پی ایس ایل 6کی اڑان ،تماشا ختم یا تماشا تو شروع ہی اب ہوا ہے

کرک سین خصوصی رپورٹ

پاکستان سپر لیگ 6کے حوالہ سے عجب تماشہ،غضب ڈرامہ جاری ہے.گزشتہ 3ہفتوں سے پوری دنیا نے جو کھیل دیکھا،اس سے ایک بات حرف آخر کی طرح مسلمہ ہوئی ہے کہ پی ایس ایل اور پی سی بی،سب سے بڑھ کر پاکستان کی بے توقیری ہوئی ہے لیکن اس سب کے باوجود یہ لوگ ایسے ہیں کہ بدستور منہ کی کھاکر گھر کو نہیں بلکہ وہیں چلے ہیں ،جہاں سے پے درپے جھٹکے لگے ہیں.

گزشتہ جمعرات کی بات ہے ،جب پی ایس ایل 6کو پی سی بی نے 2ہفتوں کی کوششوں کے بعد قریب ملتوی کردیا تھا لیکن ایک موہوم سی امید پر اسے ایک دن کے لئے امیدوں پر رکھا اور وہ ایک دن ایسا بھاری پڑا ہے کہ پی ایس ایل کا قافلہ بری طرح بکھر کر رہ گیا ہے،2درجن سے زائد لوگ اب بھی ہوٹل میں بند ہیں اور جنوبی افریقا و بھارت سے آنے والے تاحال ہوا میں معلق ہیں.آگے بڑھنے سے قبل ہم پی سی بی کی گزشتہ 20سے 22 روز کی کارکردگی،اعلانات اور آنیاں ،جانیاں دیکھتے ہیں.

پی سی بی نے 7 مئی 2021 کو کہا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور 6فرنچائز مالکان کا اجلاس ہوا،اتفاق کیا گیا کہ لیگ کے بقیہ 20 میچز کے لیے پہلی ترجیح متحدہ عرب امارات ہے۔پی سی بی ایمریٹس کرکٹ بورڈ کے ساتھ رابطہ کرکے ایونٹ کو منعقد کرنے پر تبادلہ خیال کرے گا۔

پی سی بی اگلا اجلاس 19 مئی کو کیا،اس اجلاس کے بعد قوم کو کچھ یوں کہا گیا کہ پی سی بی نے فرنچائزکے نمائندگان کو ایونٹ کے بقیہ میچزکے انعقاد سے متعلق پیشرفت سے آگاہ کیا ،یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بقیہ میچز کے انعقاد کے لیے جمعرات کو یو اے ای ٹائم دفتری اوقات کے اختتام تک کا انتظار کیا جائے گا۔چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان نے کہا کہ اگر پی سی بی کو ان معاملات پر جمعرات تک وضاحت نہیں ملتی توپھر ایونٹ کے بقیہ میچز کو ملتوی کرنے کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہیں رہتا۔

وزیر خارجہ کی مداخلت پر پی ایس ایل پرواز اڑی،شیڈول اور نسیم شاہ پر نئےانکشافات

اگلے روز پی سی بی نے فخریہ اعلان کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ تصدیق کرتا ہے کہ اسے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے بقیہ 20 میچز ابوظہبی میں کروانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے تمام معاملات پر مکمل منظوری مل گئی ہے۔

اسی تاریخ یعنی 20 مئی کو اس اعلان کے کچھ دیر بعد ایک اور بیان جاری کیا کہ پی ایس ایل 6 کے بقیہ20میچز ابوظہبی میں کھیلے جائیں گے۔ پی سی بی کی انتھک محنت کا خاص ذکر تھا.اس کے بعد اگلے ایام میں ریپلیسمنٹ اور اضافی کھلاڑیوں کےا نتخاب کا عمل ہوا.بتایا گیا کہ تمام میچز ومعاملات کی منظوری مل گئی ہے اور اب بس وسل بجانے کی دیر ہے.

پی سی بی نے اس کے بعد 23 اور 23 مئی کو پی ایس ایل کے حوالہ سے خاص رپورٹس جاری کیں،ایونٹ اور میچز وپلیئرز کے اعدادوشمار ایسے ترو تازہ کروائے کہ جیسے اب اور کوئی کام کرنے کو باقی بچا ہی نہیں ہے.تمام امور سر انجام دے دیئے گئے ہیں.اور تو اور 24 مئی کو پی سی بی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کا کرکٹ میلہ ابوظہبی میں سجنے کو تیارہے.چونکہ ابوظہبی جانے اور ایونٹ کی تیاری کے انتظامات مکمل تھے ،اب تادیبی کارروائیں شروع ہوگئی تھیں.24 مئی کو نسیم شاہ پی ایس ایل سے باہر ہوگئے.اگلے روز 25 مئی کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑی ک انور علی کے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آنے پر وہ باہر ہوگئے .

منگل کی رات 11بجے کے بعد پی سی بی نےا چانک اعلان کیا کہ پاکستان سے دونوں چارٹرڈ فلائیٹس کی روانگی میں ایک روز کی تاخیر کردی گئی .روانگی میں تاخیر تمام ویزوں کا اجراء نہ ہونے کی وجہ سے کی گئی ہے .لاہور اور کراچی کے ہوٹلز میں قائم آئسولیشن کو ایک روز کے لئے بڑھا دیا گیا ہے.

بدھ 26مئی کو پی سی بی نے بڑے فخر سےا علان کیا کہ بھارت سے ابوظہبی کے لیے سفر کرنے والے تمام 25 افراد کو ویزے جاری ہوگئے.جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے تمام کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف کو بھی ویزے جاری کردیئے گئے .جنوبی افریقہ سے 27 میں سے 26 افراد کو ویزے جاری ہوئے ہیں.پاکستان سے بذریعہ چارٹرڈ فلائیٹ پر یو اے ای روانہ ہونے والے بیشتر افراد کے ویزے بھی جاری ہوچکے.27 مئی کی دوپہر 2 بجے سے پہلے ابوظہبی کے ہوٹل میں چیک ان کرنے پر یو اے ای میں روم آئسولیشن کا پہلا دن شمار کیا جائے گا.لاہور اور کراچی سے چارٹرڈ فلائیٹ جمعرات کی دوپہر ایک بجے یو اے ای روانہ ہوں گی .بھارت اور جنوبی افریقہ سے چارٹرڈ فلائیٹ کی ابوظہبی آمد بھی جمعرات کو متوقع ہے.ٹورنامنٹ کے شیڈول کا باضاطہ اعلان کل کیا جائے گا.

جمعرات 27 مئی کی صبح یہ ڈرامہ ہوا کہ لاہور اور کراچی سے ابوظہبی روانہ ہونے والی دونوں فلائیٹس کی روانگی میں دو گھنٹے کی تاخیر کی گئی ہے.یہ اعلان بھی پی سی بی نے کیا تھا.دوپہر ایک بجے پی سی بی نے فرنچائزز کے ساتھ ایک اور ہنگامی اجلاس کیا ،جس کے بعد یہ بتایا کہ پی سی بی اور فرنچائز مالکان کے درمیان آن لائن اجلاس ختم ہوا ہے.فرنچائز مالکان کو بھارت اور جنوبی افریقہ کی چارٹرڈ فلائیٹس کو لینڈنگ کی اجازت سے متعلق غیرمتوقع تاخیر پر بھی آگاہ کیا گیا .کراچی اور لاہور سے فلائیٹس اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہوں گی.دونوں شہروں سے فلائیٹس شام 5 بجے روانہ ہوں گی.

اس کے 50منٹ بعد پی سی بی نے یہ کرکٹ بم چلایا کہ فی الحال لاہور اور کراچی کے ہوٹلز میں موجود 25 افراد کو تاحال ویزے نہیں ملے ہیں.یہ تمام افراد بائیو سیکیور ببل میں ہی رہیں گے. ویزوں کے اجراء پر ان تمام افراد کو علیحدہ چارٹرڈ فلائیٹ کے ذریعے ابوظہبی پہنچایا جائے گا.جمعرات ہی کی رات 8 بجے پی سی بی نے یہ اعلان کیا کہ جنو بی افریقہ سے آنے والی پرواز کو یو اے ای میں لینڈنگ کی اجازت مل گئی ہے.ان پروازوں میں براڈکاسٹ کریو میں شامل بھارتی اور جنوبی افریقی شہریوں کے علاوہ جنوبی افریقہ کے کھلاڑی شامل ہوں گے.دونوں ممالک سے آنے والی چارٹرڈ فلائیٹس جلد پرواز کریں گی.ٹورنامنٹ کے شیڈول کا اعلان اگلے دو روز میں کردیا جائے گا.

یہ ہے پی سی بی کی پرفارمنس اور اعلانات،ان میں 360 ڈگری کے تضادات بھی ہیں،لاعلمی کا پہلو بھی ہے اور کسی حد تک کمزوری کا بھی.ذمہ دار ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آخر یہ معاملات سیاسی حکام کی مداخلت کے بعد ہی حل ہوئے ہیں.

پی سی بی نے یہاں تک یہ سب کچھ ایسے کیا ہے کہ اس سے بدنامی،کمزوری بلکہ فقیری اور بے چارگی زیادہ دکھائی دی ہے.سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا.اب قرنطینہ کی مدت کم کرنے کے لئے کس کا فون جائے گا،پھر کووڈ رولز میں تھوڑی گڑ بڑ ہوگئی تو بوریا بستر گول ہونے سے کون بچائے گا،اس سےبھی بڑھ کر300 سے زائد افراز کے اس مجمع میں سے کسی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا تو لیگ کا کیابنے گا اور جانے والوں کا کیا حشر ہوگا،اس پر بھی لگتا ہے کہ کسی نے کوئی کام نہیں کیا،علم نہیں تما شا ختم ہوا ہے یا پھر ابھی تو تما شا اب شروع ہوا ہے.