جوہانسبرگ میں آج پنک کلرز، پاکستان یہاں پروٹیز سے کبھی ٹاس نہیں ہارا،ایک تبدیلی،ایک خوف

خصوصی رپورٹ: عمران عثمانی

کیا کسی کو یاد ہے کہ پاکستان نے 2برس قبل اسی جوہانسبرگ میں ایسے ہی پنک ڈے میچ میں جنوبی افریقا کو کیا جھٹکا دیا تھا.اس کے پنک ڈے میچز میں ناقابل شکست رہنے کے ریکارڈ کو تار تار کردیا تھا.جنوبی افریقا کو ہرا کر اس کی مسلسل 7فتوحات پر فل اسٹاپ لگادیا تھا،یہ اس گرائونڈ میں پاکستان کی میزبا ن ٹیم کے خلاف 5ویں کوشش میں پہلی جیت تھی اور بلاشبہ یاد گار تھی ،اس بار وہی گرائونڈ ہے.وہی پنک ڈے میچ ہے اور پاکستان کو پہلا میچ جیتنے کے بعد نفسیاتی برتری بھی حاصل ہے،تو کیا گرین کیپس پنک کلرز پر حاوی ہوجائیں گے؟

جنوبی افریقا کرکٹ ٹیم کے پاس صرف ایک میچ کی طاقت باقی بچی ہے،اس کے بعد رہی سہی پاور بھی کم ہوجائے گی اس لئے میزبان ٹیم اتوار 4اپریل کے دوسرے ایک روزہ میچ میں وہ طاقت صرف کرے گی کہ جس کا تصور بھی محال ہے لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ جوہانسبرگ میں شیڈول دوسرے ون ڈے میچ کے لئے اس کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی .سنچوین میں فتح کے جھنڈے گاڑھنے والی ٹیم کو جوہانسبرگ میں ایک نئی پچ کا سامنا ہوگا ، یہی نہیں بلکہ یہاں ایک روزہ کرکٹ کے رنگ ہی تبدیل ہونگے.میزبان ٹیم میں تبدیلی نہیں ہوگی لیکن مہمان ٹیم میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ میچ میں بھی بڑی تبدیلی ہوگی.

پاکستان اور جنوبی افریقا کا دوسرا ایک روزہ میچ پنک ڈے میچ ہوگا،یہ جنوبی افریقا کا سالانہ کرکٹ پنک ڈے ہے.گزرے 9برس سے یہ پنک ڈے میچ چھاتی کے کینسر کے مریضوں کے علاج کے لئے فنڈز جمع کرنے کی غرض سے کھیلا جاتا ہے.گرین کیپس اتوار کو پنک رنگ میں نہاجائیں گے.اہم بات یہ ہوگی کہ میچ کون جیتے گا.پاکستان نے جس طرح پہلے ایک روزہ میچ میں آسان فتح کو مشکل جیت میں تبدیل کردیا تھا،اس کے بعد اس سے زیادہ بہتری کی امیدیں تھوڑی قبل از وقت بات ہوگی لیکن اگر تفاق سے پاکستان جیت جائے تو یہ ایک تاریخی و انوکھی جیت ہوگی،اس لئے کہ آج سے قبل کسی سیریز میں پاکستان اس طرح نہیں جیت پایا کہ اسے آغاز کے 2میچزمیں ہی حتمی یا ناقابل شکست برتری مل گئی ہو.

میزبان ٹیم ایک نئے روپ میں ہوگی کیونکہ وہ پنک ڈے میچ کی مناسبت سے نئی کٹ پہنے گی.پاکستانی ٹیم کوگھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ پنک کٹ میں بھی کھلاڑی وہی ہونگے کہ جن کو پہلے میچ میں شکست دی ہے .گرین کیپس ٹیم میں ایک تبدیلی متوقع ہے .پاکستان کو مڈل آرڈر لائن میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور آصف علی کی سلیکشن ٹیم منیجمنٹ کے لئے ایک بڑا سوال بنی ہوئی ہے.ہر جانب سے تنقید ہے.اس لئے خیال ہے کہ انہیں باہر بٹھا کر حیدر علی کو کھلایا جائے گا.باقی وہی کھلاڑی ہونگےجنہوں نے پہلا میچ کھیلا بلکہ جیتا تھا.

جوہانسبرگ کی پچ سنچوین سے مختلف ہوگی،اس میں اٹھان بھی ہوگی اور اچھال بھی.فخرزمان نےا گر 45 ڈگریبیٹ اسٹائل سے کھیلنے کی کوشش کی توبال ہوا میں کھڑی ہوجائے گی،انہیں بال کی پچنگ دیکھ کر شاٹ کھیلنی ہوگی ورنہ ایک اورناکامی ان کا مقدر ہوگی.یہی حال امام الحق کے ساتھ ہوسکتا ہے کیونکہ پروٹیز نے پاکستانی بیٹسمینوں کو شاٹ پچ مگر ایسی اچھال والی بائولنگ سے کھلانے کا منصوبہ بنایا ہے کہ کھلاڑی مجبوری میں بیٹ اٹھائیں اور کیچ پکڑائیں اس لئے قومی کیمپ کو نہایت سنبھل کر جانا ہوگا.یہ پچ ایسی نہیں ہوگی کہ پہلی اننگ کھیلنے والی ٹیم 30اوورز تک مشکلات میں گھری رہے بلکہ ہر نئی پچ کی طرح اس پر بھی شروع کے 10اوورز مشکل ہونگےا ور اس کے بعد اسکور کی برسات ہوگی اس لئے اس بار ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ زیادہ نفع بخش نہیں ہوگا.

سوال یہ ہے کہ بیٹنگ پچ پر اسپنرز کے لئے کتنی مدد ہوگی .کیا پاکستان کو اسپیشلسٹ لیگا سپنر کے ساتھ نہیں جانا چاہئے؟اس کا سادہ ساجواب یہ ہے کہ اسپیشلسٹ اسپنر زیادہ سود مند ہونگے،شاداب خان اسپیشلسٹ نہیں ہیں بلکہ عثمان قادر موجود ہیں،انہیں موقع دینا چاہئے.ٹیم منیجمنٹ کو اگر پچ میں اسپنرز کے لئے تھوڑی سی بھی مدددکھائی دے تو انہیں عثمان قادر کو کھلا دینا چاہئے.

جنوبی افریقا کرکٹ ٹیم اس لئے بھی یہ میچ جیتنےکی کوشش کرے گی کہ اس کے بعد اس کے ٹاپ 5کھلاڑی آئی پی ایل کےلئے بھارت روانہ ہوجائیں گے اور پاکستان کو آخری میچ میں ایک کمزور ٹیم کا سامنا ہوگا.اول تو پاکستان کو جینا چاہئے لیکن اگر ہارے بھی تو ایسا مقابلہ کرے کہ لوگ کہہ اٹھیں کہ مقابلہ تو خوب کیا ہے.

کرک سین کے تجزیہ کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم اس بیٹنگ ٹریک پر فیورٹ نہیں ہوگی کیونکہ میزبان ٹیم نے زبردست پلاننگ کے ساتھ ہوم کنڈیشن سے فائدہ اٹھانے کے لئے پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں کی کمزوریوں کو ذہن میں محفوظ کرلیا ہے.انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ دانش عزیز اور آصف علی کو باہر بٹھا کر عثمان قادر اور حسن علی کو لایا جائے.پاکستان یہاں پر یہ سیریز جیت کر آخری ون ڈے میچ میں یہ تجربات کر لے اس کا ٹیم کو فائدہ ہی ہوگا.جوہانسبرگ میں پاکستانی ٹیم کا ٹریک ریکارڈ بھی اچھا نہیں ہے،موسم بھی کرکٹ کے لئے سازگار رہے گا.

پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف اس میدان میں جو 5ایک روزہ میچز کھیلے ہیں،ان میں سے صرف ایک ہی جیتا ہے اور 4میں اسے ناکامی ہوئی ہے.پاکستان کا پروٹیز کے خلاف ہائی اسکور 309 اور کم اسکور 109ہے.بہترین بات یہ ہے کہ یہاں 2سال قبل 27 جنوری 2019کو پاکستان نے جنوبی افریقا کو ہرادیا تھا،ٹاس بھی پاکستان جیتا تھا،بیٹنگ بھی بعد میں کی تھی اور قسمت بھی خوب چمکی تھی.عثمان شنواری کی تباہ کن بائولنگ کے سبب پاکستان نے پروٹیز کو 41اوورز میں164پر رخصت کردیا تھا.شنواری نے 4اور شاہین وشاداب نے2،2 وکٹیں لی تھیں.ایک اور اہم انکشاف کیا جانا بھی ضروری ہے کہ پاکستان وانڈرس میں 27 سال سے جنوبی افریقا کے خلاف کوئی ٹاس نہیں ہارا.1994کے پہلے میچ سے لے کر 2019 تک تمام 5میچزکے ٹاس پاکستان نے ہی جیتے ہیں.پاکستان نے یہاں مختلف ٹیموں کے خلاف میچز ملا کر 10کھیلے ہیں اور 2جیتے ہیں ،8ہارے ہیں.اسی طرح اتفاق سے 8ٹاس جیتے اور صرف 2ٹاس ہارے ہیں.گویا ٹاس کے نتائج ہوبہو میچ کے نتائج جیسے ہیں لیکن الٹ ہیں.پاکستانی وقت کے مطابق یہ میچ دوپہر ایک بجے شروع ہوگا.

اپنا تبصرہ بھیجیں