سرفراز احمدجنوبی افریقا میں مجرم،ڈی کاک کیسے کلیئر،برطانوی اخبارنے تو لٹار ہی دیا

تجزیاتی رپورٹ:عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نرم رویہ،ٹیم منیجمنٹ کے دفاعی اسٹائل کے بعد آئی سی سی میچ ریفری اور امپائرز نے کوئنٹن ڈی کاک کو دودھ کا دھلا قرار دے دیا ہے.واقعہ اتنا کلیئر اور صاف تھا کہ غیر جانبدار حلقوں اور میڈیا نےبھی اس پر انگلیاں اٹھائی ہیں اور واضح طور پر کہا ہے کہ ڈی کاک نے فخر زمان کے ساتھ کھلواڑ کیا اور پھر اپنی کامیابی پر قہقہے بھی لگائے ہیں.چنانچہ میچ آفیشلز نے ڈی کاک کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کیا ہے.
ایسا کیوں ہوا ہے،جب ایک فیلڈر نےقانون کی خلاف ورزی کی،فخر کو غلط راستہ دکھایا اور اس کے بعد رن آئوٹ پر ان کا ہنسنا وکٹ لینے کا جشن منانا نہیں تھا بلکہ مذاق اڑانے والا انداز تھا،ایسے میں میچ آفیشلز کا آنکھیں بند رکھنا بھی اپنی جگہ مذاق ہے.

آئی سی سی ریفری اور میچ آفیشلز نے فخر زمان رن آئوٹ پر فیصلہ سنادیا

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے عنوان دیا ہے کہ جنوبی افریقا کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر کوئنٹن ڈی کاک نے پاکستان کے فخر زمان کو جان بوجھ کر بے وقوف بنایا،اسپرٹ آف گیم کی خلاف ورزی کی لیکن انہیں کلیئر کردیا گیا.اپنی رپورٹ میں اس نے مکمل واقعہ کی تصویر کشی کی اور وہ نکات اٹھائے جس کی جانب کرک سین گزشتہ رات سے اشارہ کر رہا ہے کہ یہ سب طے شدہ پوائنٹ کے تحت کیا گیا تھا.

کوئنٹن ڈی کاک کلیئر ہوگئے لیکن سپرٹ آف گیم تباہ کرگئے،جنوبی افریقا وہی ملک ہے جہاں گزشتہ دورہ میں سرفراز احمد نے بھی خود کلامی کےا نداز میں فلکوایوکو، ابے کالے بول دیا تھا اور ساتھ میں بڑبڑارہے تھے کہ کون سا دودھ پی کر آگئے ہو جومارے جارہے ہو.
آئی سی سی ریفری اور کرکٹ جنوبی افریقا نے سرفراز احمد کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا،2دن میڈیا پر تماشے لگا کر انہوں نے 5میچز کی پابندی لگادی تھی،دنیا کو درس دیا تھا کہ یہ ملک نسل پرستی کے حوالہ سے ایسا ہے اور ویسا ہے.کرکٹ شائقین اسے بھولے تو نہیں ہیں.

فخرزمان رن آئوٹ پرایم سی سی کا آفیشل رد عمل آگیا،آئی سی سی نے کیا کیا

میں یہ مثال بہت سوچ سمجھ کر لکھ رہا ہوں کہ سرفراز احمد مار پڑنے پر بڑے میٹھے انداز میں خود کلامی کئے جارہے تھے،ان کا مقصد تذلیل کرنا نہیں تھا،ان کا مقصد کسی کا مذاق اڑانا نہیں تھا،انہوں نے تو فلکوایو کو مخاطب بھی نہیں کیا تھا،ان کو اپنی جانب متوجہ بھی نہیں کیا تھا،یہ آسان لفظوں میں ایک شغلی اسٹائل تھا.آئی سی سی کے اس وقت کے آفیشلز کو کیوں دکھائی نہیں دیا تھا کہ سرفراز کا یہ مقصد نہیں تھا،یہ ارادہ نہیں تھا ،سزا دیتے وقت ہمیشہ تمام زاویوں کو محور بنایا جاتا ہے،ایک بھی نرم ثبوت ملز م کو بری کرتا ہے،شک کا فائدہ دیتا ہے لیکن آفرین ہے کہ اس وقت تو آئی سی سی ہیڈ کوارٹر سے سب کچھ آپریٹ ہورہا تھا اور کھیل کی روح و انسانیت کی عزت کے لئے ایک لمحہ کے لئے بھی شک یا مقصد پر غو ر نہیں کیا گیا.یقینی طور پر بہت ہی اچھا کیا ہوگا.کرک سین کو سرفراز کی سزا سے کوئی اختلاف نہیں ہے،اگر انہوں نے غلطی کی ہے تو قانون کے مطابق سزا ہی بنتی تھی ،بہت اچھا کیا بلکہ ایک مثال ،ایک نمونہ بنادیا.

اب کیا ہوا؟وہی جنوبی افریقا ہے،وہی ملک ہے،وہی کرکٹ ہے.کوئنٹن ڈی کاک نے تھرو کے بعد نا ن اسٹرائیکر اینڈ پر اشارہ کس لئے کیا؟تھرو ہونے کے بعد بھی وہ کیسا اشارہ کر رہے تھے،تھرو ہونے کے بعد وہ بھی دیکھ رہے تھے کہ بال ان کی طر ف آرہی ہے .پھر وہ کس کو دکھانے کے لئے اشارہ کر رہے تھے؟
سامنے بھاگے آرہے فخر زمان تھے،ڈی کاک کے دوسری بار اشارہ کرنے پر فخر نے بھی گردن گھمالی اور وہ جس وقت گردن گھمار ہے تھے تو اسی وقت ان کے عقب سے بال گزر کر وکٹوں سے ٹکرائی.اتنی قریب بال آنے کے بعد ڈی کاک کا اشارہ اپنے بائولر کوتھا؟تھرومارنے والے فیلڈر کے لئے تھا ؟ پھر دیکھیں کہ رن آئوٹ ہونے پر ڈی کاک کھلکھلا رہے ہیں،ان کا انداز وکٹ کے جشن منانے کا نہیں بلکہ ایک قسم کے اپنے کارنامہ پر فخر کرنے کا تھا؟یہ کتنے واضح اشارے ہیں،یہ کتنی واضح علامتیں ہیں،ان میں شک کا ایک فیصد بھی پہلو نہیں .اس کے باوجود ڈی کاک کلیئر قرار دے دیئے گئے.

یہ میرے الفاظ نہیں بلکہ برطانوی اخبار ڈیلی میل کے جملے ہیں کہ
ڈی کاک نے جان بوجھ کر فخر زمان کو بے وقوف بنایا.
ڈی کاک نے اسپرٹ آف گیم کی خلاف ورزی کی.
ڈی کاک فخر کے ساتھ یہ سب کرکےہنستے رہے.

میں پھر لکھ رہا ہوں کہ مندرجہ بالا 3جملے میرے نہیں ہیں بلکہ اس اخبار کے ہیں جن کے ملک میں ایسا لکھا نہیں جاتا،ڈی کاک اب لندن جائیں اور اخبار کے خلاف مقدمہ کریں.

2018کے شروع میں کیپ ٹائون ٹیسٹ میں اسی ملک میں اسی ٹیم کے خلاف آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم بال ٹیمپرنگ کرتی پکڑی گئی تھی،جنوبی افریقا سے اسپرٹ آف گیم اور ایمانداری کے ایسے لیکچر پھوٹے تھے کہ کپتان سٹیون سمتھ سمیت 3کھلاڑی سال کی سزا کا شکار ہوئے،سمتھ آج تک کپتان نہ بن سکے کیونکہ گیم کے وقار کی دھجیاں اڑی تھیں،کیونکہ گیم میں بے ایمانی اور نا انصافی ہورہی تھی.

اگر سٹیون سمتھ اور سرفراز والے معاملات میں بے ایمانی اور نسل پرستی تھی تو فخر و ڈی کاک کے اس واقعہ میں بے ایمانی،دھوکہ دہی،جعلی فیلڈنگ،فیک اشارے اور مذاق اڑانا جیسی باتیں نہیں ہیں؟

مجھے تو اتنا علم ہے کہ پی سی بی اور اس کی منیجمنٹ کا حال بھی وہی ہے جو ہماری حکومت کا ہے کہ قومی معاملات میں ہمارا مذاق اڑایا جارہا ہوتا ہے اور وہ اس کا منہ توڑ جواب دینے سےعاری ہوتے ہیں،ہو بہو یہی روش پی سی بی حکام کی ہے.مقروض ممالک والا رویہ،مقروض بورڈ والا انداز.

اپنا تبصرہ بھیجیں