پی ایس ایل کی وسل،انگلینڈ بھارت آمنے سامنے،ٹیسٹ میچ ختم کرنے کا بھی دبائو،ڈرامہ عروج پر

تجزیہ : عمران عثمانی

انگلش کرکٹ ایوانوں میں دوڑیں لگی ہیں،حکام سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ کیا حل نکالا جائے،بھارتی کرکٹ بورڈ کی درخواست کو مسترد کرنا بھی ان کے لئے مشکل ہورہا ہے اور ساتھ میں اپنے معاہدے اور معاملات کے ساتھ مالی طور پر بھی جھٹکے کا سامنا ہے.براڈ کاسٹنگ سمیت ٹکٹوں کی فروخت بھی آڑے آرہی ہے،ایسے میں بگ تھری کے 2 اہم ستون انگلینڈ اور بھارت میں نازک ترین موقع پر سرد مہری بھی پیدا ہوسکتی ہے.

پی ایس ایل،بھارت کی دوڑیں،انگلینڈ میں نیا دھماکا کردیا،ای سی بی شدید پریشان،سیزن متاثر

کرک سین نے تھؤری دیر قبل اپنے تبصرے میں لکھا تھا کہ ای سی بی حکام کے لئے بھارت کی ایک درخواست درد سر بن گئی ہے اور اس میں شاید پی ایس ایل 6 کی گرین لائٹ نے مرکزی کردار ادا کیا ہے.پاکستان سپر لیگ 6 کے باقی میچزکے ری شیڈول ہونے کی کنفرمیشن انگلینڈ پر بجلی بن کر گری ہے اور اس سے بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ بھی دائو پر لگنے کا امکان ہوگیا ہے.

معاملہ کیا ہے

ویسے تو پی سی بی نے جمعرات 20مئی کو پی ایس ایل 6 کے اپوظہبی میں ہونے کی آفیشل تصدیق کی ہے لیکن یہ کوششیں کئی روز سے جاری تھیں اور بھارتی کرکٹ حکام بھی اس سے آگاہ تھے،ایک ایسے وقت میں کہ جب کوروناکی وجہ سے پی ایس ایل ملتوی ہوئی تو بھارت نے آئی پی ایل کا بیڑا اٹھالیا،وہ اس لئے بھی کہ دنیا کو اس کا کامیاب انعقاد کرکے یہ پیغام جاری کیاجائےکہ بھارتی بائیو سیکیور ببل محفوظ ہیں اور یہاں ورلڈ ٹی 20 ہوسکتا ہے لیکن اس کے برعکس ہوا.بھارت میں بڑھتے کوروناکیسز نے آئی پی ایل 4مئی 2021کو لپیٹ دی.گزشتہ ہفتہ تک بھارتی بورڈ کے سربراہ سارگنگولی نے اعلان کیا تھا کہ ہماری نگاہیں انٹر نیشنل کرکٹ پر مرکوز ہیں ،آئی پی ایل کے سوال کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا تھا لیکن یکا یک بھارتی بورڈ نے ای سی بی حکام سے کہا ہے کہ ان کے 5میچزکی ٹیسٹ سیریز کے شیڈول میں ترمیم کی جائے اور اسے ستمبر کے شروع تک ختم کیا جائے .بھارت کا آخری ٹیسٹ سابقہ شیڈول کے مطابق 14ستمبر کو ختم ہونا ہے لیکن بھارت اسے ستمبر کے شروع میں ختم دیکھنا چاہتا ہے اور ستمبر کے آخر تک ملتوی شدہ آئی پی ایل مکمل کروانے کا خواہاں ہے.

بھارت کے مالی مفادات ،آئی پی ایل کہاں ہوگی

آئی پی ایل کے ملتوی شدہ باقی 31میچز سے بھارت کو 200 ملین ڈالرز کی آمدنی ہونی ہے جو اسپانسر شپ اور براڈ کاسٹنگ سے ملے گی.بھارت اسے کھونے کا متحمل نہیں ،اس لئے اس نے ورلڈ ٹی 20سے قبل اسے شیڈول کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کے لئے متحدہ عرب امارات کو میزبانی کے طور پر لیا جائےگا.

انگلینڈ کے لئے درد سر کیا اور اس کے مالی مفادات

انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے لئے درد سر بھارت کی یہ تازہ ترین درخواست بنی ہے،اس کے لئے ایک ہفتہ میچز کو پہلے کروانا کئی اعتبار سے مشکل ہے.اس کا 100 بالز ایونٹ 21 جولائی سے شروع ہونا ہے جبکہ پاکستان کے خلاف آخری ٹی 20میچ 20 جولائی کو شیڈول ہے تو 21 جولائی سے اگست کے پہلی تاریخ تک اس کے کئی ٹیسٹ کرکٹرز نے بھی یہ ایونٹ کھیلنا ہے،ان کے معاہدے سامنے ہیں.براڈ کاسٹنگ کے معاہدے ہیں،ٹکٹوں کی فروخت ہوچکی ہے،آخری میچ اولڈ ٹریفورڈ میں ہے.کائونٹی میچز بھی پہلے سے طے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے بھی بھاری مالی مفادات ہیں،ہر میچ کی ٹکٹوں کی آمدنی ضروری ہے.100 بالز میں تمام سپر اسٹار کی شرکت ضروری ہے.اگر وہ بھارت کی درخواست کے مطابق ہر ٹیسٹ ایک ہفتہ پیچھے لے کرجاتا ہے تو 100 بالز میں اس کے کئی ٹیسٹ کرکٹرز شریک نہیں ہوسکیں گے.پورے انگلش کرکٹ شیڈول کو بدلنا پڑے گا،اسے مالی نقصان ہوگا.

کیا ٹیسٹ سیریز کا شیڈول بدلنا مشکل ہے

انگلینڈ کے لئے ایسا کرنا نہایت ہی مشکل امر ہوگا،اس لئے کہ اہم مسائل جو آڑے آرہے ہیں ،ان کا ذکر ہوچکا ہے،اس لئے میچز کے شیڈول میں تبدیلی آسان نہیں ہے لیکن بھارت جس نے 18جون سے 22جون تک ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کھیلنا ہے،اس کے لئے 22جون سے 4اگست تک کا 40روز سے بھی زائد کا وقت ہے جو بظاہر ضائع جائے گا ،ممکن ہے کہ اس کے کچھ پلیئرز 100 بالز کھیلتے دکھائی دیں لیکن اکثر پلیئرز فارغ ہونگے تو انگلینڈ کو بھارت کی اس فراغت کو بھی سوچنا ہوگا.

ایک ٹیسٹ کم،سیریز 5کی بجائے 4 ٹیسٹ میچز کی

یہ تجویز بھی ٹیبل پر موجود ہے کہ 5 میچزکی ٹیسٹ سیریز کو 4میں کردیا جائے اور ایک ٹیسٹ کم کردیا جائے لیکن اس کے اثرات بہت برے ہونگے،انگلینڈ کو ہر ٹیسٹ سے 20 ملین پائونڈز کی آمدنی ہوگی،اب انگلینڈ یہ نقصان کیوں برداشت کرے گا،کیا بھارت اس کو ادا کرے گا ،پھر دنیا بھر میں یہ پیغام جائے گا کہ آئی پی ایل کے لئے ٹیسٹ میچ کی قربانی دی گئی.یہ بات بھی کسی کو پسند نہیں آئے گی.اہم بات یہ کہ 5واں ٹیسٹ اولڈ ٹریفورڈ میں ہونا ہے اور اولڈ ٹریفورڈ کو ایک ٹیسٹ کی میزبانی ملے گی تو کیا اولڈ ٹریفورڈ میں شروع کے 4میچزمیں سے کوئی ایک کھیلا جائے گا اور کسی اور سنٹر کو ٹیسٹ میچ سے محروم کیا جائے گا.

بھارت کی خواہش پوری ،کیا انگلش پلیئرز آئی پی ایل کھیلیں گے

فرض کرلیں کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ بھارت کی خواہش پوری کربھی دے تو کیا انگلش کھلاڑی ستمبر میں آئی پی ایل کھیلیں گے یا پہلے سے شیڈول بنگلہ دیش اور پاکستان کے دورے کریں گے،ویسے تو ای سی بی اعلان کرچکا ہے کہ ستمبر میں آئی پی ایل ہونے کی صورت میں اسکے کھلاڑی قومی ڈیوٹی دیں گے لیکن بھارت یہ کب ہونے دے گا،آئی پی ایل کو وہ سپر اسٹارز کے بغیر پھیکا پھیکا کیوں کھلائے گا.

کرک سین تجزیہ

کرک سین تجزیہ یہ ہے کہ انگلینڈ بورڈ بھارت کی درخواست اتنی آسانی سے مسترد نہیں کرے گا.ایک ٹیسٹ میچ بھی کم نہیں کرے گا بلکہ وہ شیڈول میں کسی نہ کسی طرح ایسی تبدیلی کرے گا کہ بھارت کے فارغ 40دن کا 100 بالز میں بھی فائدہ اٹھائے اور جولائی کے آخر سے ٹیسٹ سیریز شروع کردے،اس صورت میں اگست کے آخر تک 5 ٹیسٹ میچز مکمل ہوجائیں گے.سابقہ شیڈول کے مطابق پہلا ٹیسٹ 4اگست سے شروع ہوگا.دوسری جانب دورہ انگلینڈ کے لئے بھارتی کھلاڑیو ں کو ممبئی کے ہوٹل میں قید کردیا گیا ہے،لمبے قرنطینہ کے بعد کھلاڑی ایجز بول جائیں گے اور انگلینڈ میں بھی 10دن کی قید کاٹیں گے.