ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل پر سنگین سوالات،انضمام الحق کی گھن گرج،نیا فارمولہ دے دیا

0 9

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل پر پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق نے اعتراض اٹھادیا ہے.یہ فائنل 18جون سے 23 جون تک سائوتھمپٹن میں کھیلا گیا تھا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل, جسے نیوزی لینڈ نے جیت لیا تھا،بھارتی ٹیم بارش کی بار بار مداخلت کے باوجود ناکامی سے نہ بچ سکی اور آخری دن ہارگئی.سابق کپتان انضمام الحق نے اس پر اپنا پہلا آفیشل رد عمل دیا ہے لیکن ان کے رد عمل نے یہ واضح کیا ہے کہ انہیں کافی سٹیک ہولڈرز سے شکایت ہوئی ہے.
اڑھائی روز میں میچ کا فیصلہ
سابق پاکستانی کپتان انضمام کہتے ہیں کہ اڑھائی روز میں میچ کا فیصلہ ہوگیا،3 دن سے زائد وقت کی بارش بھی میچ کو نہ بہاسکی ہے لیکن ساتھ ہی انضمام کہتے ہیں کہ مجھے بتایا جائے کہ فائنل کروانے والوں کو کس نے ایسی پچ بنانے کا مشورہ دیا تھا.کبھی کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ اس فائنل کے لئے کس نے ایسی پچ کی تجویز دی کہ جہاں بائولنگ ہی دکھائی دے اور بیٹنگ ہوتی نظر نہ آئے،میراسوال ہے کہ اتنے بڑے فائنل کی اتنی یکطرفہ پچ کیونکر بنائی گئی ہے.انضمام کہتے ہیں کہ دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ ٹیسٹ سیریز 2 بنیاد پر ہوتی ہیں،ایک ہوم سیریز ہوتی ہے اور ایک اوے سیریز ہوتی ہے لیکن فائنل کرواتے وقت اس بات کا خیال کیوں نہیں رکھا گیا ،اس لئے کہ ایشیائی ٹیموں کو انگلینڈ جیسی پچزپر کھیلنے میں مشکلات پیش آتی ہیں،یہ بات اس لئے بھی درست ہے کہ بھارت جیسی ٹیم کا انگلینڈ میں اوور آل ریکارڈ ہی تباہ کن ہے.ایسے میں وہ انہی پچزکی وجہ سے وہاں جاکر نیوزی لینڈ سے بھی ہارگئی .کرک سین آپ کو یاد کروادے کہ بھارتی ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف 92 اوورز کی بیٹنگ میں 216پر آئوٹ ہوگئی،پھر دوسری اننگ میں اس سے 200بھی نہ بن سکے تو نیوزی لینڈ نے معمولی ہدف پورا کرکے میچ جیت لیا.یہ بات اس لئے بھی درست ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل ہو،پچ میں بلے بازوں کے لئے کچھ نہ ہو،پیسرز کا غلبہ ہو،ایک ٹیم کے لئے ماحول سازگار ہو اور دوسری کے لئے نہایت خوف والا تو پھر یہ گلوبل ایونٹ کا فائنل نہیں بنتا بلکہ ایک ملک کی دوسرے ملک میں سیریز بنتی ہے جہاں کنڈیشن کو اپنے حق میں رکھنے والے کامیاب ہوجاتے ہیں.
ہار جیت کھیل کا حصہ
انضمام نے مزید کہا ہے کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن ایسے میچ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوا،آئی سی سی فائنل سے ایک ٹیم کو فائدہ پہنچایا گیا.دوسری کو نقصان پہنچادیا گیا،پھر یہ فیصلہ کس بنیاد پر ہوا ہے کہ اس کافائنل انگلینڈ میں ہی ہوگا،اب ایشیا کی ٹیم وہاں کیسے کھیلے گی اوپر سے پچ بھی مخالف بنادی جاتی ہے،میرے خیال میں اس کے 2 فائنل میچز ہوتے،ایک فائنل نیوزی لینڈ میں رکھ لیتے اور ایک بھارت میں کھیل جاتے،یہ گلوبل ایونٹ کا فائنل تھا،ورلڈ کپ ایک جگہ پر کھیلاجاتا ہے،سب ایک ہی ماحول میں کھیلتے اور فائنل میں جاتے ہیں تو فائنل میں ایسے ماحول میں جیت کر ہی آتے ہیں تو پھر ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا لیکن یہ ٹیسٹ چیمپئن شپ مختلف ہے ،اس کے فائنل میں 2میچز ہوتے اور ایک ایک میچ اپنے اپنے ملک میں کھیل لیا جاتا،انضمام کے بقول یہ میری تجویز ہے کہ دوسری ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اس پر غور کیا جائے.
دوسری ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ بھی پہلی کی کاپی
کرک سین نے پہلے بھی رپورٹ کیا تھا کہ دوسری ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ بھی پہلی کی کاپی ہوگی،پوائنٹس سسٹم بھی ایوریج کی بنیاد پر سابقہ ہوگا،فائنل کے میچز بھی نہیں بڑھائے گئے ہیں لیکن اس بار ایک تبدیلی ہے کہ فائنل کے میزبان مقام کا اعلان تاحال نہیں ہوا ہے.آئی سی سی پہلے فائنل کے تجربہ کی بنیاد پر دوسرے فائنل کی میزبانی اس ملک کو دے سکتی ہے کہ جو فائنل کھیلے اور ساتھ میں واقعی میچزکی تعداد بھی بڑھائی جاسکتی ہے،اسکے لئے انضمام الحق کی تجویز قابل عمل ہے.پاکستان کے لئے ایک عرصہ تک بیٹنگ کا بوجھ اٹھانے والے سابق رائٹ ہینڈ بیٹسمین انضمام الحق نے اپنے آفیشل یو ٹیوب چینل پر مزید یہ کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کو بہت مبارک ہو کہ ان کے پلیئرز نے اچھی کرکٹ کھیلی،بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن کو اتھاڑتی کے ساتھ کھیلنے نہیں دیا ہے،اس میچ کی پہلی اننگ کو دیکھا جائے تو پہلے 10 سے 15 اوورز میں کوئی وکٹ نہیں گری تھی لیکن بھارت نے اس کا فائدہ نہیں اٹھایا اور یہی کچھ نیوزی لینڈ نے کیا اور برتری نہیں لی،پھر دوسری اننگ میں جب رہانے وغیرہ سیٹ تھے تو انہیں اسکور بنالینا چاہئے تھا ،وہ پھر 170 پر آئوٹ ہوگئے .اب نیوزی لینڈ کو140رنز بنانے کے لئے مشکل تھی مگر بھارتی بائولرز اس کا فائدہ نہیں اٹھاسکے .یہ عجب بات تھی کہ کین ولیمسن دوسسری اننگ میں کھڑے ہوگئے لیکن بھارت کے بیٹسمین دوسری اننگ میں یہ سب نہیں کرسکے. ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل
انضمام الحق کے تبصرہ میں بھارت کی ٹیم سے کچھ ہمدردی
انضمام الحق کے تبصرہ میں بھارت کی ٹیم سے کچھ ہمدردی دکھائی دی ہے کیونکہ وہ بار بار کنڈیشن کی بات کرتے رہے اور پچ پر سوالات کھڑے کرتے رہے کیونکہ اس کا نقصان صرف بھارت کو ہی ہوا ہے .کرک سین نے اس فائنل پر اپنے کھلے تبصروں میں ایک بات اٹھائی تھی کہ دونوں ٹیموں نے منفی کرکٹ کھیلی ہے،ڈر ڈر کر بیٹنگ کرتے دکھائی دیئے لیکن انضمام نے اس مسئلہ پر آواز بلند نہیں کی ہے بلکہ وہ باربار اسباب کی بات کرتے پائے گئے،یہ بات اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ فائنل کی کنڈیشن کسی بھی ایشیائی ٹیم کے لئے موزوں نہیں تھی لیکن یہ کہا جائے کہ سب کچھ جیسے پلان کے مطابق ہوا ہے ،کچھ عجب سا ہوگا،انضمام بات کر بھی رہے ہیں اور دامن بچا بھی گئے ہیں،سیدھا سادھا سوال اٹھادیں،شاید سوال کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں.
مشکل کا حل
کرک سین یہ مشکل کچھ یوں حل کرسکتا ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل آئی سی سی کا گلوبل ایونٹ ہے،آئی سی سی پر کس کی اجارہ داری ہے،سب کے علم میں ہے،پھر جہاں یہ فائنل کھیلا گیا،وہ ملک بھی بگ تھری کے رکن کے طور پر بھارت کے ساتھ ہے تو بھارت کے ساتھ زور زبردستی تو نہیں کی گئی ہے ،گویا جو کچھ ہوا،اس میں اس کی رضامندی شامل تھی .اب آپ کرک سین کے ایک تبصرے اور پیش گوئی کو یاد کریں کہ اس میں کہا گیا تھا کہ یہ فائنل نیوزی لینڈ جیتے گا اور پھر نیوزی لینڈ ہی جیتا ہے،اس نتیجہ میں سوچنے والوں کے لئے بہت کچھ ہوگا لیکن انضمام الحق دائیں بائیں سے سوالات تو کر رہے ہیں لیکن اپنی سوچ درست طور پر نہیں بتارہے ہیں.  ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل

Leave A Reply

Your email address will not be published.