قومی اسکواڈز کا انتخاب،چیف سلیکٹر اور کپتان آمنے سامنے؟حقائق کیا،شٹ اپ کال کی ضرورت کسے

پاکستان کرکٹ کے حوالہ سے ہردور میں نت نئی کہانیاں اور پراسرارسرگوشیاں جاری رہتی ہیں ،ساتھ میں ایک اور روش زور پکڑتی جارہی ہے کہ سٹیک ہولڈرزاپنی مرضی ومنشا سے باتیں باہر نکلواتے رہتے ہیں.باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو ہر گروپ کے لوگ مخصوص لوگوں سے اپنے دل کی بات نکلواتے آئے ہیں.یہ کوئی نئی بات نہیں ہے.عمران خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے یہی طریقہ رہا ہے،اسے کسی نے بھی توڑنے کی کوشش نہیں کی جو کہ اب زور پکڑتا جارہا ہے.

ہفتہ کو پاکستانی میڈیا میں ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دورہ جنوبی افریقا و زمبابوے کے لئے منتخب کردہ قومی اسکواڈز سے کپتان بابر اعظم اور ہیڈ کوچ مصباح الحق مطمئن نہیں ہیں.سما ٹی وی رپورٹ کے مطابق کپتان بابر اعظم نے تو پی سی بی چیف ایگزیکٹو وسیم خان سے ملاقات کر کے انہیں شکایت بھی لگادی ہے اورساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ حتمی الیون ٹیم ہماری مرضی کی نہیں بنے گی کیونکہ چیف سلیکٹر محمد وسیم سے جتنی مشاورت ہوئی ہے،انہوں نے ہمارے منتخب کردہ نام شامل نہیں کئے بلکہ اپنی مرضی کرتے ہوئے من چاہے نام سلیکٹ کر لئے ہیں.ٹی وی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ہیڈ کوچ مصباح بھی شدید ناراض ہیں اور کپتان بابر اعظم کی برہمی بھی واضح ہے اس لئے شاید نتائج کی ذمہ داری وہ قبول ہی نہ کریں.

جنوبی افریقا وزمبابوےکےلئےقومی اسکواڈز کی رونمائی،کس کی ہوئی شنوائی،کس کی رسوائی ،مکمل تفصیل ،بریکنگ نیوز

کرک سین نے آپ کے سامنے یہ صورتحال اور تفصیل رکھ دی ہے.آگے بڑھنے سے قبل یہ واضح ہوتا چلے کہ جمعہ کو پی سی بی چیف سلیکٹر محمد وسیم نے پاکستان کے تینوں اسکواڈز کا اعلان کیا تھا،اس میں کچھ نئے کھلاڑی شامل کئےگئے،آئوٹ آف فارم کھلاڑی باہر کئے گئے جبکہ ان فٹ پلیئرز کو سائیڈ لائن کیا گیا ہے.چیف سلیکٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کپتان ودیگر سے مشاورت کے بعد ٹیم منتخب کی ہے جبکہ کپتان وکوچ کے مبینہ دعوے میں اس کی نفی ہے.

حقائق کیا ہیں

پاکستان کرکٹ کا چیف سلیکٹر کسی بھی زمانہ میں طاقتور نہیں رہا ہے کہ وہ 11کے 11 کھلاڑی اپنی مرضی کے سامنے لے آئے،حتیٰ کہ انضمام جیسا قد رکھنے والے چیف سلیکٹر بھی سرفراز و مکی آرتھر کی رائے کے آگے جھک جایا کرتے تھے،اس لئے یہ مبینہ دعویٰ کہ تمام 11کھلاڑی کپتان کی مرضی کے نہیں ہیں یا مشاورت کے برعکس انتخاب کیا گیا ہے.جزوی طور پر تو درست ہوسکتا ہے لیکن مکمل طور پر یہ سچ نہیں ہوسکتا.اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ پاکستان کا کپتان اتنا طاقتور ہوگیا ہے کہ صرف اس کی مرضی چلتی ہے اور چیف سلیکٹر صرف نام کا ہوگیا ہے.

کرک سین تحقیق کے مطابق پی سی بی چیف سلیکٹر وسیم خان نے مشاورت کے بعد گنتی کے چند نام دومیسٹک پرفارمنس پر ٹیم میں شامل کئے ہیں،ان کی منتخب کردہ سائیڈ نےجنوبی افریقا کے خلاف ہوم سیریز جیتی ہے اس لئے وہ خاصے باعتماد بھی ہیں.کپتان وہیڈ کوچ کو اگر وہ لڑکے نہیں کھلانے تو مت کھلائیں مگر یہ کہنا کہ 11کے 11کھلاڑی ہی نئے ہیں یا ان کی مرضی کے خلاف ہیں ،یہ غلط بات ہے .ہم دلیل سے ثابت کریں گے کہ یہ غلط ہے.ذرا ٹی 20 اسکواڈ پر نظر ڈالیں.

بابر اعظم کو شاداب خان کی ضروت نہیں تھی ؟ کہ وہ شامل کئے گئے .کیا ان کو فہیم اشرف بھی بوجھ لگ رہے ہیں جنکی حالیہ پرفارمنس شاندار ہے.حیدر علی، حارث رؤف، حسن علی ، محمد حفیظ ، محمد حسنین، محمد نواز ، محمد رضوان، محمد ، سرفراز احمد، شاہین شاہ آفریدی، شرجیل خان اور عثمان قادر میں سے کون بوجھ ہے.لے دے کر آصف علی،ارشد اقبال اور دانش عزیز باقی بچے ہیں ،ان کی جگہ کیا درکار تھا؟عماد وسیم!انہوں نے پی ایس ایل میں بائولنگ کیوں نہیں کی.اسی طرح اور کون تھا کہ جس سے کپتان وکوچ متاثر ہوگئے ہیں.یہی حال ٹیسٹ اور ون ڈے اسکواڈز کا ہے.اس میں وہی 11 رکنی ٹیم بن سکتی ہے جس سے مصباح اور بابر مسلسل کھیلتے چلے آرہے ہیں.

ایسا لگتا ہے کہ شرجیل خان کی سلیکشن کا کسی کو بہت غصہ ہے.شاید اس کے رد عمل میں ایسا اظہار ہورہا ہے.یہ نہایت عجب منطق ہے،اسے بند کمروں تک ہی رکھا جاتا تو بہتر تھا.کرک سین بابر اور مصباح کے مبینہ اعتراض اور رد عمل میں پی سی بی چیف وسیم خان تک پہنچ جانےکو نہایت غلط سمجھتا ہے.اگر ایسا ہی ہے تو پھر چیف سلیکٹرکا عہدہ ہی ختم کردینا چاہئے،کپتان وہیڈ کوچ نے ٹیم کھلانی ہے تو پھر وہی منتخب کرلیا کریں.پی سی بی نے چیف سلیکٹر رکھ کر حماقت کر رکھی ہے اور یا پھر تمام کرکٹ کھیلنےوالے ممالک کے بورڈز بھی احمق ہیں کہ انہوں نے چیف سلیکٹر رکھا ہوا ہے.ٹیم سلیکشن کے حوالہ سے تفصیلی بحث پھر سہی،یہاں صرف اتنی سی گزارش ہے کہ اگر بابر اعظم چیف سلیکٹر کی شکایت لئے پی سی بی چیف تک گئے ہیں تو یہ کوڈ آف کنڈیکٹ کے زمرے میں آتا ہے.پی سی بی کو اپنے چیف سلیکٹر کی عزت اور وقار کے لئے ایک وضاحتی بیان جاری کرنا چاہئے ورنہ ہمیں اگلی سیریز میں نیا چیف سلیکٹر دکھائی دے گا اور یہ کوئی اچھی بات نہ ہوگی.