جنوبی افریقا کے خلاف جیت کا منتراکیاہوگا، شعیب اختر نے ٹیم منیجمنٹ کا مستقبل بھی بتادیا

عمران عثمانی
Image By Twitter/cricinfo
پاکستان جنوبی افریقا کی ٹیسٹ سیریز کاآغاز ہوا ہی چاہتا ہے،اب درمیان میں ایک دن 25 جنوری کا باقی ہے،ٹیمیں بھر پور پریکٹس کر رہی ہیں اور جان لڑا رہی ہیں۔ایسے میں راولپنڈی ایکسپریس نے پاکستان کرکٹ کے درو دیوار ہلادیئے ہیں،اپنی تازہ ترین یوٹیوب ویڈیو میں شعیب اختر نے دبے لفظوں میں کہدیا ہے کہ پاکستان کی جیت مشکل ہوگی اور ڈریسنگ روم کی پوری منیجمنٹ اس وقت ہوا میں معلق ہے،سیریز کا نتیجہ ان کی قسمت کا فیصلہ کرے گا،ساتھ ہی شعیب اختر نے اندازالگایا ہے کہ پاکستان کا جنوبی افریقا کے خلاف جیت کا منترا کیا ہوگا۔
شعیب کہتے ہیں کہ جنوبی افریقا کے خلاف 2007میں مجھ پر بین لگا ہواتھا،میں نےآخری ون ڈےکھیلا تھا میں نے 4آئوٹ کئے تھے،اسی سیریز میں جنوبی افریقا کے خلاف پاکستان آخری ٹیسٹ جیت رہا تھا اور 7وکٹیں ہاتھ میں تھیں اور بہت کم اسکور درکار تھے لیکن نہیں بن سکے تھے،یہ ایسی یادیں ہیں جو اچھی نہیں ہیں،ان کو بھول ہی جانا بہتر ہوگا۔جنوبی افریقا کا پاکستان کا یہ 2007کا آخری دورہ تھا۔
پاکستان جنوبی افریقا کے سامنے سرنڈر
اب 2021میں وہ پاکستان آئے ہیں،2ٹیسٹ میچز کھیلے جانے ہیں۔پاکستان یہاں کیا کرے گا؟پاکستان کے لئے کیا مشکلات ہیں؟
حالات اچھے نہیں ہیں،نیوزی لینڈ سے ہار کر آئے ہیں۔نئی سلیکشن کی ہے،اپنی طرف سے تگڑی ٹیم بنائی ہے،نئے لڑکے ڈالے ہیں،شان مسعود سمیت 4کھلاڑی ڈراپ کئے ہیں،سوال یہ ہے کہ ٹیم جیت پائے گی،جیت کے لئے منترا کیا ہوگا۔
بنگلہ دیش پاکستان سے آگے،جوئے روٹ186رنز کے بعد خود ہی آئوٹ،افغانستان کامیاب،5اہم خبریں
شعیب اختر کہتے ہیں کہ پاکستان کے لئے یہاں 2صورتیں ہیں ۔پاکستان اسپن ٹریک بناتا ہے تو ٹھیک ہے 2 سے 3اسپنرز کھلالیں اور اٹیک کریں ۔ایک اور مسئلہ بھی ہے کہ 10 سال سے یہاں کرکٹ نہیں ہوئی ہے ،یہاں پچز نہیں بنائی ہیں،گرائونڈز مین کے ساتھ دماغ لڑالیں کہ یہ وکٹ چاہئے۔اگر
پاکستان نے فلیٹ پچز بنائیں اور ڈرا کی طر ف گیا تو نہایت ہی مشکلات ہونگی۔نیوزی لینڈ میں اور کنڈیشنز تھیں،جنوبی افریقا کی ٹیم ایک اور مشکل ہے۔پاکستان نے 500کیا تو وہ بھی 500کرجائیں گے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ میچ ڈرا۔پاکستان کو بڑی احتیاط کرنی ہوگی کہ پچز کیسی بنانی ہیں،ہوم ایڈوانٹیج کیسے لینا ہے،تیز ٹریک بنانا ہے تو کیسے مدد لینی ہے اور ایسا ٹریک بنانا ہے کہ پہلے 2دن پیسرز کو مدد ملے اور پھر وکٹ ٹوٹ جائے اورا سپنرز حاوی ہوجائیں تب ہی پچ مدد گار ہوگی۔
پاکستان کی سلیکشن اور ٹیم منیجمنٹ کو سوچنا ہوگا کہ کیا حکمت عملی ہے اور کیسی پچز ہونی چاہئیں۔
شعیب اختر کہتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان بہتر سوچ کے ساتھ گیا تو جیت سکتا ہے اور میری بھی یہی سوچ ہے کہ ٹیم جیت سکتی ہے۔پاکستان کو ہر قیمت پرجیتنا چاہئے اور اگر پاکستان یہاں ہارتا ہے تو پھر نہایت ہی مشکلات ہونگی۔ٹیم منیجمنٹ خطرے میں ہوگی اور بھی لمبے مسائل کھڑے ہونگے،پاکستان کرکٹ کو بڑا نقصان ہوگا۔پی سی بی کہتا ہے کہ پاکستان جیت گیا تو کوچ تبدیل نہیں ہوگا۔شعیب اختر کہتے ہیں کہ میری اطلاع کےمطابق مصباح کی رخصتی ہوگی۔نئے کوچ کے لئے گیری کرسٹن سے بات چل رہی تھی۔اینڈی فلاور کے ساتھ لمبی بات ہورہی ہے۔کسی اور بھی روابط ہیں،یہ بتاتے نہیں ہیں۔پاکستان سیریز ہارا تو مصباح کی چھٹی ہوگی۔پاکستان دلیری کے ساتھ کھیلا تو جیت سکتا ہے۔پچز اور ٹیم کمبی نیشن اہم ہوگا۔ڈریسنگ روم کی ٹیم منیجمنٹ خطرے میں ہے،پاکستان سیریز ہارا تو پی سی بی ٹیم منیجمنٹ اڑاکررکھ دے گا۔میری خواہش ہے کہ پاکستان پروٹیز کو پکڑ لے۔سیریز نہایت ہی سخت اور خطرناک ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں