پاکستان کی 3دن میں اصل ٹیسٹ فتح کوئی اور،ٹرپل سنچری کا تڑکا،کئی اہم ریکارڈز

عمران عثمانی

پاکستان نے حال ہی میں زمبابوے کے خلاف 3دن میں ٹیسٹ میچ جیتا ہے.زمبابوے جیسی کمزور ٹیم کے خلاف پاکستان جیسے بلند قد رکھنے والے کرکٹ ملک کی یہ کوئی بڑی پرفارمنس نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ اب یہ مذاق اڑ رہا ہے کہ پاکستان اتنے برس بعد 3دن میں کوئی ٹیسٹ جیت سکا یا اتنے سال بعد بیرون ملک کوئی ٹیسٹ فتح رقم کی.اسی مناسبت کو دیکھتے اور آج 3مئی کے دن کی یاد تازہ کرتے ہوئے ہم ایک ایسی فتح کا ذکر کرتے ہیں جو بہت بڑی بھی تھی،تاریخی بھی اور ریکارڈ ساز بھی اور پھر اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ فتح 3 دن ہی میں ہوئی تھی.بات اتنی سادہ یا اتنی ہی نہیں ہے بلکہ اس میں پاکستان کے ایک لیجنڈری کرکٹر نے بہت بڑی،تاریخی اننگ کھیلی تھی.

ذکر ہے مئی 2002 کا.مقام تھا قذافی اسٹیڈیم لاہور اور میچ تھا پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ.یہ میچ یکم مئی کو شروع ہوا اور آج کے دن یعنی 3مئی کو اپنے اختتام کو پہنچا،عجب بات تھی کہ ان 3دن میں پاکستان کے لیجنڈری بیٹسمین انضمام الحق نے ٹرپل سنچری بناڈالی،حنیف محمد مرحوم کے بعد وہ ٹرپل سنچری اسکور کرنے والے دوسرے پاکستانی بیٹسمین تھے.پاکستان نے پہلے بیٹنگ کی اور پہلے روز 355 اسکور بناڈالے،انضمام 159پر ناقابل شسکت گئے،اگلے روز پاکستانی ٹیم 158ویں اوور میں 643 اسکور کرکے آئوٹ ہوئی،انضمام نے 329 اسکور کئے،وہ حنیف محمد کا 337 کا ریکارڈ نہ توڑ سکے اور آئوٹ ہوگئے.ان کے علاوہعمران نذیر نے 127کی اننگ کھیلی.

کیویز کی بیٹنگ لائن اس پچ پر جہاں پاکستانی بیٹسمینوں نے رنزکی برسات کر رکھی تھی،ریت کی دیوار ثابت ہوئی کیونکہ ان پر راولپنڈی ایکسپریس نے چڑھائی کردی.شعیب اختر کے طوفانی اسپیل نے کیویز کے پر کتر دیئے،ٹیم 73 کے قلیل اسکور پر آئوٹ ہوئی اور فالو آن کا شکار ہوگئی،شعیب نے8 اوورز اور 2 بالز پر 11رنزکے عوض 6کھلاڑی آئوٹ کئے،کیریئر بیسٹ بائولنگ بھی رہی.

میچ کے تیسرے ہی دن کیوی ٹیم کی دوسری اننگ 246پر تمام ہوئی اوریہ بھی اس لئے تھوڑی طویل ہوگئی کہ شعیب زخمی ہونے کی وجہ سے بائولنگ نہیں کرسکے تھے.اسپنر دنیش کنیریا نے 110رنزکے عوض 5وکٹیں لیں.

اہم بات نہیں بلکہ اہم ترین باتیں کیا تھیں.پہلی یہ کہ پاکستان نے 3دن میں ایک اننگ اور 324 رنزسے جیت اپنے نام کی.یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی 5ویں بڑی فتح تھی.لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ 73کے قلیل اسکور پر آئوٹ ہوگیاجوکہ گرائونڈ کا کم ترین اسکور بنا.انضمام نے تاریخی اننگ کھیلی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے.شعیب اختر نے طوفانی گیندبازی کی اور کیریئر بیسٹ بائولنگ کا اعزاز حاصل کیا.اتفاق سے یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا 1600واں میچ بھی تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں