پاکستانی ٹیم میں 2وکٹ کیپرز،رمیز راجہ نے مخالفت کردی،سائنٹیفک فارمولہ پیش

پاکستان کی جنوبی افریقا میں تاریخی فتح پر ہر کوئی بات کر رہا ہے تو ایسے میں سابق کرکٹر رمیز راجہ نے بھی کھل کر تعریف کی لیکن ساتھ ہی پرابلم بتادیا اور سائنٹفک انداز میں پاکستان کے بڑے مسئلہ کی جانب نشاندہی کی.رمیز راجہ کہتے ہیں کہ جنوبی افریقا میں جیتنا آسان نہیں تھا کیونکہ یہاں آکر اچھوں اچھوں کچھ ہوجاتا ہے اور پاکستان کا تو جیسے کیمرا ہی آف ہوجاتا تھا تو 2013 کے بعد پہلی بار سیریز جیتے ہیں ،بلاشبہ یہ کارنامہ بہت بڑا ہے.

پاکستان کی فتح،انضمام الحق کی آئی سی سی اور جنوبی افریقا پر شدید گولہ باری،سخت سوالات،جواب مانگ لئے

رمیز راجہ نے پاکستان کی جیت کے باوجود ایک بڑے مسئلہ کی جانب نشاندہی کی ہے وہ کہتے ہیں کہ چند پلیئرز کی پرفارمنس پر جیت تو گئے لیکن مڈل آرڈر کا مسئلہ ویسا ہی کھڑا ہے.اچھی پرفارمنس دیکھنے کو ملی ،مڈل آرڈر میں فی وکٹ کی ایوریج کافی نہیں ہے،کیونکہ 14رنزفی وکٹ بنے ہیں اور یہ پریشانی والی بات ہے،پھر 2وکٹ کیپرز کا کھلانا یہ واضح کرتا ہے کہ بیٹنگ آرڈر کمزور ہے،ابھی تک ایک سیٹ بیٹسمین کو نہیں لاسکے،حیدر علی پر چانس لیا جاسکتا ہے،ان کو ضائع نہیں کرنا چاہیئے .

رمیز کہتے ہیں کہ آخری 2اوورز میں پاکستان نے چھکوں کی برسات کرکے سیریز جیت لی.جنوبی افریقا کی ٹیم اگر کمزور تھی تو پاکستان کا تو کوئی قصور نہیں تھا.فخرزمان نے اپنی تکنیک ٹھیک کی.بابر اچھے کھیلے،فخر نے فارم اور تیکنیک ٹھیک کرلی.عثمان قادر کو ہمیشہ کے لئے ٹیم میں ہونا چاہئے .یہ سیریز یاد رکھی جائے گی .میں بار بار بول رہاہوں کہ یہ سیریز ہمیشہ کے لئے یاد رکھی جائے گی اور اس کا سہرا فخر کے سر رہے گا.

رمیز نے مزید کہا ہے کہ ہمارے پاس بائولنگ کے زبردست آپشن موجود ہیں،حارث رئوف بہترین بال کر رہے ہیں،پاکستان کے پاس ینگ کپتانی ہے،کھلاڑی سیٹ ہورہے ہیں لیکن مڈل آرڈر میں ایک مستند بیٹسمین کی سخت ضرورت ہے،اس کے بغیر کام نہیں چلے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں