اظہر علی نام کے سینئر،کارناموں میں گریٹ پلیئرز سے بہت پیچھے،وژڈن بھی ناخوش

تجزیہ : عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سینئر ٹیسٹ بیٹسمین اظہر علی 37ویں سال میں داخل ہوگئے ہیں.پاکستان کے لئے87 ٹیسٹ میچز کھیلنے والے اظہر علی کو جاوید میاں داد،انضمام الحق،یونس خان اور محمد یوسف کے پائے کا ٹیسٹ پلیئر قرار دیا جاسکتا ہے؟کرکٹ کے معروف ادارے وژڈن نے اظہر علی کو گریٹ بیٹسمین ماننے سے انکار کردیا ہے اور اس کے نزدیک اظہر علی کے پاس پاکستان کے ٹاپ 4 ٹیسٹ پلیئرز کے قریب پہنچنے کی کوئی پرفارمنس نہیں ہے،ان میں سے کسی نے ملک کے لئے زیادہ ٹیسٹ رنزبنائے ہیں تو کسی نے سنچریز اسکور کر رکھی ہیں اور کسی کی ایوریج آسمانوں کی بلندی پر ہے.

پاکستان کے لئے ریکارڈ زیادہ ٹیسٹ اسکور کرنے والے یونس خان 118 میچز میں213 اننگز کھیلی ہیں اور52 سے زائد کی اوسط سے10099 اسکور کئے،34 سنچریز اور 33ہاف سنچریز ہیں،313 ہائی اسکور ہے،پھر انہوں نے دنیا کے ہر میدان میں اپنی کارکردگی دکھائی ہے،اسی طرح محمد یوسف ہیں،انہوں نےصرف 90ٹیسٹ میچز کی156 اننگز میں یونس سے اعشاریہ24 زائد یعنی 52 اعشاریہ29 کی ایوریج سے7530 اسکور کئے.24 سنچریز اور33 ہاف سنچریز ہیں.223 ہائی اسکور ہے.

جاوید میاں داد نے پاکستان کے لئے124 ٹیسٹ کی 189 اننگز میں 52 اعشاریہ 57 کی اوسط سے 8832 اسکور کئے ہیں اور انہوں نے280 ناقابل شکست انفرادی اننگ کے ساتھ23 سنچریز اور 43 ہاف سنچریز اپنے نام کی ہیں.انضمام اٌلحق نے 120ٹیسٹ کی 200اننگز میں 49اعشاریہ 60 کی اوسط سے8830 اسکور کئے.25 سنچریز اور 46ہاف سنچریز تھیں،329 ہائی اسکور تھا.

ان کے مقابلہ میں اظہر علی کو لے لیں،ہرارے میں زمبابوے کے خلاف اپنے کیریئر کا 87 واں میچ کھیل رہے ہیں.162ویں اننگ کھیل گئے.6579 اسکور کئے ہیں.18 سنچریز اور33 ہاف سنچریز ہیں،302 ناقابل شکست بڑی اننگ ہے لیکن انگلینڈ،آسٹریلیا کی وکٹوں پر زیادہ کامیاب نہیں رہے ہیں اور بیٹنگ اوسط سب سے کم 43 کے قریب ہے.اظہر نے اب سے چند سال قبل مسلسل 24 ماہ 27کی اوسط سے ٹیسٹ اسکور کئے تھے.اظہر علی نے انگلینڈ کے دوروں میں ہر بار ایک سنچری ضرور بنائی،اسی طرح آسٹریلیا میں ایک ڈبل سنچری بھی اسکور کی لیکن کارکردگی میں عدم تسلسل نے ان کی اوسط اور اسکورکی تعداد کم رکھی ہے،

اظہر علی محمدیوسف کے 90 ٹیسٹ کے قریب آنے والے ہیں لیکن 10 کے قریب بیٹنگ ایوریج کی کمی ہے،1000کے قریب اسکور کم ہیں اور ان سے 6 سنچریز پیچھے ہیں.36 سال اور 80 دن کے اظہر علی کے پاس کتنا کیریئر باقی ہے.محمد یوسف ان سے چھوٹی عمر میں آخری ٹیسٹ کھیل گئے تھے.انضمام نے قریب اظہر کی عمرمیں 2007میں آخری ٹیسٹ کھیلا تھا.یونس خان کے وقت تک کھیلنے کے لئے اظہر علی ایک سال اور کھیل سکتے ہیں لیکن ان تک پہنچنے کا راستہ کوئی نہیں ہے.

87 ٹیسٹ میچز میں جاکر 18ویں سنچری کرنے اور43 کی اوسط سے6579 اسکور اظہر علی کو کس پائے کا ٹیسٹ پلیئر ثابت کرتے ہیں،کم سے کم یونس،میاں داد،انضمام اور محمد یوسف کے قریب کا بھی نہیں ،حتیٰ کہ مصباح الحق سے بھی وہ دور ہیں ،جنہوں نے 46 سے زائد کی اوسط سے ٹیسٹ اسکور کئے ہیں.پاکستان کرکٹ کے ریڈار پر اظہر علی کے چمکنے کا کوئی ایسا معجزہ ہی ہوسکتا ہے کہ وہ مصباح کی طرح 40 سال سے اوپر تک کھیل جائیں اور آخری عرصہ میں 55کے قریب کی اوسط سے اسکور کریں تاکہ ریٹائرمنٹ کے وقت ان کا مجموعی اوسط 50 سے اوپر ہوجائے اور اس دوران 10کے قریب سنچریز کردیں تو پھر وہ گریٹ پلیئرز میں شمار ہونگے،ورنہ وژڈن تو کیا کوئی بھی انہیں بہترین بیٹسمینوں میں شمار نہیں کرے گا.