سبینا پارک،پاکستان 44برس سے کیسے ناقابل شکست،آج پہلا ٹیسٹ

0 37


پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز،پہلا ٹیسٹ میچ،کنگسٹن جمیکا،ٹاس ،رات ساڑھے 7 بجے،میچ وقت،رات 8بجے

پاکستان کے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2023 میں داخلہ کا وقت آن پہنچا،ویسٹ انڈیز کے خلاف 2 ٹیسٹ میچزکی سیریزکا پہلا ٹیسٹ آج سے شروع ہوگا.دونوں ٹیموں کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2میں یہ پہلی سیریز اور پہلا میچ ہے جبکہ قومی کرکٹ ٹیم کے لئے اس بار یہ اس لئے بھی چیلنج ہے کہ گزشتہ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں کورونا کے باوجود میچز کھیلتے ہوئے اسے ناکامی ہوئی تھی ورنہ اچھی اچھی ٹیموں کی سیریز ملتوی ہوگئی تھیں.
کنگسٹن ،جمیکا میں موسم کا احوال
کنگسٹن جمیکا سے 24 گھنٹے قبل یہ اچھی خبر ہے کہ جمعرات کو پہلے سے موجود بارش کی پیش گوئی کا خطرہ ٹل گیا ہے اور 60 فیصد دھوپ کے ساتھ موسم صاف رہنے کی پیش گوئی ہے لیکن بادلوں کا بسیرا کسی وقت ہوگیا تو کچھ وقت کے لئے میچ متاثر ہوگا،البتہ میچ کے باقی تمام 4 روز بارش کی پیش گوئی ہے،اس لئے میچ بری طرح متاثر ہوسکتا ہے .یہی وجہ ہے کہ بدھ کو بابر اعظم نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے موسم کے وقت میچ کا متبادل دن ہونا چاہئے تاکہ کھیل ممکن ہوسکے ،پاکستان کے لئے اس بار ویسٹ انڈیز کے دورے میں بارش بڑا مسئلہ بنی ہے.4 میں سے 3 ٹی 20 میچز مکمل طور پر اس کی نذر ہوچکے ہیں اور اب پہلے ٹیسٹ پر بھی بادلوں کا بسیرا ہے.
سبینا پارک کی پچ
ویسٹ انڈیز کے اس ٹیسٹ سنٹر کی پچ ہمیشہ فاسٹ بائولرز کے لئے سازگار رہی ہے،23 برس قبل انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کا ٹیسٹ میچ اسی خطرناک پچ کی وجہ سے 11ویں اوور میں ختم کردیا گیا تھا مگر یہ گئے دنوں کی بات ہے،حالیہ عرصہ میں یہاں کی پچ کا رویہ تبدیل ہوا ہے ،بیٹسمین ہمت کرے تو اسکور بنتے ہیں،اسپنرز اچھے ہوں تو وکٹیں ملتی ہیں.4 برس قبل یاسر شاہ نے یہاں 8 وکٹیں لے کر پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا ،اس میچ کی وکٹ بھی کچھ ایسی ہوسکتی ہے لیکن غالب امکان یہ ہے کہ اس بار پیسرز کو زیادہ مدد دے گی،اوپر سے موسم بھی فاسٹ بائولرز کے لئے سازگار ہوگا.
کنگسٹن جمیکا ٹیسٹ میں ٹاس کا کردار
عام طور پر کپتان وکٹ دیکھ کر پہلے بیٹنگ یا فیلڈنگ کا فیصلہ کرتے ہیں.کرک سین کا ماننا ہے کہ اس بار ٹاس جیتنے والی ٹیم پہلے بیٹنگ کرلے تو زیادہ فائدہ ہوگا کیونکہ پہلے روز موسم کلیئر ہے اور اگلے 4 روز میں موسم اور ہوائیں پیسرز کو مدد دیں گی تو پہلے بیٹنگ والی ٹیم پہلے دن کا پہلا سیشن گزار کر 2 سیشن میں اسکور جوڑ سکتی ہے،اسکور کے بٹورنے کی یہ آزادی اگلے 4روز میں نہیں ملے گی.
سبینا پارک،پاکستان کے لئے سازگار
کرکٹ شائقین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ویسٹ انڈیز میں میزبان ٹیم کے خلاف اگر پاکستان کا کسی سنٹر میں ٹیسٹ ریکارڈ اچھا ہے تو وہ یہی گرائونڈ ہے،اب تک یہاں 4میچز پاکستان نے کھیلے ہیں اور مقابلہ ٹکر کا رہا ہے،حالانکہ ویسٹ انڈیز میں میچسیریز کے اعتبارسے پاکستان کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کے 4میچز میں مقابلہ 2-2 سے برابر ہے ،پاکستان کے لئے دوسری اچھی بات یہ ہے کہ اس نےجدید دور یا رواں صدی میں کھیلے گئے 2 میچز جیتے ہیں اور یہاں اس کا کم ترین اسکور بھی 198 ہے اور زیادہ اسکور 407 ہے.پاکستان نے یہاں 4میں سے 3 ٹاس جیتے ہیں جب کہ اسے 1958 اور 1977 کے دوروں میں یہاں کے میچزمیں ناکامی ہوئی تھی لیکن پھر 2005 اور 2017 کے دورے میں ٹیسٹ میچز جیتے تھے اور ان 2 کے ٹاس بھی پاکستان کے حق میں گئے تھے،اس لئے میزبان ٹیم کو یہ ریکارڈ یاد ہوگا اور یہ بھی یاد ہوگا کہ 1977 کے بعد وہ پاکستان کے خلاف یہاں ٹیسٹ میچ نہیں جیتے،اس طرح پاکستان سبینا پارک،کنگسٹن ،جمیکا میں 44 سال سے ناقابل شکست چلا آرہا ہے .
ویسٹ انڈیز میں 59 برس بعد جب پاکستان پہلی ٹیسٹ سیریز جیتا
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ممکنہ سلیکشن
کرک سین نے ایک رات قبل کے اپنے تبصرے میں پاکستان ،ویسٹ انڈیز کے ٹیسٹ ریکارڈز کے ساتھ میچ کی ممکنہ ٹیم کے بارے میں تفصیلی بحث کی تھی اور یہ بھی لکھا تھا کہ یا سر شاہ پہلی ترجیح ہونگے اور یہ بھی کہ شاہ نواز دھانی کو ٹیسٹ کیپ دیتے پاکستانی ٹیم منیجمنٹ ذرا گھبرائے گی کیونکہ اس کا ٹریک ریکارڈ یہی ہے،چنانچہ ٹیم محمد عباس،شاہین آفریدی اور حسن علی کے ساتھ جارہی ہے جب کہ وکٹ کو دیکھ کر فہیم اشرف یا نعمان علی میں سے کوئی ایک کھیلے گا،اب فہیم اشرف کا کھلایا جانا غلط ہوگا،اگر وکٹ پیسرز کے لئے اچھی ہے تو شاہ نواز دھانی بہترین چوائس ہونگے اور اس فیصلے کے لئے دفاعی نہیں نڈر قیادت درکار ہے اور وہ اس وقت پاکستانی ٹیم کو دستیاب نہیں ہے.اوپنرز وہی ہونگے جن کا کل ذکر کیا تھا کہ عابد علی اوعمران بٹ،اس کے بعد اظہر علی،بابر اعظم،فواد عالم،محمد رضوان آئیں گے.باقیوں کا ذکر ہوچکا ہے.اس کے مقابل ویسٹ انڈیز ٹیم میں کچھ تبدیلی ہوگی،جنوبی افریقا کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز کھیلنے والی سائیڈ سے 3 کھلاڑی باہر ہونگے،پیس اٹیک ویسٹ انڈیز کا زیادہ موثر ہے اور پاکستان کے لئے خطرناک ہوگا.
پاکستانی ٹیم کے ممکنہ مسائل
پاکستانی ٹیم کو ویسٹ انڈیز کے خلاف ناکام اوپننگ،مڈل آرڈر میں فلاپ شو اور کم سٹرائیک ریٹ کے مسائل ہوسکتے ہیں،اس لئے سبینا پارک میں ناقابل شکست رہنے کا طویل ریکارڈ خطرے میں ہے اور بارش شاید پاکستان کی مدد کردے کیونکہ ٹیم سلیکشن میں ایک جھول ابھی سے دکھائی دے رہا ہے جس پر میچ کے پہلے روز بات ہوگی.اسی طرح ٹیم کاپیس اٹیک اچھا نہیں ہوگا،یہاں بھی چند کمزوریاں ہٰن،قومی کرکٹ ٹیم کے ٹیسٹ سیٹ اپ میں بڑی خرابیاں ہیں،جن کا ذکر آگے ہوگا.فی الحال یہی کہا جاسکتا ہے کہ بابر اعظم کی ٹیسٹ قیادت کا کڑا امتحان ہے،پھر پاکستان نے ویسٹ انڈیز میں 2017 میں پہلی بار ٹیسٹ سیریز جیتی تھی،مصباح الحق اس وقت کپتان تھے لیکن اب پاکستان کےپاس اتنے دفاعی بیٹسمین نہیں ہیں‌جو ویسٹ انڈیز کو تھکاسکیں ،لے دے کر اگر فواد عالم پر بھروسہ کیا گیا تو ضروری نہیں ہے کہ وہ ہر اننگ میں چلیں،اظہر علیم،ایک اوپنر،بابر اور رضوان کو بیٹنگ کا بوجھ اٹھانا ہوگا،پاکستان کی شکست کئی افراد کو ہضم نہیں ہوسکے گی.بڑوں بڑوںکی سیٹ ہل جائے گی.
یہ بھی اسی سے جڑی خبر ہے
ٹیسٹ سیریز،6 باب میں ویسٹ انڈیز اور 2 میں پاکستان کو خسارہ،دلچسپ تحقیق

Leave A Reply

Your email address will not be published.