ابو ظہبی میں قیدیوں کابرا حال،25 افراد سولی پر،پی ایس ایل میں تاخیر کنفرم،نئے انکشافات،راشد لطیف کی نئی تھپکی

عمران عثمانی

پاکستان سپر لیگ 6 کے حوالہ سے قومی و غیر ملکی پلیئرز کا ابو ظہبی میں پڑائو ہے،قرنطینہ کا عمل شروع ہوگیا ہے،کھلاڑیوں و آفیشلز کو ہوٹل کے الگ الگ کمروں میں بند کردیا گیا ہے،کھانا اور ضرورت کی اشیا بھی ایسے مل رہی ہیں کہ جیسے کسی قیدی کو دی جاتی ہیں،ایئر کنڈیشن رومز میں ٹی وی کے آگے بیٹھ کر پلیئرز و دیگر اسٹاف ممبران کو اگلے کئی دن گزارنے ہیں،پی سی بی کو تاحال اس بات کی اجازت نہیں ملی ہے کہ پلیئرز قرنطینہ کی مدت کم کریں،یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ جمعہ شام 4بجے کے قریب بھی پی ایس ایل 6 کے شیڈول کو جاری نہیں کرسکا ہے.

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی،نیشنل کھلاڑی،سپورٹنگ سٹاف،کمنٹیٹرز و کوچر جن میں ماضہ کے نامور ستارے بھی شامل ہیں ،ان کی حالت قابل رحم ہے،پہلے لاہور میں 2 روزہ کی بجائے انہیں 5روزہ قید کا سامنا کرنا پڑا اور اب ایک لبی قید ان کی منتظر ہے.پاکستان اور ابو ظہبی کی مجوزہ قرنطینہ مدت کو مکمل کیا جائے تو یہ ٹھیک نیوزی لینڈ کی اس قید کے برابر ہے جس کے بارے میں اس میں شریک محمد حفیظ نے کھلم کھلا اظہار کیا تھا کہ وہ لائف جیل کی لائف تھی اور سلوک بھی ایسا تھا کہ جیسے قیدیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے،چنانچہ پاکستانی کیمپ ایک اور قید کاٹ رہا ہے.

جمعہ کی شام 4 بجے تک 3 باتیں اور واضح ہوئی ہیں اور ان میں ہونے والی مزید تاخیر بڑے نقصان کا سبب بنے گی ،جگ ہنسائی تو خیر پہلے سے ہی چل رہی ہے،وہ بھی ہوگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یا تو پی ایس ایل میچز میں میزید تاخیر ہوگی اور یا تاخیر سے جانے والے پلیئرز کچھ میچز سے باہر ہوجائیں گے.

پی ایس ایل 6کی اڑان ،تماشا ختم یا تماشا تو شروع ہی اب ہوا ہے

پہلی بات یہ ہے کہ جمعرات کی شام تک پی سی بی نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی افریقا و بھارت سے پروازوں کی جازت مل گئی ہے،وہ جلد ہی ابو ظہبی لینڈ کریں گی لیکن اب قریب 24 گھنٹے گزر گئے ہیں ،تاحال ان کی لینڈنگ ممکن نہیں ہوسکی،اس میں اہم افراد وہ ہیں کہ جنہوں نے براڈ کاسٹنگ کے معاملات سنبھالنے ہیں اورا نہیں تیاری کے لئے وقت درکار ہے،ان کی تاخیر پی ایس ایل میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہے،پی ایس ایل 6میچز کے شیڈول کا جاری نہ ہونا اس کی علامت بھی ہے،اس بات کو پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے بھی بھانپ لیا ہے.انہوں نے جمعہ کی شام ایک خبریہ،تلقین اور تسلی سے بھر پور ٹویٹ کیا ہے.

راشد لطیف کہتے ہیں کہ شارجہ میں جب پہلا میچ کھیلا گیا تھا تو اس کی پروڈکشن ابو ظہبی ٹی وی نے کی تھی.پروڈکشن کمپنی نے مقامی چینلز،کیمرا مین اور ٹیکنیشن کو لائن اپ کرلیا ہے،اس لئے گھبرانا نہیں ہے،میچز کی پروڈکشن ہوجائے گی،راشد لطیف باخبر کھلاڑی ہیں،تجزیہ بھی کرتے ہیں،ان کے ٹویٹ سے لگتا ہے کہ سٹیک ہولڈرز نے حالات کا بھانپ لیا ہے،تاخیر یا کسی اور رکاوٹ کے ممکنہ خوف کی وجہ سے بیک اپ یا ابتدا کے لئے یہ خدمات حاصل کی گئی ہیں،اب اس میں سمجھنے کی ایک بات ہے کہ پی سی بی کے دعووں کے برعکس بھارتی عملہ کی ابو ظہبی پرواز میں ابھی کچھ رکاوٹ موجود ہے یا بہر حال تاخیر تو ہوگئی ہے اور ان کے لئے قرنطینہ کی مدت تاخیر کا سبب بن سکتی ہے،اس لئے شاید یہ سب کچھ لائن اپ کیا گیا ہے.

دوسری بات کا تعلق پاکستان میں موجود ان 25 افراد سے ہے جو جمعہ شام تک بھی اپنے ویزوں کی راہ تکتے رہے ہیں،بے یقینی،انتظار کی سولی پر لٹکے یہ 25 افراد جن میں کوئٹہ کے کپتان سرفراز احمد بھی شامل ہیں،کیا ایسی لسٹ میں موجود ہیں کہ اس کےسبب انہیں کلیئرنس نہیں مل رہی ہے.ایک دن قبل پھر دعویٰ کیا گیا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے لیکن پھر ان فراد کے ویزے کیوں جاری نہیں ہورہے ہیں.آگے کیا ہوگا؟

خراب سے خراب تر پہلو یہ ہے کہ ان کے ویزوں میں اتنی تاخیر ہوجائے کہ یہ جائیں بھی تو پی ایس ایل 6کی مزید تاخیر کا سبب بن جائیں اور یا پھر پی ایس ایل شروع ہوجائے اور یہ اس کے میچز سے محروم ہوجائیں.یہ دونوں باتیں بھی ہوسکتی ہیں اور ان میں سےا یک بھی . پھر تیسری بات تو اور بھی خوفناک ہوگی کہ یہ 25 افراد کسی بھی وجہ سے ابو ظہبی جا ہی نہ سکیں ،اس کا امکان تو کم ہے لیکن ایک پہلو بہر حال موجود ہے.

تیسرا اہم ترین نکتہ پی ایس ایل 6 کے شیڈول کا ہے.پی سی بی کے دیئے گئے دوسرے وقت کے بھی 24 گھنٹے گزر چکے ہیں اور شیڈول تاحال دکھائی نہیں دے رہا ہے.تازہ ترین صورتحال کو دیکھا جائے تو پی سی بی کو شیڈول سے قبل پلیئرزواسٹاف اور تیکنیکی اسٹاف کی ابو ظہبی پہنچنے کا انتظار ہے،اس کے بعد ان کی قرنطینہ مدت کے مکمل ہونے والی تاریخ کا جاننا ضروری ہے.جب یہ دونوں باتیں کلیئر ہوجائیںگی تو پھر شیڈول سیٹ ہوگا.اب اگر باقی ماندہ سٹاف جلد سے جلد کل ہفتہ تک پہنچ جائے تو انکا قرنطینہ 4جون کو مکمل ہوگا ،ایسے میں 5جون کو آغاز نہیں ہوسکے گا.

پی ایس ایل 6 کے میچز 7 جون تک قریب چلے گئے ہیں ،جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر حال میں روزانہ 2ہی میچز کرنے ہونگے اور یا پھر کم سے کم6 سے 7 دن ڈبل ہیڈرز ہونگے اور شدید گرمی میں یہ اور کڑا امتحان ہوگا.

سوال یہ ہے کہ پی سی بی کو اس سے کیا ملا؟اتنی کڑی سختی اور اتنے سخت پروٹوکولز میں تو یہ میچز کراچی یا لاہور میں بھی ہوسکتے تھے،کم سےکم پی سی بی کے ہاتھ میں تو سب ہوتا،کم سے کم ایسا تو ہوتا کہ پی سی بی جو دعویٰ کرتا،اس میں جھوٹا یا بے اختیار تو ثابت نہ ہوتا.ہر بار وزیر خارجہ کی مدد کام نہیں آئے گی اور وزیر اعظم کا یہ منصب نہیں ہے کہ ایک ڈومیسٹک لیگ کے لئے وہ کسی کو فون کرتے بنیں.آخری بات یہ ہے کہ اب تک یہ بات 100فیصد ثابت ہوگئی ہے کہ عرب امارات حکام نے میٹھے انداز میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس کی کرکٹ کو کڑوا عرق پلایا ہے.ہم دیکھیں گے کہ بھارت جب اپنی آئی پی ایل ستمبر میں وہاں لےکر جائے گا تو اس کے ساتھ کیا ہوگا،ایسا سلوک اس کے ساتھ نہ ہوا تو پھر پی سی بی حکام کو ہمیشہ کے لئے چلو بھر پانی اپنے پاس رکھنا چاہئے.بڑا کام آئے گا.