پڑھتا جا،شرماتا جا،پاکستان کا سب سے خراب ترین ٹیسٹ ریکارڈ جنوبی افریقا کے خلاف،سابق کرکٹرز کے لئےخاص

عمران عثمانی
Image By geo

پاکستان کرکٹ ٹیم کا دنیائے کرکٹ میں اگر کسی بھی ٹیم کے خلاف خراب ترین ٹیسٹ ریکارڈ ہے تو وہ جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم ہے۔26 سالہ کرکٹ تاریخ ہے اور26 ہی ٹیسٹ میچز ہوئے ہیں۔گرین کیپس کے حصے میں صرف 4فتوحات،گنتی کی صرف 4فتوحات آئی ہیں۔
وسیم اکرم کا زمانہ ہو یا وقار یونس کا،رمیز راجہ کا دور ہو اور یا پھر انضمام الحق کا،اور تو اور شعیب اختر کا وقت ہو یا یونس ومصباح کا۔ناکامیاں ہی ناکامیاں ہیں،اندھیرے ہی اندھیرے ہیں،اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پاکستان کی سرمین ہو یا جنوبی افریقا کے اپنے گرائونڈز ہوں،قومی ٹیم ہمیشہ ہی دبی بی اور ناکام دکھائی دی ہے،بائولرز نے مارکھانی ہو تو ہائی اسکور620 تک بنواگئے ہیں اور بائولرز نے کمال دکھانی ہو تو پروٹیز کو 124پر بھی شکار کرچکے ہیں۔پاکستانی بیٹسمینوں کا ذکر کریں تو 456 سے زائد اسکور نہیں کرسکے اور رسوائی لکھوانی ہو تو پیش پیش رہے اور 49پر بھی ہتھیار پھینک آئے ہیں،اندازا کریں کہ 26میں سے صرف 4فتوحات ہیں۔15شرمناک رسوائیاں ہیں اورصرف 7میچز ڈرا کھیل سکے ہیں۔
جنوبی افریقا کی پاکستان آمد کا پلان آخری لمحات میں تبدیل
تھوڑا آگے بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ 11 سیریز میں سے پاکستان کے نام کتنی سیریز ہیں تو آ پکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پاکستان صرف ایک سیریز جیت سکا ہے اور وہ اکلوتی سیریز 2003میں پاکستان میں ہوئی تھی۔2میچز کی یہ سیریز پاکستان 0-1 سے جیت گیا تھا ،خوش قسمت کپتان محمد یوسف تھے۔اس کے مقابلہ میں جنوبی افریقا نے 7بار سیریز اپنے نام کی ہے۔3سیریز ڈرا رہی ہیں۔جنوبی افریقا نے جب 2007میں پاکستان کا آخری دورہ کیا تھا تب بھی2میچز کی سیریز 0-1 سے اس کے نام رہی تھی۔پاکستانی ٹیم جنوبی افریقا میں کبھی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکی،2سیریز عرب امارات میں ڈرا کھیلی ہیں اور ایک سیریز 1998میں جنوبی افریقا میں برابر کی تھی۔
جنوبی افریقا کا پاکستان کے خلاف ٹی 20 سیریز میں بی ٹیم بھیجنے کا فیصلہ،وجہ آشکار،بریکنگ نیوز
پاکستان کی پروٹیز ٹیم کے خلاف گنتی کی 4فتوحات پاکستانی بیٹسمینوں کی طرح ہی رہی ہیں کہ ایک سنچری کے بعد 12 اننگز میں فلاپ ۔ایسے ہی پاکستان ایک فتح کے بعد کئی ٹیسٹ ہارتا رہا ہے،آخری جیت حاصل کئے 8سال ہونے کو ہیں۔اکتوبر 2013میں ابوظہبی ٹیسٹ میں پاکستان7وکٹ سے جیتا تھا،اس کے بعد سے اب تک 4میچز ہار چکا ہے۔اس سے قبل کی کامیابی جنوری 2007میں پورٹ الزبتھ میں تھی جب ٹیم 5وکٹ سے جیتی لیکن اس کامیابی اور2013کی کامیابی میں 6سال گزرے اور 8 ٹیسٹ گزر گئے،ناکامی ہی مقدر بنی رہی۔اکتوبر 2003میں لاہور میں پاکستان جیت سکا،2007تک3ہار گلے کا طوق بنیں۔پہلی کامیابی فروری 1998میں ڈربن میں 29رنزکی فتح سے ملی،اس سے پہلے5ٹیسٹ میں ٹیم نہیں جیت سکی اور اس کے بعد بھی 2003ٹیسٹ کی کامیابی کے لئے3میچز ہارے تو قومی ٹیم کی 4 فتوحات 1998 سے 2003 پھر 2007 اور پھر 2013میں ہیں۔
جنوبی افریقی ٹیم پاکستان کے خلاف 12 ویں ٹیسٹ سیریز 26 جنوری سے کراچی میں کھیل رہی ہے۔یہ اس کی پاکستان میں چوتھی سیریز ہوگی،3میں سے 2 اس کے نام رہی ہیں۔
آنے والے دنوں میں کرک سین ہر روز ایک سیریز کا اجمالی جائزہ پیش کرے گا،آج یہاں مجموعی احوال پیش کیا ہے۔
اس سلسلہ کا دوسرا اہم ترین مضمون کل پیش کیا جائے گا،ہم یہ بھی جائزہ لیں گے کہ کون ہیرو رہا اور کون زیرو،کس میں تھا کتنا دم اور کون رہا ناکام.تمام تر ریکارڈز کے ساتھ ہم سامنے آئیں گے.