پی ایس ایل 6،شعیب اختر کی پی سی بی پر ٹھڈوں اور لاتوں کی بارش،عدالت سے رجوع کرلیا،بریکنگ نیوز

عمران عثمانی کی رپورٹ
Image By cricketnmore
جنہوں نے ٹیپ بال کی کرکٹ نہیں کروائی ،وہ پی ایس ایل کروارہے ہیں،نہایت ہی افسوسناک خبر ہے کہ پی ایس ایل 6 اب نہیں ہوسکتا،یہ بلیم گیم کا وقت ہے یا نہیں۔میڈیکل پینل ناکام ہوگیا ہے،پی سی بی میڈیکل پینل نے پاکستان کو تباہ کردیا،زندگیوں کو خطرے میں ڈالا،اس قسم کے لوگ جب میڈیکل پینل میں بٹھائیں گے جن کو گھر والے اپنے پاس نہیں بٹھاتے،جن کو کوئی ہسپتال میں گھسنے نہیں دیتا تو پھر یہی کچھ ہوگا۔پی سی بی کی بڑی غفلت سامنے آئی ہے۔
شعیب اختر نے اپنے یوٹیوب چینل پر کہا ہے کہ پی سی بی پر یہ ذمہ داری ہے اور اس کی سزا بھی ہونی چاہئے۔ایک ڈاکٹر اول فول بک رہاتھا،اس لئے ہائر اتھارٹیز فوری طور پر ان کو سخت سزا دے۔دوسری بات یہ ہے کہ سارا الزام وسیم خان پر ڈال دیا گیا ہے،اس لئے انکو سامنے بٹھایا گیا کہ وہ جواب دیں۔
وسیم خان کو لایا کون ہے؟احسان مانی لائے ہیں تو چیئرمین احسان مانی اس کا جواب دیں۔کہاں ہیں وہ؟
وہ اس بات کا جواب دیں،سارا الزام وسیم خان پر لگایا جارہا ہے۔پی سی بی دنیاکا واحد ادارہ جو غیر ذمہ دار ہے،ایک آدمی وسیم خان کام کا ہے باقی سب نکمے ہیں۔وسیم خان کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ میڈیکل ٹیم لائے۔میں نے وسیم کو پہلے ہی کہا تھا کہ ڈاکٹرز تبدیل کرو۔لمبے پیٹ والے،20 سال سے پی سی بی سے چمٹے ہوئے نکمے ڈاکٹرز بٹھادیئے ،پھر یہ حالات تو ہونے ہی تھے۔
نیوزی لینڈ میں آج ٹی 20مگر خوفناک زلزلہ، کپتان تبدیل،پی ایس ایل کے بعد ایک اور بڑا نقصان،اہم خبریں
شعیب اختر کہتے ہیں کہ پی سی بی کی غیر ذمہ داری ہے کہ آپ 250سے 300 کا ہوٹل بک نہیں کرواسکتے تھے؟جاوید آفریدی اپنی ویڈیو بنارہے ہیں،ہوٹل میں گھس رہے ہیں،یار جاوید آفریدی تم کو کتنی پبلسٹی چاہئے،ڈیرن سیمی ہوٹل سے باہر جارہے ہیں۔پھر ہوٹل میں شادیاں چل رہی ہیں،بال کٹوائے جارہے ہیں۔مجھے تو کوئی سمجھ ہی نہیں آتی کہ تم بائیو سیکیور ببل توڑ رہے ہو،وہاب ریاض کی عقل کہاں ہے کہ ویڈیو بنارہے ہو۔ملک کی عزت اور پلیئرز کی زندگی دائو پر لگادی،یہ سب اس لئے ہوا کہ یہ نااہل ہیں۔میں عدالت سے اپیل کرتا ہوں کہ پاکستانی عدالت فوری طور پر اسے دیکھے اور اس کی تحقیق خود کروائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو۔یہاں کوئی گالف کھیلنے جارہا ہے،کوئی کٹنگ کروارہا ہے،30 ماڈلز آرہی ہیں اور کوئی برینڈ ایمبیسڈر کے نام پر گھس رہا ہے۔36 ایمبیسڈر ز رکھو،مگر تم دور رکھو۔بائیوسیکیور ببل کو خیال کرو،سب ہاہا اور ہوہو میں لگے رہے کہ پی ایس ایس ایل ایسے ہی گزر جائے گا۔ایسا کیسے ہوسکے گا۔
شعیب اختر نے نہایت غصے میں کہا کہ تم لوگوں میں اتنی عقل نہیں ہے کہ کورونا ہے،غیر ملکی پلیئرز ہیں،کچھ تو خیال کرلو،اب اوپر سے مالکان رو رہے ہیں کہ نقصان ہوگیا،بھائی ہوگیا تو کیا کروں۔دونوں ہوٹل آمنے سامنے ہیں،سب بک کروالو،وہاں پر شادیاں چل رہی ہیں۔اب پی سی بی ہمارے بڑے ایونٹ کو تباہ کرنے میں کامیاب ہوگیا،میں حیران ہوں کہ یہ لوگ اتنے غیر ذمہ دار ہیں ۔نالائقوں سے کام نہیں چلتا۔لاتے جائو ایسے لوگ اور بدنامی کرواتے جائو،ذلیل ہوتے رہو۔قابل بندے لانے ہونگے۔اب بوتھی بناکر ٹی وی پر آگئے ہیں اور ساراالزام وسیم خان پر ڈال دو،وہ کیا کیا کام کرے۔
وسیم خان کے خلاف محاذ بنانا گھٹیا پن ہے،پی سی بی میں نالائق ٹیم ہے،مانی دکھائی نہیں دے رہے۔
مانی سامنے آئو،مجھےجواب دو۔میں پاکستان کے وزیر اعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں کیونکہ یہ نکمے لوگ موجود ہیں،ہٹی پر بیٹھے ڈاکٹرزلے آئے،پی سی بی شرم کرے،بھگتے،پیسے واپس کرے،ذرا بھی شرم ہے تو سامنے آئو۔
شعیب اختر نے نہایت غضب ناک انداز میں کہا ہے کہ احسان مانی کہاں چھپتے پھرتے ہو،سامنے آئو اور بتائو کہ کیا نکما پن ہے۔وسیم خان ہی صرف کام کا آدمی ہے اور وہی کام کر رہا ہے،باقی سارا بورڈ چھپ گیا ہے،میں بہت غصہ میں ہوں کہ پاکستان کا برینڈ تباہ کردیا،جنہوں نے ٹیپ بال نہیں کروائی،جو کبھی پرسکرپشن نہیں لکھ سکتے،وہ پی ایس ایل کروارہے ہیں۔
شعیب اختر کہتے ہیں کہ میں حکومت،ہائر اتھارٹیز اور پی ایم پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ مکمل تحقیقات کرے ،اس ایونٹ کو کامیاب کروانے کے لئے انتظامات کیوں نہیں کئے گئے،مجھے پوری دنیا سے فون ٓرہے تھے کہ کیسا ایونٹ کروایا اورکیا انجام کیا،میں شدید غصہ میں ہوں۔ناراض ہوں،میں وسیم خان کو بچا نہیں رہا بلکہ صاف بول رہا ہوں کہ وسیم خان کی ٹیم خراب ہے،میں نے تم کو بولا تھا کہ ان کو تبدیل کرو ،نہیں کیا،اب ان کے ساتھ بیٹھ کر روو۔سٹوپڈ لوگ ہیں.راولپنڈی ایکسپریس کا غصہ شدید تھا،انہوں نے عملی طور پر تو نہیں لیکن حقیقت میں الفاظ کے ساتھ پی سی بی پر ٹھڈوں اور لاتوں کی بارش کردی ہے اور پاکستان کی عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کیس کو دیکھے.
کرک سین شعیب اختر کے خیالات سے 100 فیصد اتفاق کرتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک فول پروف بائیو سیکیور ببل بنانے اور اس کے رولزپر عمل کروانے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے.