پروٹیز تو خومخواہ بدنام،پاکستان ٹیسٹ میں چوکرز،درجن بھر کپتان ناکامی کا سبب،مزید حقائق حاضر

عمران عثمانی
Image By PCB
پاکستان اور جنوبی افریقا کی سابقہ تمام 11ٹیسٹ سیریز کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جاچکا ہے۔یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ پاکستان نےا کلوتی سیریز جیتی ہے۔7سیریز ہاری ہیں اور 3سیریز ڈرا کھیل سکا ہے۔یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ پاکستان کو آخری ٹیسٹ جیتے 8واں سال لگ گیا ہے،آخری بار اکتوبر 2013میں ابوظہبی کا ٹیسٹ جیتا تھا،اس کے بعد سےکھیلے گئے 4میچز میں ناکامی مقدر بنی ہے۔
ہم یہ بھی بتاچکے ہیں کہ اکتوبر 2003میں پاکستان میں کھیلی گئی 2میچز کی سیریز پاکستان 0-1 سے جیتا تھا،یہ واحد سیریز ہے جسے جیتے 18سال ہونے والے ہیں اس کے بعد کی 6سیریز میں گرین کیپس فتح کے لئے ترستے ہی رہے ہیں۔1995 سے 2021تک 26 سالہ ٹیسٹ تاریخ میں 26ہی ٹیسٹ میچز ہوئے ہیں۔پاکستان گنتی کے صرف 4میچز جیت سکا،15میں ناکام رہا۔7میچز ڈرا کھیل سکا ہے۔
یہ تفصیلات ان درجن کے قریب آرٹیکلز کی ہیں جو کرک سین گزشتہ10روز سے تواتر کے ساتھ آپ سے شیئر کرتا آیا ہے۔اب یہاں ٹیموں ،کھلاڑیوں کی پرفارمنس کے ساتھ ان وجوہ کا ذکر ہوگا کہ ناکامی ہمیشہ ہمارا ہی مقدر کیوں بنی ہے۔
پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کی ناکامی کا اندازا اس بات سے لگالیں کہ گرین کیپس کبھی 456سے زائد اسکور نہیں کرسکے اور نام نہاد بائولنگ اٹیک کا چرچا رکھنے والے پاکستانی گیندباز اپنے خلاف670 سے 584 اور 517سے 460رنزبنواتے رہے ہیں۔49 سے92 پھر99سے 106تک پاکستان کے ہی کم اسکور ہیں،49پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ کا کم ترین مجموعہ بھی ہے۔جنوبی افریقا 124سے کم پر کبھی آئوٹ نہیں ہوا۔
جنوبی افریقا کے خلاف جیت کا منتراکیاہوگا، شعیب اختر نے ٹیم منیجمنٹ کا مستقبل بھی بتادیا
پاکستان کی بیٹنگ لائن کا ہمیشہ جنازہ ہی نکلا ہے،یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے،ہمیشہ سے ایسا ہوا ہے ،اوپر دیئے گئے مجموعی ٹوٹل سے بھی اندازا ہوگیا ہوگا اب اگر بیٹنگ بک کھولی جائے تو وہاں بھی شرمندگی کے لئے بہت کچھ موجود ہے۔26 ٹیسٹ کی ہسٹر ی رکھنے والے پاکستان کے کسی بیٹسمین کو پروٹیز کے خلاف 1000رنزبنانے کا اعزاز حاصل نہیں ہوسکا۔یونس خان 14میچز میں28 باریاں کھیل کر990رنزکے ساتھ یہاں سےپہلے اور لسٹ میں 5ویں نمبر پر ہیں،ایوریج 40سے بھی کم رہی ہے،اس کے مقابلہ میں جنوبی افریقا کے جاک کیلس 19میچز کی 33 اننگز میں54 کی اوسط سے1564رنزکے ساتھ پہلے،گریم اسمتھ 16میچز کی 28 اننگز میں 1259 رنزکے ساتھ دوسرے،ہاشم آملہ 14 میچزکی 27اننگزمیں1146رنزکے ساتھ تیسرے اوراے بی ڈی ویلیئرز 12میچزکی 21اننگز میں1112رنزکے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔اندازا کریں کہ انضمام 13میچزکی 23 اننگز میں 710رنزکرسکے۔مصباح 9میچزکی 17باریوں میں 660رنز ،آج کے بیٹسمین اظہر علی 10میچزکی 20 اننگز میں25 کی اوسط سے صرف 481اسکور کرسکے ہیں۔
پاکستان جنوبی افریقا کے سامنے سرنڈر
کچھ لوگوں کے نہایت ہی آئیڈیل بیٹسمین محمد حفیظ کو بھی دیکھ لیں کہ وہ9میچز کی 18 اننگز میں صرف 17کی اوسط سے307تک پہنچ سکے۔
آج کے پاکستانی کپتان بابر اعظم 3میچزکی 6اننگز میں221رنزکر چکے ہیں،ان سے بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔یہ پاکستان کرکٹ کے وہ ستون تھے جنہوں نے پروٹیز کے خلاف مسلسل یا زیادہ میچز کھیلے مگر ناکامی سے دامن نہ چھڑواسکے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی ٹاپ بہترین انفرادی اننگ خرم منطور کی146رنز کی ہے ،ان سے اوپر کوئی نہ جاسکا اس کےمقابلہ میں ڈی ویلیئرز278،گریم اسمتھ 234 اور ہرشل گبز 228کے ساتھ ڈبل سنچریز کے تحفے دے چکے ہیں۔جاک کیلس 6 اور یونس خان 4سنچریز کے ساتھ اپنے ملک کی جانب سے تھری فیگر کی زیادہ اننگز کھیلنے والے پلیئرز ہیں۔جاک کیلس 14 اوراسد شفیق اس سے آدھی 7ہاف سنچریز کے ساتھ اس باب کے نمایاں پرفارمرز ہیں۔دنیش کنیریا 5 اور عمر گل 4 صفر کے ساتھ اس کلب کے بے تاج بادشاہ ہیں۔جاک کیلس ایک سیریز میں 421 رنزکے ساتھ سب سے آگے ہیں۔پاکستان کے اظہر محمود 327کے ساتھ ٹاپ پر ہیں۔انضمام ہیں نہ یونس،مصباح ہیں اور نہ اظہر علی۔
مرض بڑھتا گیا،پاکستان 10 ویں سیریز میں بھی 99 پر آئوٹ،پروٹیز پھر ناقابل شکست
بائولنگ کا جائزہ لیں تو مایوسی ہی مایوسی ہے۔ڈیل اسٹین 13میچزمیں 59وکٹ کے ساتھ نمبر ون اور ہاف سنچری مکمل کرنے والے اکلوتے بائولر ہیں۔شان پولاک 12میچزمیں 45،مکھایا نٹینی9میچزمیں 41 وکٹ کے ساتھ ٹاپ تھری میں ہیں ۔پاکستان کے دنیش کنیریاکی7میچزمیں 36 اور مشتاق احمد کی 8میچزمیں 29وکٹیں یہاں سے نمبر ایک پر ہیں۔اندازا کریں کہ پاکستان کو فاسٹ بائولنگ کا گڑھ کہا جاتا ہے اور اسپنرز ٹاپ پر ہیں۔فاسٹ بائولر میں وقار یونس 7میچز میں 24وکٹ کے ساتھ سعید اجمل کی 26وکٹوں تک سے پیچھے اور نیچے ہیں۔باقیوں کی کیا بات کریں۔یہی حال انفرادی بائولنگ کا ہے کہ کیل ایبٹ 29رنزکے عوض 7وکٹ کے ساتھ اونچے مقام پر ہیں۔مشتاق احمد کی 78رنزکے عوض 6وکٹ کی کارکردگی فہرست کی 8ویں اور پاکستان کی پہلی بہترین پرفارمنس ہے۔میچ میں ڈیل اسٹین 60رنزکے عوض 11وکٹ کے ساتھ آگے ہیںوقار یونس 133رنزکے عوض 10وکٹ کے ساتھ چوتھے نمبر پرآتے ہیں۔ایک سیریز میں اولیور کی 24 اور محمد آصف کی 19وکٹیں نمایاں پرفارمنس ہے۔پاکستان کے خلاف ٹرپل سنچریز کی 2شراکتیں بن چکی ہیں لیکن ہمارے بیٹسمین ڈبل سنچریز کی شراکت سے آگے نہ جاسکے۔گریم اسمتھ سب سے زیادہ میچز میں کپتانی کرگئے،14میں سے7جیتے اور 3ہارے ہیں جب کہ یہاں مصباح الحق7میں سے ایک جیت سکے اور 4میں ناکام گئے۔پاکستان کے 10کپتان ان 26میچزمیں سامنے آئے جبکہ پروٹیز کی جانب سے6کپتان سامنے تھے۔
حفیظ اسٹین کے نشانہ پر،پاکستان ٹیسٹ تاریخ کے قلیل اسکور پر ڈھیر،مصباح،یونس بھی شامل
پروٹیز کو چوکرز کہا جاتا ہے ،محدود اوورز کرکٹ میں یہ بات درست ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان پروٹیز کے خلاف چوکرز ثابت ہوا ہے۔مسلسل ناکامی کی وجوہ میں پہلی بڑی وجہ ہر سیریز میں نئے کپتان کاہونا تھا۔دوسری وجہ اختلافات بنی۔تیسری وجہ بیٹنگ میں چوکرز پن بنا اور چوتھی وجہ پی سی بی کا ٹیم میں تسلسل کافقدان نہ ہونے دینا ناکامی کا سبب بنا۔
2021کی سیریز بھی سر پر آگئی ہے۔کوچنگ اسٹاف پر برطرفی کی تلوار لٹک رہی ہے اور یہ وہی روایت ہے جو چوتھائی صدی سے جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں