پاکستان کا آج ٹی 20میچ،ٹرینٹ برج سے ایک خاص مدد حاصل،فتح ممکن ؟

0 15

تجزیہ : عمران عثمانی
ٹرینٹ برج ناٹنگھم،نام پرانا،مقام بھی تاریخی لیکن میزبان انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کوئی ٹی 20 میچ یہاں نہیں کھیلا گیا کیونکہ عجب اتفاق یہ ہے کہ خود انگلینڈ کو بھی اس فارمیٹ کے لئے شاید یہ مقام پسند نہیں آیا ،اسی لئے تو وہ بھی 9 سال بعد اس مقام پر کسی بھی ٹیم کے خلاف پہلا ٹی 20میچ کھیل رہا ہے،آخری بار انگلینڈ نے یہاں 2012 میں کوئی ٹی 20 انٹر نیشنل میچ کھیلا تھا ،اس کے مقابل پاکستان نے یہاں انگلینڈ کے خلاف کوئی ٹی 20میچ نہ کھیل کر بھی فتح کا کھاتہ کھول رکھا ہے.ورلڈ ٹی 20 کے 2009 ایڈیشن میں گرین کیپس نے پروٹیز کو سنسنی خیز مقابلہ کے بعد صرف 7رنز سے شکست دی تھی،اتفاق سے اس میچ کا ٹاس بھی پاکستان ہی جیتا تھا.
پاکستان اور انگلینڈ کے مابین 3 ٹی 20 میچزکی سیریز کا پہلا میچ آج 16 جولائی بروز جمعہ کو ٹرینٹ برج ناٹنگھم میں کھیلا جارہا ہے،نائٹ میچ کی وجہ سے پاکستانی شائقین کو بھی قریب پوری رات جاگنا ہوگا کیونکہ پاکستانی وقت کے مطابق مقابلہ رات ساڑھے 10 بجے شروع ہوگا،فارمیٹ تبدیل ہوجانے کے بعد کیا پاکستان نتائج بھی تبدیل کرسکے گا،یہ ہے وہ سوال جو کرکٹ فینز کے دلوں میں گردش کررہا ہے کیونکہ قومی کرکٹ ٹیم کو ایک روزہ سیریز میں عبرتناک شکست ہوگئی ہے ،خاص کر تیسرے ایک روزہ میچ میں 331 رنزبنانے کے باوجود جس انداز کی مار پڑی ،اسے بھلانا ہی ممکن نہیں ہے .

ایک اور اہم بات یہ بھی

ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ ایک روزہ سیریز ختم ہوئی،قصہ تمام ہوا،اس کے ورلڈ کپ سپر لیگ پوائنٹس ٹیبل پر کیا اثرات پڑیں گے،یہ بھی لمبے وقت کی بات ہے،اصل بات یہ ہے کہ آنے والی ٹی 20 سیریز کے اثرات نتائج کے ساتھ ہی پڑنا شروع ہونگے،ورلڈ ٹی 20 کا سال ہونے کی وجہ سے اسےخاص اہمیت ملے گی،پاکستان ہارا تو اچھوں اچھوں کی لسٹ سے باہر نکل جائے گا،پاکستان نے اگر یہ سیریز جیت لی تو بے وقوف سے بے وقوف فرد بھی ورلڈ ٹی 20 کے حوالہ سے پاکستان کو فیورٹ کے درجہ میں رکھنے پر مجبور ہوجائے گا.

اوپر کالم کے آغاز میں ٹرینٹ برج ناٹنگھم میں پاکستان کے اکلوتے میچ کے ریکارڈ کا ذکر ہوچکا جب کہ یہ بھی انگلینڈ کے لئے یہ مقام ایک قسم کا نیا ہی ہوگا کہ اس نے اپنے ملک کے اس سنٹر میں 2012 کے بعد کوئی ٹی 20 انٹر نیشنل میچ نہیں کھیلا ہے.انگلینڈ کے اگر تمام ٹی 20 معرکوں کو دیکھاجائے تو یہاں اس نے2009 سے 2012 کے دوران 2 ٹی 20 انٹر نیشنل میچز کھیلے ہیں،ایک میں ناکامی ہوئی ہے تو دوسرے میں فتح ملی ہے.11جون 2009 کو یہاں وہ جنوبی افریقا سے 7 وکٹ سے ہارا تھا ،کمال اتفاق یہ ہے کہ24 جون 2012 کو اتنے ہی مارجن سے اس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابی اپنے نام کی تھی.ااس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ٹرینٹ برج ناٹنگھم انگلینڈ کے لئے ٹی 20 انٹر نیشنل میچز کے حوالہ سے کوئی خاص مقام نہیں ہے کہ یہاں اس کا ریکارڈ ففٹی ففٹی ہے اور پاکستان یہ قلعہ فتح کرسکتا ہے کہ تاریخی اعتبار سے اسے اس میدان میں اہم کامیابی ملی تھی.

ریکارڈ اپنی جگہ لیکن 2021 میں ٹیموں کی اصل حقیقت

پاکستان کی ٹرینٹ برج میں یہ کامیابی پرانی ہوئی ،پھر دوسری بات یہ ہے کہ یہ 2021 کا سال ہے،بہت کچھ بدل چکا ہے،پاکستانی ٹیم بھی وہ نہیں رہی ہے جب کہ انگلش ٹیم اگر پہلے اس فارمیٹ میں تھوڑی کمزور تھی تو وہ اب جڑ پکڑچکی ہے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ انگلش کپتان اوئن مورگن جنہوں نے 2 سال قبل ورلڈ کپ جیتا تھا،وہ آئی سی سی کے اس گلوبل ایونٹ میں بھی کامیاب ہونا چاہتے ہیں اور یہ ٹائٹل لے کر انگلش کرکٹ ہسٹری میں ایک نمایاں اور منفرد مقام پانا چاہتے ہیں،اس لئے اس کے حوالہ سے ان کی بھر پور تیاری ہے اور وہ اپنے ملک میں پاکستان کو جیتنے نہیں دیں گے.
ٹرینٹ برج میں موسم،وکٹ اور ٹاس کی اہمیت
محکمہ موسمیات کے مطابق ٹرینٹ برج میں جمعہ کی شام موسم بہتر ہی گا،بارش کا کوئی امکان نہیں ہے،چھوٹی بائونڈریز کی وجہ سے بڑا اسکور بن سکتا ہے لیکن سیمرز کے لئے مدد موجود ہوگی،اس لئے رنز چرانا آسان نہیں ہوگا.وکٹ بیٹنگ کے لئے قدرے ساز گار ہوگی اور اگر بیٹسمین سنبھل کر کھیلیں تو وہ اپنے اور ٹیم کے لئے اچھا اسکور بناسکتے ہیں.ٹاس جیتنے والی ٹیم پہلے فیلڈنگ کو ہی ترجیح دے گی،دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان کی بیٹنگ اس فیصلہ کا بوجھ اٹھاسکے گی.امکان ہے کہ ٹاس کا سکہ بابر اعظم کے حق میں گرے گا.
پاکستان کی ٹیم وہی مگر انگلینڈ کی ٹیم میں کچھ نیا یا اصل
ایک روزہ سیریز کھیلنے والی ٹیم کے کپتان بابر اعظم بھی اب موجود ہونگے،محمد رضوان اور شرجیل خان بھی دکھائی دیں گے،ایک روزہ سیریز میں ناکامی کے بعد فخرزمان کے چانسز کم ہوگئے ہیں.اہم اضافہ صہیب مقصود کا ہوگا،پی ایس ایل 6میں شاندار کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں سلیکٹ ہونے والے صہیب مقصود کو ٹی 20سیریز کے لئے ہی لے جایا گیا تھا لیکن عین موقع پر حارث سہیل کے ان فٹ ہونے کی وجہ سے انہیں ایک روزہ سیریز بھی کھلائی گئی لیکن وہ اس میں ناکام گئے ،بہر حال صہیب کا اصل فارمیٹ یہی ہے ،اگر اب بھی وہ ناکام ہوگئے تو پھر ان کی ٹیم میں واپسی ناممکن ہوجائے گی،اگلا اہم ستون محمد حفیظ کا ہے جنہوں نے گزشتہ سال انگلینڈ ہی میں اپنی جاندار بلے بازی کی وجہ سے شہرت پکڑی تھی،پاکستانی ٹیم کا ان پر انحصار زیادہ ہوگا،ویسے بھی قومی ٹیم ایک عرصہ سے مڈل آرڈر بیٹنگ کے مسائل کا شکار ہے،ایسے میں صہیب اور حفیظکا چلنا بہت ضروری ہوگا.پاکستانی کیمپ نے اگر اب بھی فہیم اشرف کو کھلایا تو حیرانگی ہوگی.شاداب خان،حسن علی،حارث رئوف اور شاہین آفریدی تو کھیلیں گے ہی لیکن سوال یہ ہے کہ اسپنر عثمان قادر کو کھلایا جائے گا یا نہیں،اگر ٹیم منیجمنٹ نے اب بھی نہیں کھلایا تو اس سے بڑی حماقت کوئی اور نہیں ہوگی.محمد حسنین کو فہیم اشرف کی جگہ کھلادیں تو اچھا ہوگا لیکن اگر فہیم کھیلے اور عثمان قادر نہ ہوئے تو سمجھ لینا کہ ایوریج لوگ ہر مقام پر موجود ہیں.
پاکستان کو اس کے مقابلہ میں اوئن مورگن،جیسن رائے،ڈیوڈ میلان،جوس بٹلر،جونی بیئرسٹو،لونگسٹن اور گریگوری جیسے ہٹرز کا سامنا ہوگا،معین علی بھی آپشن ہونگے،پاکستانیوں کے لئےدہشت بنے ثاقب محمود دیگر پیسرز کے ساتھ اٹیک کے لئے سامنے آئیں گے،پاکستان کی فتح کے امکانات بہت کم ہیں.
پاکستان اور انگلینڈ کے باہمی ٹی 20 میچز،سیریز اور تاریخ کے احوال کے لئے یہ بھی پڑھیں
اور اب ٹی20سیریز،3 تشویشناک پہلو،ایک اور شکست پکی؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.