پی ایس ایل 6،آئی سی سی کا عجب رد عمل،التوا دنیا کے لئے مثال،اپنے لئے مفید قرار

رپورٹ وتبصرہ:عمران عثمانی
Image By propakistan
پاکستان سپر لیگ 6کے التوا پر انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کا رد عمل آگیا ہے اور اس کےتجربہ کو اس نے اپنے لئے مفید ترین قرار دیا ہے،حیرت انگیز طور پر آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ کے تاریکی کے پہلو پر باقاعدہ خیال آرائی کی ہے اور پاکستانی ناکام تجربہ کو اپنے لئے مفید قرار دیا ہے۔کرکٹ شائقین کے لئے یہ بات نہایت حیرت انگیز اور ناقابل یقین ہے،انگلینڈ ٹیم نے جنوبی افریقا کا دورہ ادھورا چھوڑا اور دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا نے دورہ جنوبی افریقا سے انکار کیا اور جنوبی افریقا نے آئی سی سی کو تحریری شکایت تک ارسال کی ہے لیکن اس کے باوجود آئی سی سی نے جواب نہیں دیا ہے لیکن پی ایس ایل 6کے التو کے اگلے ہی روز آئی سی سی چیف نے باقاعدہ نام لے کر بات کی ہے۔
آئی سی سی چیف ایگز یکٹو مانو سواہنی نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ 6 کے ناکام تجربہ کو مثال کے طور پر استعمال کیا جائے گا،انہوں نے کہا ہے کہ پی ایس ایل میں نافذ کئے جانے والے بائیو سیکیور ببل رولز کی پوری تفصیل لی جائے گی اور پھر پاکستان کے بڑے ایونٹ کی ناکامی کی تفصیلات اکٹھی کی جائیں گی اور ان کو مثال بناکر ان سے بچا جائے گا۔بھارتکی تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پروگرام میں مانو سواہنی نے کہا ہے کہ یہ سال ورلڈ ٹی 20 کا ہے،بھارت میں سال کے آخر میں ایونٹ ہونا ہے اور اس میں 16ممالک شریک ہونگے اوریہ بہت زیادہ ہیں۔2ممالک کی باہمی سیریز بھی ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ 16 ممالک ایک بڑی تعداد ہے،کھلاڑیوں و آفیشلز سمیت سب کو ملا کر تعداد ایک ہزار بنتی ہے۔اتنی بڑی تعدادکو سنبھالنا آسان امر نہیں ہو گا،ان کے لئے بائیو سیکیور ببل بنانا اور پھر ان رولز پر عمل کرنا آسان نہیں ہوگا،اس لئے آئی سی سی بڑے ایونٹ کی تیاری کے لئے دنیا بھر کے ایونٹس و لیگز سے سبق لیا جائے گا،تجربات کو لے کر آگے بڑھایا جائےگا تاکہ جو خرابیاں جہاں ہوئیں اور جتنی ہوئی ہیں ،ان سے بچا جائے گا۔پاکستان سپر لیگ حال کا بڑا واقعہ ہے کہ اس میں متعدد ممالک کے لوگ شریک تھے اور وہاں بائیو سیکیور ببل بھی بنایا گیا،پھر بھی ناکامی ہوئی۔
مانو سواہنی کا تعلق بھارت سے ہے،انہوںنے اس موقع پر بھارت کی گزشتہ آئی پی ایل کے انعقاد کی تعریف کی جو عرب امارات میں کھیلی گئی تھی اور ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ اگلی آئی پی ایل کے تجربہ کے بھی دیکھا جائے گا،دنیا بھر کی لیگز کے تجربہ کو سامنے رکھ کر ہم بھارت میں بائیو سیکیور ببل بنائیں گے تا کہ ناکامی نہ ہو۔
آئی سی سی چیف نے پی ایس ایل 6کے التوا کو ایک مثال بناکر استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے،اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی کرکٹ فینز بھلے وہ دنیا میں کہیں پر بھی ہیں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے بہتر یہ بھی تھا کہ یہ کہا جاتا پی ایس ایل 6کا بند ہونا افسوسناک ہے اور ہم پی سی بی سے رپورٹ مانگیں گے اور اس میں پائی جانے والی کمزوریوں سے سبق سیکھیں گے لیکن انہوں نے حد ہی کردی کہ پی ایس ایل 6کی ناکامی کو مثال بنادیا۔
کرک سین یہ رپورٹ کرتے ہوئے اس پر کچھ اضافہ کرے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی نااہلی نے ہی یہ دن دکھانا تھے کیونکہ پی ایس ایل 6 میں بائیو سیکیور ببل رولز کی خلاف ورزی کی گئی،سب نے آزادی دکھائی تو ناکامی ہوئی اور پھر یہ مثال بنتے بنتے بری اور بد ترین بن گئی،آئی سی سی کو اسے اپنے لئے اٹھانا پڑا ہے اور دنیا کو یہ سب بتانا بھی پڑا ہے۔لے دے کے پاکستانی سابق کرکٹرز کی تنقید نے بھی کام آسان کردیا ۔شعیب اختر نے تو یہاں تک بول دیا تھا کہ پی سی بی کی پوری ٹیم نکمی تھی،ڈاکٹرز نااہل تھے اور منیجمنٹ نے توجہ نہیں کی۔شعیب اختر نے تو عدالتی کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔جن اپنے ہی اس طرح بڑھ چڑھ کر بولیں گے تو پھر باہر سے کوئی بھی اور کیسے بھی بات کرے،قبول کرنی ہوگی کیونکہ مثال بھی ہم نے خو د سیٹ کی ہے اور پھر ہمارے لوگوں نے بیان بازی کر کے راستہ بھی کھول دیا ہے۔
پاکستان سپر لیگ 6 کےا لتوا کے بعد پی سی بی شدید تنقید کی زد میں ہے اور اب وہ مئی کی تاریخیں سیٹ کر رہا ہے جب بھارت کی آئی پی ایل لیگ چل رہی ہوگی،ایسے میں پی ایس ایل کا انعقاد ایک مشکل ترین امر ہوگا کیونکہ دنیائے کرکٹ کے پلیئرز شامل نہیں ہوسکیں گے اور ویسے بھی آئی پی ایل کے دوران بھارتی بورڈ دنیا میں کسی اور بڑے ایونٹ کے انعقاد کا حامی بھی نہیں ہے.آئی سی سی کلینڈر میں اس کے لئے باقاعدہ ونڈو کی منظوری ہے .