٹیم کھلائی ہے،اب آپشن ہے کہ دھانی یا تابش کو ڈالنا ہے تو ضرور دیکھ لیں.پاکستان نے برتری لے لی ہے،اب دوسرے میچ میں کچھ دیکھا جاسکتا ہے .میری رائے یہ ہے کہ شاہ نواز دھانی کو ڈال دیا جائے،شاہین کو آرام دے دیں.شاہین اگر باہر بیٹھنے سے انکار کرتے ہیں تو زبردستی تو نہیں کی جاسکتی.ہمیں اچھی باتیں دیکھنے کو مل سکتی ہیں.زاہد آجائے تو بھی اچھی بات ہے.زاہد اور دھانی کو دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ اگلا ٹیسٹ کھیلیں.باقی پی سی بی و دیگر لوگ اچھا کام کرنے لگے ہیں.

پاکستان کی زمبابوے کے خلاف فتح پر اپنے تبصرے میں انضمام الحق نے کہا ہے کہ مجھے ٹیسٹ میچ میں اس قسم کی ٹیم دیکھ کر افسوس ہوا ہے،جس وقت میںً کھیلتا تھا،اس وقت یہ ٹیم بہتر ہوتی تھی.گورے اور کالے کا جب سے یہاں اور جنوبی افریقا میں چکر ہوا ہے،اس کے بعد سے حالات خراب ہیں،میں پاکستانی ٹیم کو بھی ویل ڈن کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے اچھی پرفارمنس دی لیکن ٹیسٹ میچ کو دیکھ کر نہایت ہی دکھ ہوا ہے کہ زمبابوے کی ٹیم وہ نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی.

اپنے آفیشل یو ٹیوب چینل پر انضمام کہتے ہیں کہ جنوبی افریقا اور زمبابوے کی ٹیمیں نیچے گر رہی ہیں،حسن علی اور شاہین نے اچھی بائولنگ کی ہے اور حسن کا کردار اچھا رہا ہے،اچھے ردھم میں لگ رہے تھے.یہ اچھا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم اپنا کمبی نیشن دیکھے،عمران بٹ اور عابد علی گزشتہ میچز میں ناکام جارہے تھے ،اب انہیں بہتر اسکور کرنا ہوگا.دوسروں کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنی فارم بہتر کرسکتے ہیں.