پشاور زلمی کے ہیڈ مجرم،پی سی بی نا اہل ،بائیو سیکیور ببل میں حیران کن چونچلے،ہوش ربا انکشافات

عمران عثمانی
Image By Twitter
(کرک سین تحقیق کے مطابق لیگ کے دوران کچھ غیر ضروری و غیر ذمہ دارانہ نقل وحرکت بھی ہوئی جس سے کووڈ19 بائیو سیکیور ببل رولزکی خلاف ورزی ہوئی )
پاکستان سپر لیگ ملتوی ہوئی،برا ہوا لیکن جن اسباب کی بنیادپر یہاں تک نوبت پہنچی ،وہ انتہائی مضحکہ خیز اور تباہ کن ہے۔اب پی ایس ایل 6کی نئی تاریخیں دی جارہی ہیں،مئی،ستمبر یا دسمبر کی باتیں ابھی فضول بحث ہے کیونکہ ابھی ایونٹ کے دوبارہ انعقادکا نہ ماحول ہے اور نہ کوئی وقت۔
اصل بات تو یہ ہے کہ پی ایس ایل کو اس حالت تک پہنچانے والا کون ہے،تباہی آئی ہے تو لایا کون ہے،اس کا ذمہ دار کون ہے۔بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی کہ پی ایس ایل 6پر کورونا کاحملہ ہوگیا اور لیگ ملتوی ہوگئی۔کورونا کو ئی درندہ یا پرندہ تھا جو زبردستی حملہ آور ہوگیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ اورا یونٹ میں شریک فرنچائززنے وہ بربادی اور وہ تذلیل کی ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔
کرک سین تحقیق
پاکستان نے کورونا کے دور میں پہلا دورہ انگلینڈ کا کیا،کرکٹرزکے ساتھ کیا ہوا،بورڈ کو علم ہے۔دوسرا دورہ نیوزی لینڈ کا کیا ،وہاں قومی کھلاڑیوں کو 14روزہ قید ہوئی،پھر ان کے ساتھ جو سلوک ہوا،وہ یہ بتانے کے لئے کافی تھا کہ بائیو سیکیور ببل کیا ہوتا ہے اور احتیاط کیسے کی جاتی ہے،اسٹیڈیم اور ہوٹل میں کووڈ سپرے کیسے کی جاتی ہے لیکن کیا کریں کہ یہ پاکستان ہے،یہاں ہر کوئی قانون سے آزاد ہے۔
پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی سے زیادہ غیر ذمہ دارانہ کردار اس سارے کھیل میں کسی کا نہیں رہا جو ایونٹ شروع ہونے سےقبل خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے،کپتان وہاب ریاض،ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی کو 3روزہ قرنطینہ کی سزا ملی۔اب یہاں سے بدترین کھیل شروع ہوا۔مبینہ طور پرپشاور زلمی نے لیگ کے دوسرے روز میدان میں جاکر میچ کھیلنے سے انکار کردیا اور ہوٹل کے کمرے میں بند ہوگئی ،ان کا مطالبہ یہ تھا کہ کپتان اور کوچ کا قرنطینہ ختم کیا جائے،پھر اگلی نااہلی پی سی بی کی آئی کہ اس نے سرنڈر کردیا۔
آج جاوید آفریدی نے کہا ہے کہ میں نے پی سی بی سے معافی مانگی تھی۔
کرک سین سوال اٹھا رہا ہے کہ یہ کیسی معافی تھی کہ لیگ کا میچ کھیلنے سے بائیکاٹ کی دھمکی لگائی،یہ بلیک میلنگ،سینہ زوری تھی یا معافی تھی۔اس کے بعد بائیو سیکیور ببل کی دھجیاں اڑنے لگیں،رنگ برنگے چہرے برینڈ ایمبسڈر کے نام پر لائے گئے۔کوئی اداکارہ تھی اور کوئی ماڈل۔ان چہروں کی آمدسے رونق تو خوب بڑھی لیکن ساتھ ہی پی ایس ایل قوانین کی دھجیاں اڑ گئیں،ماسک کیسے چہرے پر رہ سکتے تھے کیونکہ چہروں کی رونمائی سے ہی لیگ کا رنگ چڑھانا تھا ۔یہ کیسا منظر نامہ تھا کہ کووڈ کے ایام میں اس کی ضرورت محسوس کی گئی،اس کے بعد پھر نہ فاصلوں کا خیال رکھا گیا ور نہ ہی پروٹوکولز کا۔بائیو سیکور ببل کی دھجیاں اڑادی گئیں،اس میں تمام وہ فرنچائزز ذمہ دار ہیں جو ان چونچلوں میں لگی تھیں اور پی سی بی ذمہ دار ہے جس نے یہ سب ہونے دیا۔
ایک طرف سکیورٹی کے نام پر میلوں کرفیو لگایا گیا،خالی ہوٹل بک کروائے گئے،عوام کے راستے بند کئے گئے اور دوسری جانب یہ چونچلے چلتے رہے اور پھر فخریہ انداز میں اس کی تصاویر چلائی گئیں،حد تو یہ ہے کہ پی سی بی اور ایک نشریاتی ادارے کی جانب سے ٹی وی میزبان اپنے غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ اس طرح تصاویر بنواتی تھی کہ ضروری فاصلہ ہی ختم ہوجاتا تھا۔
پی سی بی چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا ہے کہ یہ وقت بلیم گیم کا نہیں ہے،احمقانہ بات کی ہے،یہی وقت ہے مجرمانہ غفلت کامظاہرہ کرنےوالوں کی گرفت کا اور انہیں شکنجے میں لانے کا مگر اگر خود ہی مجرم ہو تو پھر مٹی پائو والا کام کر رہے ہیں۔
پاکستان سپر لیگ ایک برینڈ کا نام ہے،غیر ملکی پلیئرز شریک ہیں،پوری دنیا میں ہم یہ بتاتے پھرتے ہیں کہ ہمارے ہاں حالات اچھے ہیں اور کووڈ کنٹرول میں ہے لیکن جب دنیا سے سند لینے کا وقت آیا تو ہم پر مہر لگ گئی کہ پاکستان سے بڑا خطرناک ملک کوئی نہیں ہے۔یہ حملہ کسی دشمن نے نہیں بلکہ خود ہم نے کیا ہے ۔مسلسل دوسرے سال ہماری لیگ ملتوی ہوئی ہے اور ہم اسے 2حصوں میں کرواتے پھرتے ہیں۔اخراجات کے علاوہ جگ ہنسائی ہوئی ہے جو بہت ہی خوفناک ہے۔
چند دن قبل ہمسایہ ملک بھارت سمیت پوری دنیا میں پی ایس ایل کے چرچے تھے لیکن جمعرات کو اس کےالتوا کی خبریں کچھ اس انداز میں چلیں کہ سر شرم سے جھک گئے کیونکہ ہمارے ملک پاکستان کے وقار،محفوظ ہونے اور اچھا نظم رکھنے والوں کی قابلیت پر کڑے سوالات کھڑے ہوگئے.پاکستان کرکٹ بورڈ اس کا کیسے ازالہ کرے گا.نااہلی کی حد تو یہ بھی ہے کہ جب یکم مارچ کا پہلے کورونا ٹیسٹ کا رزلٹ آیا تو اسی وقت جنگی بنیادوں پر 3دن کے لئے کرفیو لگاکر اپنے حالات درست کرلیتے اور ایسا حصار بناتے کہ بائیو سیکیور ببل رولز کی روح بھی کانپ اٹھتی لیکن یہ پاکستان ہے یہاں ایک سے بڑھ کر ایک کردار ہےاور اسے ملکی عزت اور وقار کی کوئی پرواہ نہیں ہے.پی ایس ایل 6کا ایسے حالات میں التوا بد انتظامی کی وہ مثال ہے کہ مستقبل میں غیر ملکی ٹیموں کولانے کے لئے وہ جتن کرنے پڑیں گے کہ لگ پتا جائے گا.