چیمپئنز ٹرافی بحالی،بھارت نے اس کے عوض بڑا ریلیف لے لیا،سب حیران

دنیائے کرکٹ بہت حیران تھی کہ اس ماہ کے شروع میں بگ تھری نے کیسے آسانی کے ساتھ آئی سی سی کے اگلے 8سالہ ایف ٹی پی میں 8آئی سی سی گلوبل ایونٹس کی منظوری میں ساتھ دے دیا.بھارت،انگلینڈ اور آسٹریلیا 2019سے اس کے مخالف تھے اور ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ آئی سی سی کے مقابلہ میں 4ٹیموں کا سپر کپ کروانے کا اعلان کردیا تھا جو ہر سال ہوتا،اس کا مقصد آئی سی سی کے لئے گلوبل ایونٹ کی ونڈو کو ناممکن بنانا تھا لیکن جون 2021 کے شروع میں آئی سی سی اجلاس میں یہ تینوں ممالک سب کے ساتھ مل گئے.

اس سلسلہ میں 2وجوہ سامنے آگئی ہیں،پہلی وجہ یہ ہے کہ بگ تھری کو باقی تمام ممالک کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا تھا،اس لئے ان ممالک کو بڑا یوٹرن لینا پڑا ،دوسری وجہ نہایت ہی حیران کن اور ذاتی مفاد کے تحفظ کو ظاہر کرتی ہے. بھارت نے اپنی آئی پی ایل کی ونڈو بڑھانے کی عبوری منظوری لے لی ہے اور اب یہ ایونٹ 65 سے 70 دن تک جائے گا اور اس میں 76سے 94میچز ہونگے ،2 ٹیموں‌کا اضافہ بھی کیا جائے گا.

کرک سین اس منصوبہ کی پوری رپورٹ چند ماہ قبل بھی شائع کرچکا ہے لیکن اب حتمی طورپر یہ بات ہوگئی ہے کہ 2023 یا 2024سے آئی پی ایل ٹیموں کی تعداد 6سے بڑھاکر 8کی جارہی ہے اور اس کے لئے 60کی بجائے 76سے 94 میچزکی تجویز ہے جبکہ اس کا دورانیہ 55کی بجائے 70روزہ ہوگا،اس طرح آئی سی سی کلینڈر سے ونڈو کے لئے 15سے 20روز بڑھانے کا منصوبہ ہے،یہ اضافی سہولت لے کر بھارت نے آئی سی سی ایونٹس بڑھانےکی حمایت کردی لیکن یہ سوال اپنی جگہ ہےکہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کو کیا ملا،کرک سین کا تجزیہ یہ ہے کہ یہ 2 ممالک پہلےبھی بھارت کے ساتھاپنے مفادات سے باہر کھڑے تھے اور اب بھی انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں