پاک بھارت ورلڈ ٹی 20 میچ کا شیڈول فائنل،کس کا انکار آنے والا

0 17

تجزیہ : عمران عثمانی
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ کا دن طے ہوگیا ہے،دونوں ممالک نے اس پر اتفاق کرلیا ہے کہ وہ ورلڈ ٹی 20 میں اس سال ایک دوسرے کے مقابل ہونگے ،ایونٹ آئی سی سی کا ہے اور اس نے تاحال شیڈول کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن بدھ کے روز صبح سے ہی بھارتی میڈیا میں یہ خبر چلنا شروع ہوئی ہے کہ پاکستان اور بھارت کا ورلڈ ٹی 20 میچ 24 اکتوبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا،اس کے بعد تمام ملکی وغیر ملکی میڈیا میں یہ خبر پھیل گئی.
انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے اس کا باقاعدہ اعلان اگلے 2 سے 3 روز میں کرنا ہے ہے لیکن اس سے پہلے ہی ایونٹ کے سب سے جاندار میچ کا شیڈول سامنے آگیا جو کہ آئی سی سی کی تھوڑی ناکامی ہے یا یوں کہہ لیں کہ پھر اپنے قریبی افراد میں خبر لیک کرنے کی روایت ہے جو کہ نہیں ہونی چاہئے.اس طرح ایک ہی بات 2 مختلف انداز اور مواقع پر جاری ہوتو عجب لگتی ہے اور اپنی اہمیت کھودیتی ہے.ورلڈ ٹی 20 کا آغاز 14 اکتوبر سے متحدہ عرب امارات میں ہوگا.پہلے ہفتہ میں ابتدائی رائونڈ کے میچز ہونگے،عمان بھی میزبانی کرے گا لیکن اس کے بعد 24 اکتوبر سے سپر 12 کے میچز ہونگے.لگتا ہے کہ پہلے روز ہی ایونٹ کا بڑا میچ کروایا جارہا ہے تاکہ دنیا بھر کی توجہ اس کی جانب مبذول ہوسکے.پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں رکھے گئے ہیں.
ورلڈٹی 20 اس بار 5 سال بعد کھیلا جائے گا.کوروناکی وجہ سے گزشتہ سال یہ ایونٹ آسٹریلیا میں نہ ہوسکا تھا ،اس سال کا ایونٹ اگر چہ اپنے شیڈول کے مطابق ہورہا ہے لیکن اس کا مقام تبدیل ہوگیا ہے اور بھارت کی بجائے متحدہ عرب امارات اس کی میزبانی کرے گا.پاک بھارت میچ دبئی انٹر نیشنل کرکٹ گرائونڈ میں 24ا کتوبر اتوار کے روز کھیلا جائے گا.
پاک بھارت کرکٹ کے حوالہ سے خاص اہمیت
پاک بھارت کرکٹ کے حوالہ سے خاص اہمیت پائی جاتی ہے.آرگنائزرز سے لے کر ہرسطح پر اس میں شامل ہونے والوں کے لئے دلچسپیاں ہیں جب کہ کرکٹ فینز کے لئے تو اس سے بھی بڑھ کر بہت کچھ ہے،اس لئے سب کو اس مقابلہ کا انتظار ہوتا ہے.گزشتہ دنوں دونوں ممالک میں باہمی کرکٹ سیریزکی بحالی کی باتیں ہوئی تھیں لیکن پھر خطے کی بدلتی صورتحال نے اسے بھی پس پشت ڈال دیا ہےا ور اب کشمیر پریمئر لیگ کی وجہ اسے ایک بار پھر لوہا گرم ہے اور تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے.ایونٹ کے آغاز میں اگر چہ ابھی 2 ماہ کا وقت باقی ہے،اس دوران بہت کچھ
بد ل سکتا ہے اور بہت کچھ نیا بھی ہوسکتا ہے،اس لئے فضا کیسی ہوگی،کچھ کہنا قابل ازوقت ہے.
پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے خلاف باہمی سیریز نہیں کھیلتے
سوال یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے خلاف باہمی سیریز نہیں کھیلتے ہیں لیکن جب بھی آئی سی سی ایونٹ آتا ہے تو آمنے سامنے ہوتے ہیں اور کھیلتے ہیں،اس سے انکار نہیں کرتے.اس کا جواب یہ دیا جاتا ہےکہ یہ چونکہ آئی سی سی ایونٹ ہے،اس لئے اس میں کھیلنا پڑتا ہے ،یہ ایک کمزور جواب ہے کیونکہ باہمی سیریز بھی آئی سی سی فیوچر ٹور پروگرام کا حصہ ہوتی ہیں اور ان دنوں تو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے ٹائٹل کے تلے ٹیسٹ سیریز ہورہی ہیں اور ورلڈ کپ سپر لیگ کے عنوان کے تحت باہمی ایک روزہ سیریز منعقد ہوتی ہیں اور یہ بھی آئی سی سی کے انڈر کنٹرول ہیں .ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل خود آئی سی سی نے آرگنائز کرنا ہوتا ہے،اسی طرح ورلڈ کپ سپر لیگ سے آئی سی سی ورلڈ کپ میں داخلہ کاٹکٹ ملنا ہے،تو یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ بھی تو آئی سی سی سے متعلقہ میچز یا سیریز ہیں تو ان میں یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کیوں نہیں کھیلتے ہیں.
آئی سی سی ایونٹس کے میچز سے براہ راست کسے فائدہ
پاکستان اور بھارت کے مابین آئی سی سی ایونٹس کے میچز سے براہ راست کسے فائدہ ہوتا ہے،یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے تو اسی فائدے کی ضرورت پاکستان کو بھی ہے،ایک لمحہ کے لئے فرض کرلیں کہ دونوں ممالک میں سے کوئی ایک یادونوں ہی یہ میچز بھی کھیلنے سے انکار کردیں تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا.یہ ممالک یہی کہیں گے کہ ہمیں ہماری حکومتوں نے اجازت نہیں دی تو آئی سی سی کیا کرے گی.جب وہ اسی موقف پر باہمی سیریز کے حوالہ سے کچھ نہیں کرسکتی تو اپنے ایونٹس کے حوالہ سے کس قانون کا سہارالے گی اور اگر یہاں کوئی قانون اسے ملے گا تو اس کا اطلاق تمام سیریز پر بھی ہوگا.
غیر جانبداری سے صورتحال کا تجزیہ
غیر جانبداری سے صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو ایک ایسی نورا کشتی ہے جس میں اپنی مرضی کے فیصلے ہیں ،اپنے ہی مقرر کردہ ضابطے ہیں کہ جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے،اس لئے کہا جاتا ہے کہ کرکٹ کی گلوبل باڈی اپنی رٹ درست معنوں میں قائم کرنے میں ناکام ہے.اب جب کہ آئی سی سی ایونٹس میں یہ ملک کھیلنے کو تیار ہیں تو پھر باہمی سیریز بھی کھیلیں اور آئی سی سی اس میں بھی اپنا کردار ادا کرے،نہیں تو بہتر ہوگا کہ پاکستان پہل کرتے ہوئے آئی سی سی ایونٹس میں بھارت کے خلاف کھیلنے سے انکار کردے،زیادہ سے زیادہ 2 پوائنٹس ہی جائیں گے تو جانے دیں،اس سے زیادہ جو بھی ہو،ہولینے دیں تاکہ پھر اس کا اطلاق باہمی سیریز پر بھی کیاجائے.یہ معاملہ ایک بار حل کرہی لیا جائے تو بہتر ہوگا ورنہ پاکستان نے آئی سی سی ایونٹس میں بھارت سے ہارنے ہی جانا ہے.اب تک دونوں ممالک میں 5 بار ورلڈ ٹی 20 میچز کا ٹاکرا ہوا ہے.پاکستان نے ایک میچ ٹائی کھیلا تھا لیکن بعد میں وہ بھی نتیجہ کے اعتبار سے بھارت کے نام رہا تو گویا تمام 5 میچزمیں پاکستان کو شکست ہوئی ہے،اس میں 2007 ورلڈ ٹی 20 کا فائنل بھی شامل ہے .اب اگر یہ پیمانہ ہے تو کس لئے یہ پریکٹس ہوتی ہے،صرف اس لئے کہ گلوبل باڈی کو اسپانسرشپ سے ایک بڑی رقم حاصل ہوجائے اور کھیل کو 2 یا 4 سال بعد ایک جمپ لگ جائے اور اس کے بعد پھر طویل خاموشی ہو.ریکارڈ گواہ ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف سیریز کھیلنے سے انکار کیا ہے تو ایک بار پاکستان بھی یہ تاریخ دہرادے اور طویل بنیادوں پر کرکٹ بحالی کی غرض سے ایک ایونٹ کا میچ چھوڑدے.
یہ بھی اہم ہے
دوسرا ٹی 20،آسٹریلیا کاتخت سے دھڑن تختہ،بنگلہ دیش پھر کامیاب

Leave A Reply

Your email address will not be published.