کرکٹ میں کرپشن اور فکسنگ کے سائے،آئی سی سی کا نیا اعتراف

انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے دعویٰ کیا ہے کہ اعلیٰ سطح کی کرکٹ کرپشن سے پاک ہوگئی ہے لیکن نچلی سطح کی کرکٹ میں ماردھاڑ ابھی جاری ہے لیکن انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کی کوششوں اور باہر کے ممالک کے تعاون کے باعث اس میں بھی خاصی بہتری آئی ہے ،یہ جنگ ابھی جاری ہے،اس میں 50 فیصد کامیابی ہوگئی ہے جبکہ اعلیٰ سطح کی کرکٹ میں 100 فیصد کامیاب ہوگئے ہیں.

آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ ایلکس مارشل نے انکشاف کیا ہے کہ پرائیویٹ کرکٹ لیگز میں بکیز جدید تیکنالوجی سے حملہ آور ہوتے ہیں اور ایسے مواصلات استعمال کرتے ہیں کہ ان تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے،ایسے لوگ ان ممالک ک ہدف بناتے ہیں جن کے چند لوگ شارٹ کٹ طریقہ سے دولت کے خواہش مند ہوتے ہیں ،اس کے لئے پورے کھیل کو وہ متاثر نہیں کرسکتے،ان کو یا تو کپتان کا تعاون درکار ہوتا ہے اور یا پھر ایک خاص بائولر یا بیٹسمین لیکن آئی سی سی کی ان عناصر اور ایسی کرکٹ پر نگاہیں مرکوز ہیں.

آئی سی سی سربراہ کایہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت میں آئی پی ایل کے دوران ایک بکی کے کلینر کے روپ میں حملہ آور ہونے کا انکشاف ہوا ہے،ساتھ میں سری لنکا سمیت کئی ممالک کے کھلاڑیوں کو گزشتہ12 ماہ میں سزا ئیں بھی ملی ہیں.

کیا انٹر نیشنل کرکٹ سے کرپشن اور فکسنگ ختم ہوگئی ہے؟آئی سی سی نے تو یقین دلادیا ہے کہ ہائی لیول کی کرکٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے،ان کی مراد ٹیسٹ،ون ڈے اور ٹی 20 انٹر نیشنل میچز ہیں لیکن دنیائے کرکٹ میں اب بھی بعض نتائج ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں،آئی سی سی اس حوالہ سے کیا کرے گی.

دوسری جانب ڈومیسٹک ٹی 20 لیگز میں اگر خرابیاں چل رہی ہیں تو وہ کیوں چل رہی ہیں،دنیا دیکھتی ہے کہ کمزو ر ممالک میں اس حوالہ سے کچھ اور عمل ہوتا ہے اور طاقتور ممالک میں کچھ اور،جب تک ہر جگہ ایک قانون نہیں چلے گا،اس وقت تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہوسکے گا.